Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / امریکی خارجہ پالیسی میں تیز رفتار تبدیلی آخر کیوں؟

امریکی خارجہ پالیسی میں تیز رفتار تبدیلی آخر کیوں؟

محمد مبشرالدین خرم
ایران نیوکلیئر معاہدہ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تیز رفتار تبدیلی رونما ہونے جارہی ہے اور بہت جلد امریکہ کے سفارت خانہ کا ایران میں احیاء عمل میں آسکتا ہے لیکن امریکہ کے سعودی عرب سے تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ بات قطعی طورپر کہنا دشوار ہوگا کہ ایران نیوکلیئر معاہدے کو قطعیت حاصل ہوگی چونکہ ماہرین خارجہ پالیسی کا ادعاء ہے کہ ایران نیوکلیئر معاہدہ کے بعد سے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور اس کشیدگی کے خارجہ پالیسی پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے امریکی کانگریس کی جانب سے یہ دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایران نیوکلیئر معاہدہ کو آئندہ ماہ منعقد ہونے والی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے قبل منسوخ کردیا جائے۔ امریکہ میں ایران نیوکلیئر معاہدہ کے متعلق عوامی و صحافتی حلقوں کی رائے یہ ہے کہ اس معاہدہ میں پیشرفت عالمی امن کا باعث بن سکتی ہے جبکہ بعض گوشوں کا یہ احساس ہے کہ یہ معاہدہ سعودی اور مخالف ایران قوتوں سے اختلافات پیدا کرنے کا باعث ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی کے متعلق محکمہ خارجہ کی ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری برائے جنوبی و سنٹرل ایشیا مس ایلین اوکونار کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کی تیاری کے سلسلہ میں نہ صرف اپنے داخلی مفادات کو ترجیح دیتا ہے بلکہ امریکی خارجہ پالیسی سب سے اہم قومی مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہے ۔ انہوں نے واشنگٹن میں ہوئی ملاقات کے دوران بتایا کہ امریکہ عموماً اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ دیگر ممالک کے مسائل میں خود کو نہ الجھائے لیکن ان کا یہ کہنا افغانستان ، عراق اور لیبیا کے معاملہ میں درست نظر نہیں آتا جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کی اس اہم عہدیدار نے اس بات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا کہ جب مصر میں جمہوری طرز کے ذریعہ منتخبہ حکومت کا تختہ الٹا گیا تو کیوں امریکہ نے یہ محسوس نہیں کیا کہ مصری عوام کے جمہوری حقوق سلب کئے جارہے ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے جمہوریت کی بقاء اور اس کے تحفظ کے نام پر مختلف ممالک میں حملوں کی مثالیں موجود ہیں لیکن مصری افواج کی درندگی اور اخوان کے قائدین کو ہراسانی و قتل عام کے معاملہ میں امریکہ کی خاموشی معنی خیز رہی۔ ہند۔امریکہ تجارتی و سفارتی تعلقات کے متعلق امریکی عہدیداروں کا ماننا ہے کہ یہ تعلقات مستقبل قریب میں مزید مستحکم ہوں گے چونکہ ہندوستان کی جانب سے معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ حکومت ہند نے جو صنعتوں کے فروغ کا منصوبہ تیار کیا ہے ، اس سے امریکی تاجرین کو سرمایہ کاری کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ ہندوستان میں امریکی تاجرین کو اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کے متعلق خدشات باقی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے معاملہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہندوستان کی معیشت میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں تیزی سے مستحکم بننے والی اس مملکت کے ساتھ دیرینہ تعلقات میں بھی استحکام پیدا کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں امریکہ دنیا کے دیگر خطوں کے علاوہ ایشیاء کے متعلق اپنی پالیسی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

چین کی جانب سے بحری علاقوں میں جزائر بنائے جانے کے معاملہ پر امریکہ متفکر نظر آرہا ہے اور چین کی جانب سے عالمی بازار میں سستی اشیاء کی فروخت امریکہ کیلئے باعث تشویش بنتی نظر آرہی ہے ۔ امریکی عہدیدار اس بات کا اعتراف کرنے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کر رہے ہیں کہ اب ان کی توجہ یوروپ سے زیادہ چین پر ہے چونکہ چین جزائر کی تعمیر تک پہنچ چکا ہے۔ سمندری حصوں میں اپنے اثر کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کے ذریعہ ہندوستان سے تعلقات کو بہتر بنانے میں جو رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں ان میں اسرائیل کو رکاوٹ تصور کرنے کیلئے امریکہ تیار نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے ہندوستان سے سفارتی و تجارتی تعلقات میں تیزی سے استحکام پیدا ہونے لگا ہے اور اسرائیل نے ہندوستان کے زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کی دوڑ میں امریکہ کو کافی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اسی طرح ہندوستان نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کی ٹکنالوجی کے معاملہ میں بھی پذیرائی ہونے لگی ہے اور بالواسطہ ہی سہی اسرائیل امریکہ کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے ، مگر امریکی ذمہ داران حکومت کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو کسی قسم کا خطرہ تصور نہیں کیا جاتا اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے بہترین تعلقات برقرار ہیں۔

