Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / امریکی خارجہ پالیسی کے راز

امریکی خارجہ پالیسی کے راز

محمد مبشرالدین خرم
امریکہ کی سرحدوں میں بسنے والوں کی زندگی کے متعلق امریکی حکومت کی فکر اور ان کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صحت و تعلیم کے میدان میں ان کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے عوام کا اطمینان امریکہ کو دیگر ممالک میں اپنے کو دکھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے اور عوامی سطح پر امریکی حکومت کی اس پالیسی پر کوئی بڑی مخالفت نہیں ہوتی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے عوام کو خوش اور مصروف رکھنے کیلئے متعدد اقدامات میں مصروف ہے۔ امریکہ کی بلند قامت عمارتیں عزم اور حوصلہ کا اظہار تو کرتی ہیں لیکن ان کی بنیادیں کس حد تک کھوکھلی ہوچکی ہے اس کا اندازہ امریکی پالیسی ساز اداروں کو بخوبی ہے اور وہ انہیں مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن ان کی یہ کوششیں کس حد تک کارآمد ثابت ہوں گی اس کا اندازہ مستقبل قریب میں ہونا دشوار ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ کے ایک ماہ طویل سفر کے دوران مختلف ریاستوں کا دورہ کرتے ہوئے امریکی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے والی شخصیتوں کے علاوہ حکمراں طبقہ اور عہدیداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ رہا اور ان ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بسنے والے ہندوستانی عوام و طلبہ کے علاوہ بااثر شخصیتوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور ان ملاقاتوں میں اس بات کو سمجھنے کا موقع میسر آیا کہ کیونکر امریکی عوام امریکہ کی اس خارجہ پالیسی کی مخالف نہیں ہیں جس کی مخالفت دنیا کے تقریباً ہر گوشہ سے کی جاتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے چلائے جانے والے پروگرام ’’انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ‘‘ میں شرکت کے دوران دیگر صحافی جو ہمسفر تھے، ان میں جناب پرویز صہیب احمد ایڈیٹر ہندوستان ایکسپریس ، جناب سہیل احمد سعید فیچر نیوز ایڈیٹر اردو ٹائمز ، جناب ممتاز عالم رضوی قومی بیورو چیف روزنامہ انقلاب ، جناب خالد رضا خان آؤٹ پٹ ایڈیٹر عالمی سہارا کے علاوہ محترمہ طلعت عزیز صاحبہ نامہ نگار اخبار مشرق شامل تھے، جنہوں نے 21 روزہ پروگرام کے دوران امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کی کوششوں میں نہ صرف تعاون کیا بلکہ امریکی عہدیداروں پر سوالات کی بوچھار کے ذریعہ معلومات میں اضافہ کا موقع فراہم کیا۔

حکومت امریکہ کی جانب سے چلائے جانے والے اس پروگرام کے ذریعہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ حیات کی نمائندہ شخصیتوں کو مدعو کرتے ہوئے امریکی خارجہ پالیسی کی تدوین و تیاری کے متعلق امور کا مشاہدہ کروایا جاتا ہے اور پروگرام کے دوران حکومت مختلف گوشوں پر اثرا انداز ہونے والی شخصیتوں و  امریکی طرز زندگی کے ساتھ ساتھ امریکی تہذیب کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کوششوں کے دوران بالواسطہ ہی سہی یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امریکہ نہ صرف ایک آزاد خیال رکھنے والی قوم کا نمائندہ ملک ہے بلکہ یہ بھی باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ امریکہ میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہونے کے علاوہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کس طرح سے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سیاہ فام باشندے خود کو اس ملک کی سرحدوں میں دوسرے درجہ کا شہری تصور کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں سیاہ فام صدر موجود ہے اور پہلے سیاہ فام صدر کے متعلق سیاہ فام باشندوں کی اکثریت کا ذہن اب بھی صاف نہیں ہے جبکہ سیاہ فام صدر مسٹر بارک اوباما اپنی میعاد مکمل کرنے جارہے ہیں۔ 21 روزہ سفر کا آغاز امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ہوا جہاں نہ صرف امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ہوئی بلکہ مختلف نظریات کے حامل اہم شخصیتوں سے ملاقاتوں کا بھی موقع میسر آیا۔ واشنگٹن ، فلاڈیلفیا، ڈیٹرائیٹ، مسی سیپی ، ایریزونا کے سرکاری سفر کے دوران کافی کچھ سیکھنے سے زیادہ سمجھنے کو ملا۔

