Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / امریکی برہمی پر حلیف ممالک کی تائید حاصل کرنے کی مساعی

امریکی برہمی پر حلیف ممالک کی تائید حاصل کرنے کی مساعی

وزیر خارجہ پاکستان خواجہ آصف کی صدر ایران حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات

اسلام آباد 11 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ پاکستان خواجہ آصف نے آج ایران کی اعلی قیادت سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات اپنے ملک کیلئے تائید حاصل کرنا ہے کیونکہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے ۔ خواجہ آصف نے ایرانی صدر حسن روحانی سے تہران میں ملاقات کی اور تازہ ترین علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے سلسلہ میں بھی بات چیت کی ۔ ریڈیو پاکستان نے یہ اطلاع دی ۔ وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصف جواد ظریف سے بھی ملاقات کی ۔ خواجہ آصف کے اولین دورہ امریکہ سے قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ چین ‘ روس ‘ ترکی اور ایران کا بھی دورہ کرینگے تاکہ پاکستان کیلئے تائید حاصل کی جاسکے ۔ واضح رہے کہ افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان اگر دہشت گرد گروپس کی تائید و حمایت جاری رکھتا ہے تو اسے اس کے عواقب کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا اور افغانستان کیلئے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے ۔ یہ دہشت گرد امریکیوں کو افغانستان میں ہلاک کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایسا کرنے سے باز آجائے ۔ امریکہ کے ان الزامات سے پاکستان مایوس ہے ۔ خواجہ آصف کے ہمراہ قومی سلامتی کے مشیر نصیر خان جنجوعہ اور معتمد خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی ہیں۔ وزیر خارجہ پاکستان نے قبل ازیں چین کا دورہ بھی کیا تھا اور اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ نئی امریکی پالیسی کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ امکان ہے کہ وہ ترکی کا دورہ کرینگے اور اپنے روسی ہیم منصب سے جاریہ ماہ کے اوائل میں بات چیت کرینگے ۔ پاکستان ‘ بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کے پیش نظر امریکہ کے خلاف تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس دوران وزیر خارجہ نے ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا سے کہا کہ امریکی فوج افغانستا ن میں جو رویہ اختیار کر رہی ہے وہ ناکام ہوچکا ہے اور اس سے خود افغانستان کیلئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے روسی ہم منصب سے بھی جاریہ ماہ ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT