Wednesday , September 19 2018
Home / دنیا / امریکی ایشیائی بحرالکاہل تعلقات کی حکمت عملی میں ہندوستان کو کلیدی اہمیت

امریکی ایشیائی بحرالکاہل تعلقات کی حکمت عملی میں ہندوستان کو کلیدی اہمیت

واشنگٹن۔7فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدر بارک اوباما نے اپنے دوسرے تاریخی دورہ ہند سے واپسی کے چند دن بعد جاری کردہ نئی قومی سلامتی پالیسی میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایشیائی بحرالکاہل علاقہ میں تعلقات کو دوبارہ متوازن بنانے کی حکمت عملی کے تحت ہندوستان کے ستاھ امکانی وسیع تعلقات کو اولیت دی ہے ۔ صدر اوباما نے کانگریس میں پیش کرد

واشنگٹن۔7فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدر بارک اوباما نے اپنے دوسرے تاریخی دورہ ہند سے واپسی کے چند دن بعد جاری کردہ نئی قومی سلامتی پالیسی میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایشیائی بحرالکاہل علاقہ میں تعلقات کو دوبارہ متوازن بنانے کی حکمت عملی کے تحت ہندوستان کے ستاھ امکانی وسیع تعلقات کو اولیت دی ہے ۔ صدر اوباما نے کانگریس میں پیش کردہ اپنی دوسری قومی سلامتی حکمت عملی میں کہا کہ ’’سب سے پہلے ہم نے ہندوستان کے ساتھ امریکہ کے امکانی تعلقات کو دوبارہ فعال و متحرک بنایا ہے‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ایشیاء و بحرالکاہل میں اقتصادی‘ سلامتی و سفارتی تعلقات کو دوبارہ متوازن بنانے ہم نے مزید اپنے مستحق حلیفوں اور ساجھیداروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کی ‘‘ ۔

زائد از 30صفحات پر مشتمل خصوصی سلامتی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امریکہ بدستور ہندوستان کے ساتھ حکمت عملی اور اقتصادی ساجھیداری کو مستحکم بناتا رہے گا ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’ دنیا کی بڑی جمہوریتوں کی حیثیت سے ہمارے موروثی اقدار اور باہمی مفادات باہمی تعاون میں سنگ میل کی اہمیت رکھتے ہیں‘ بالخصوص سیکیورٹی ‘ توانائی اور ماحولیات کے شعبوں میں تعلقات اور ساجھیداری کو مزید مستحکم بنایا جائے گا ‘‘ ۔ حکمت عملی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’ اس علاقہ میں سیکیورٹی فراہم کنندہ ملک کی حیثیت سے ہم ہندوستان کے رول اور حساس و نازک علاقائی ادارہ جات میں اس کے توسیعی عمل دخل کی تائید کرتے ہیں ۔

حکتم عملی کے اس سنگم کو ہم ہندوستان کی ’’ مشرق کی طرف دیکھو‘‘ پالیسی اور ایشیائی بحرالکاہل علاقہ میں تعلقات کو دوبارہ متوازن بنانے کی پالیسی پر عمل آوری سے ہم آہنگ متصور کرتے ہیں ‘‘ ۔ امریکی قومی سلامتی حکمت عملی میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ اس کے ساتھ جنوبی اور وسطی ایشیاء میں علاقائی یکجہتی کے فروغ ‘ انسداد دہشت گردی اور حکمت عملی کے استحکام کو فروغ کیلئے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ہم بدستور کام کرتے رہیں گے ‘‘ ۔ اوباما انتظامیہ کی طرف سے یہ دوسری قومی سلامتی حکمت عملی جاری کی گئی ہے ۔ مئی 2010ء میں پہلی حکمت عملی جاری کی گئی تھی جس میں بھی دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا تھا اوریہ کہا گیا تھا کہ ہندوستان کی ذمہ دارانہ انداز میں پیشرفت و ترقی دنیا کے تمام ترقی پذیر ملکوں کیلئے ایک مثال ہے اور اس سے سائنسی اقتصادی ماحولیاتی و سلامتی میں اضافہ کا ایک موقع فراہم ہواہے ۔

TOPPOPULARRECENT