امریکی طرز حکمرانی کے متعلق تو سب ہی جانتے ہیں لیکن امریکہ نے 1776 ء میں برطانوی سامراج سے آزادی کے حصول کے بعد دنیا پر اپنے تسلط کو قائم کرنے جو حکمت عملی اختیار کی ، اس کا اندازہ بہت کم لوگوں کو ہے کہ اس حکمت عملی کے پیچھے کونسی قوتیں کارفرما رہی۔ امریکی تسلط کے قیام کیلئے امریکہ میں سرکاری طور پر پالیسی سازی کے علاوہ ان خانگی اداروں کی بھی تجاویز و آراء کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جو امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے باضابطہ تحقیق کا کام انجام دیتے ہوئے حکومت کو مشورے دیتے ہیں اور ان اداروں کی سرکاری سطح پر نہ صرف سرپرستی کی جاتی ہے بلکہ تحقیق ، ترویج و اشاعت کیلئے انہیں باضابطہ بھاری رقومات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ ملک کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ امریکی نظریات کے تسلط کی برقراری کیلئے خدمات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ امریکی حکومت خواہ وہ فیڈرل حکومت ہو یا پھر امریکی ریاستوں کی حکومتیں ہوں ، ان کے پاس ’’Think Tank ‘‘ کی کافی اہمیت ہے جو کہ منصوبہ سازی کا کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی جنگی جنون کے متعلق دنیا بھر میں یہ بات مشہور ہے کہ امریکہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت مداخلت کرسکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے چونکہ امریکی جنگی قوانین انتہائی سخت ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت امریکہ ان جنگی قوانین پر عدم عمل آوری کے ذریعہ جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے لیکن اس کے خلاف کارروائی کرے بھی تو آخر کون؟ چونکہ امریکہ سوپر پاور کی حیثیت سے اپنی بات منوا ہی لیتا ہے۔ آزاد امریکہ کی تاریخ میں اگر کسی سے یہ پوچھا جائے کہ امریکہ میں کتنی مرتبہ جنگیں لڑی ہوں تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ امریکہ تقریباً ہر وقت حالت جنگ میں ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ امریکہ نے آخری جنگ جو باضابطہ معلنہ تھی ، وہ 1942 ء میں لڑی تھی۔ امریکی کانگریس کی منظوری کے ساتھ امریکی افواج نے اب تک صرف 11 جنگیں لڑی ہیں جبکہ زائد از 125 ایسی جنگیں ہیں جنہیں کانگریس کی منظوری حاصل نہیں تھی۔ ان 11جنگوں میں 1812 میں ہوئی برطانوی سامراج کے خلاف پہلی جنگ ہے جسے امریکی سنیٹ نے باضابطہ قرارداد کی منظوری کے ساتھ اجازت دی تھی۔ اسی طرح مختلف جنگوں کے بعد آخری جنگ 1942ء میں رومانیہ کے خلاف لڑی گئی تھی لیکن عراق ، افغانستان، لیبیا ، بوسنیا ، چیچن کے خلاف لڑی گئی جنگوں کیلئے امریکی حکومتوں نے کانگریس یا سنیٹ سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی تھی۔