فلسطینیوں کے حقوق کے علاوہ مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی اور ان کے فلسطین کے متعلق نظریہ پر امریکہ کی خصوصی نظر ہے تاکہ کسی بھی طرح کی تبدیلی پر بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ فلسطینی عوام سے امریکی حکومت کی بسا اوقات زبانی ہمدردی درحقیقت دنیا کی نظر میں خود کو انسانیت نواز کے طورپر پیش کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں چونکہ امریکہ اسرائیل کی پالیسیوں کو بالواسطہ طور پر حمایت فراہم کرتے ہوئے یہ تاثر دیتا آیا ہے کہ وہ یہودیوں کا ہمیشہ ہمنوا رہا ہے اور ان کی حمایت اس کی نہ صرف ہمدردی ہے بلکہ ضرورت کا بھی بسا اوقات احساس دلایا جاتا رہا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں داعش کی جانب سے اختیار کردہ کارروائیوں پر امریکہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن شائد یہ بات فراموش کردی گئی ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی اور کوششوں کو کس کی تائید حاصل رہی ہے بلکہ داعش نامی اس تنظیم میں جہادی جان جیسے سفاک کہاں سے داخل ہوئے؟ داعش کے تکنیکی نیٹ ورک یعنی سماجی رابطہ کی ویب سائیٹس کے ذریعہ پھیلے ہوئے نظریہ کو ختم کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے باضابطہ ایک مشن چلایا جارہا ہے تاکہ داعش کے اثرات امریکی سرحدوں پر مرتب نہ ہونے پائے اور اس نظریہ کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔ امریکی حکومت کی جانب سے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے دہشت گردی کا جب کبھی سہارا لیا گیا ، اس وقت امریکہ کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا رہا لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ اپنی اس پالیسی پر عمل پیرا ہے چونکہ اس پالیسی کے ذریعہ ہی سخت گیر نظریہ کے حامل اثرات کی نشاندہی ممکن ہوسکتی ہے اور انہیں کسی بھی طرح کی ایسی حرکت سے روکنے کا قدم اٹھایا جاسکتا ہے جوکہ دنیا کے اعتبار سے عالمی مفادات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی تدوین  ملک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے لیکن امریکی خارجہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی خارجی امور کا داخلی امور سے تعلق بہت ہی کم ہے اور امریکہ کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے پیمانے بالکلیہ طور پر علحدہ ہیں اور حالیہ عرصہ میں خارجہ پالیسی میں جو تبدیلی نظر آرہی ہے، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ مستقبل قریب میں شدید اقتصادی بحران سے خود کو بچانے کیلئے ہر کسی سے تعلقات استوار کرنے کی فراق میں ہے۔ کیوبا کے تعلق سے امریکی پالیسی میں آئی تبدیلی کے بعد ایران سے تعلقات میں بہتری سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اپنی خارجہ پالیسی تیار کر رہے ہیں۔ ایران جو کہ شام میں امریکی مداخلت اور النصری فرنٹ کو امریکی حمایت کی مخالفت کر رہا ہے اور ایران کا گہرا رفیق شام جو کہ امریکہ کو شام کے حالات کیلئے ذمہ دار قرار دیتا ہے ، اس کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان دوریوں میں کمی سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ کسی ایک مشترکہ مقصد کے تحت دونوں ممالک کے تعلقات استوار ہونے جارہے ہیں۔ ہندوستان میں موجود نوجوانوں کی قوت سے امریکہ استفادہ کرتے ہوئے اپنی صنعتوں کے ہندوستان میں قیام کے ذریعہ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ ہے لیکن امریکی سرمایہ کار ہندوستان کی معاشی پالیسیوں و صنعتی پالیسیوں میں اصلاحات کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہندوستان میں صنعتی پالیسی میں اصلاحات کے بعد سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکے۔ اس طرح ہند۔امریکہ تعلقات میں استحکام کی وجہ موجود ہے لیکن دیگر کئی پالیسیوں کے متعلق وضاحت موجود نہ ہونے کے سبب عوام میں شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔

ہند۔پاک تعلقات کے متعلق امریکہ کی فکرمندی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اب بھی ثالثی کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن ہندوستان ایسا ہونے نہیں دے گا چونکہ امریکہ کی ثالثی کی صورت میں سرحد پر کشیدگی کے معاملے حل ہونے کے بجائے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے پڑوسی ملک پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے فراہم کی جانے والی امداد کس طرح خرچ ہوتی ہے ، اس کا بخوبی اندازہ ہے اور حکمراں طبقہ کو خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے اس کی اطلاعات پہنچائی جاتی رہی ہے ، اس کے باوجود بھی اس امداد کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ پڑوسی ملک میں جاری خانہ جنگی کی صورتحال کیلئے بھی کسی نہ کسی طرح یہ مدد جو امریکہ سے حاصل ہورہی ہے، ذمہ دار ہے اور اس کے اثرات ہندوستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں جو کہ ہندوستان کی داخلی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ پڑوسی ملک کو دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر فراہم کی جانے والی امداد میں تخفیف کے ساتھ اس بات کی توقع کی جائے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں قیام امن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے تو درست ہوگا۔ بصورت دیگر کسی نہ کسی خطہ میں جاری شدت پسندی اور حق تلفی کے واقعات دوسروںکو نقصان پہنچانے کے علاوہ پڑوسی ممالک کے سکون کی بربادی کے موجب بن سکتے ہیں  جوکہ بالواسطہ طور پر بیرونی سرمایہ کاروں کے اثاثوں کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہونے کا خدشہ پیدا کریں گے۔(سلسلہ جاری…)
@infomubashir
[email protected]

TOPPOPULARRECENT