Monday , November 19 2018
Home / Top Stories / امریکی ایوان نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا قبضہ

امریکی ایوان نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا قبضہ

٭ سینیٹ میں ری پبلیکن کی اکثریت برقرار
٭ ٹرمپ کو امیگریشن اور ہیلتھ کیئر کیلئے مشکلات کا امکان
٭ 2020ء کے صدارتی انتخابات کی تلخ جنگ کا نقطہ آغاز
٭ متعدد پولنگ اسٹیشنوں سے ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی شکایت

واشنگٹن؍ اٹلانٹا۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وسط مدتی انتخابات میں وہی ہوا جس کی توقع کی جارہی تھی کیونکہ ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں بھی انتخابات کا موسم ہے اور جو نتائج ہندوستان میں سامنے آئے ہیں، وہی حال امریکہ میں ہے یعنی ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان پر قبضہ کرلیا ہے، البتہ صدر ٹرمپ کی ری پبلیکن پارٹی نے سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھی جو ایک ایسا نتیجہ ہے جسے 2020ء میں منعقد شدنی صدارتی انتخابات کے دوران امریکہ کی دو اہم پارٹیوں کے درمیان تلخ جنگ کا نقطہ آغاز کہاجاسکتا ہے۔ ڈیموکریٹس نے ری پبلیکن کے اختیارات اور اجارہ داری پر روک لگا دی ہے کیونکہ انہیں دو درجن سے زائد نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ ایوان کے مکمل کنٹرول کیلئے صرف 23 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ صورتحال گزشتہ آٹھ سال میں پہلی بار سامنے آئی ہے ، اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس قائدین کی جانب سے جو بیانات جاری کئے گئے ہیں، ان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کا عرصہ حیات تنگ کرنے والے ہیں اور صدر موصوف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ وہ اس وقت امیگریشن، ٹیکس اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں اہم ترمیمات کیلئے قانون سازی کرنا چاہتے ہیں لیکن اب ان کے لئے یہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب ڈیموکریٹس کی ان پر کڑی نظر ہوگی اور وہ ایوان میں ری پبلیکنس کی اجارہ داری کو ختم کرسکتے ہیں۔ بہرحال گزشتہ چند روز سے انتہائی تھکا دینے والی انتخابی مہمات میں ٹرمپ نے ایک بار پھر جارحانہ رویہ اپنایا تھا تاہم نتائج سامنے آنے کے بعد انہوں نے کم سے کم سینیٹ میں ری پبلیکنس کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رائے دہندوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایوان نمائندگان میں پہلی بار دو مسلم خواتین اور مساچیوسیٹس سے تعلق رکھنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ایوان کیلئے منتخب ہوئی ہیں جبکہ اریزونا اور ٹینیسی سے پہلی بار دو خاتون سینیٹرس کا انتخاب عمل میں ایا ہے۔ کانگریس میں یوں تو رنگارنگ قانون سازوں کی کمی نہیں ہے لیکن منگل کے انتخابات کے بعد اس ’’رنگارنگ‘‘ یا ’’ہمہ رنگی‘‘ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ منی سوٹا کی الہان عمر اور مشی گن کی رشیدہ طلیب کے پہلے ہی کافی چرچے تھے اور میڈیا میں ان کی تصاویر تقریباً روزانہ ہی شائع ہورہی تھیں۔ سینیٹ میں بھی سیاہ فام خاتون مارشا بلیک برن ٹینیسی سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون سینیر بن گئیں۔ اٹلانٹا سے ملنے والی خبروں کے مطابق ملک کے بعض حصوں میں رائے دہندوں کو ووٹنگ مشین میں خرابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گیونیٹ کاؤنٹی، اونٹار یا ووڈس کی ایک خاتون ووٹر نے بتایا کہ وہ تین گھنٹوں تک قطار میں کھڑی رہی لیکن مشین میں خرابی کی وجہ سے اس کے علاوہ دیگر ایک درجن رائے دہندے بھی واپس چلے گئے کیونکہ ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے جن کا بھوک سے برا حال تھا اور ہم بھی قطار میں ٹھہرے ٹھہرے تھک گئے تھے۔ علاوہ ازیں اس کاؤنٹی میں ہمیشہ رائے دہی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے اور جب متعلقہ حکام کو یہ بات معلوم تھی تو زائد ووٹنگ مشینوں کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔ دوپہر تک الیکشن پروٹیکشن کے نام سے شروع کی گئی ہاٹ لائن ٹیلی فون کو مختلف پولنگ بوتھس سے رائے دہندوں کی 17500 کالس موصول ہوئیں جن میں انہوں نے پولنگ بوتھ میں درپیش مسائل اور مشکلات کی شکایت کی۔

سفید فام الیکشن سپروائزر نے سیاہ فام خاتون ووٹر کو کہا ’’دفع ہوجاؤ‘‘
وسط مدتی الیکشن کے دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں سیاہ فام خاتون ووٹر کو سفید فام خاتون سپروائزر نے ‘دفع ہوجاؤ’ کہہ دیا ۔سیاہ فام خاتون ووٹنگ کے حوالہ سے سوال پوچھ رہی تھی ، جواب دینے کے بجائے سفید فام سپروائزر نے دھمکیاں دیں ۔ پولیس کو بلوالیا ۔ پولیس نہ پہنچی تو استعفیٰ دے دیا۔جارجیا میں ووٹنگ مشین میں تکنیکی خرابی پر پولنگ کا وقت 25 منٹ بڑھانا پڑ گیا جبکہ جنوبی کیرولینا کی کاؤنٹیز میں بیلٹ استعمال کرنا پڑگئے ۔ایریزونا میں پولنگ اسٹیشن کی رہن عمارت ضبط ہونے پر خالی کرانا پڑ ی ۔ ٹینیسی میں طوفان کے باعث بجلی غائب ہونے کے باعث لوگوں کو اندھیرے میں ووٹ ڈالنے پڑے ۔

TOPPOPULARRECENT