امریکی معیشت کو مستحکم تصور کرنے والوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب 2008 ء میں امریکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہوئی اور اسے سنبھالنے کیلئے سخت اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ 2008 ء میں جس وقت امریکی معیشت انحطاط کا شکار رہی ، اس کے بعد سے اب تک بھی مصنوعی طور پر اسے استحکام بخشنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چین کی معیشت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جو استحکام حاصل کیا ، اسے دیکھتے ہوئے امریکہ اب اپنے نظریات میں تبدیلی کے متعلق غور کرنے لگا ہے اور چینی معیشت کے طرز پر ہندوستانی معیشت میں تیزی سے اچھال کی توقع کرتے ہوئے ہندوستان سے مستحکم تجارتی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکہ کے تمام بڑے شہروں میں چین نے جس طرح سے اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کی ، اس کا اندازہ امریکہ کے شہروں میں موجود ’’چائینا ٹاؤن‘‘ کو دیکھتے ہوئے لگایا جاسکتا ہے جہاں چینی ساختہ اشیاء کے علاوہ چینی تاجرین کی بہتات نظر آتی ہے اور امریکی عوام کی سستے چینی اشیاء پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ امریکی ماہرین معیشت اس بات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ کس طرح سے امریکی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات ضرورت ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ کس ملک سے تجارتی تعلقات کے استحکام کی صورت میں امریکی معیشت کو فائدہ حاصل ہوگا اور کن ممالک میں امریکی سرمایہ کاری کے ذریعہ معیشت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔
آزاد امریکہ کی تاریخ میں تاحال 44 صدور نے اس ملک پر حکمرانی کی لیکن امریکہ کو ترقی سے ہمکنار کرنے کیلئے اصلاحات لانے والے صدر کی حیثیت سے ابراہم لنکن کو یاد کیاجاتا ہے جنہوں نے امریکہ کو نہ صرف بندھوا مزدوری کی لعنت سے نجات دلوائی بلکہ امریکی ریاستوں کے اتحاد کے ذریعہ فیڈرل طرز حکمرانی کو مستحکم بناتے ہوئے اصلاحات کے ذریعہ عوام و ریاستوں میں تال میل پیدا کیا۔ ابراہم لنکن کے تذکرہ کے ساتھ ان کے کہے ہوئے وہ الفاظ اکثر یاد آتے ہیں بلکہ “The best way to predict the future is to create it.” (مستقبل کی پیش قیاسی کا بہتر طریقہ اسے بنانا ہے) ۔ اسی طرح امریکی صدور تاریخی ادوار میں جارج واشنگٹن، رونالڈ ریگن ، جارج ڈبلیو بش کے علاوہ موجودہ صدر کا دور بھی شمار کیا جاتا ہے ۔ چونکہ ان صدور نے نہ صرف امریکہ کو مستحکم بنانے کی کوشش کی بلکہ دنیا سے امریکہ کے رابطہ کو وسیع کرنے میں بھی ان صدور کا اہم کردار رہا ہے۔ امریکی سیاست میں اخلاقی انحطاط کے بھی کافی واقعات موجود ہیں لیکن حالیہ عرصہ کے کچھ واقعات نے امریکی سیاسی اقدار کچھ حد تک پامال کیا ہے۔

امریکی امور خارجہ کی جانب سے اختیار کردہ مسلم ممالک کے متعلق پالیسی اور مسلمانوں کے نظریات سے آگہی کے طریقہ کار کی جتنی سراہنا کی جائے کم ہے چونکہ اس پالیسی کی تیاری کے لئے نہ صرف اندرون ملک پالیسی ساز اداروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود امریکی نظریات کو تحفظ فراہم کرنے والوں کی رائے کو بھی کافی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ آئندہ مضامین میں مذکورہ تمام امور پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی لیکن سرسری طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکہ کی عیاری و مکاری پر صرف تنقیدوں کے بجائے امریکہ کے عملی طرز حکمرانی اور عوام کے نظریات کو بھی پیش کیا جائے گا۔ امریکی حکومت کی پالیسیاں یقیناً قابل اعتراض بھی ہوتی ہیں لیکن  امریکی حکومت کے اپنے عوام کے مفادات کے متعلق فیصلے قابل ستائش بھی ہیں۔ اسی طرح امریکی خارجہ پالیسی مسلم ممالک کے متعلق بظاہر دوستانہ ہے لیکن مسلم ممالک کی ذہنی غلامی اس طرح کی خارجہ پالیسی کے خلاف اظہار رائے کی جرات بھی نہیں کرسکتی۔ حالیہ دنوں میں ایران نیوکلیئر معاہدہ کے امریکہ اور اسرائیل تعلقات پر ہوئے اثرات کا بھی آئندہ مضامین میں احاطہ کیا جائے گا۔ (جاری…)
@infomubashir
[email protected]

TOPPOPULARRECENT