Saturday , December 15 2018

امریکی شٹ ڈاؤن کے خاتمہ کیلئے ووٹنگ تاخیر کی شکار

 

l مزید ایک ہفتہ جاری رہنے کا اندیشہ
l ہم حکومت کے کام کاج کی بحالی کیلئے سخت محنت
کررہے ہیں : سارہ سینڈرس
l صدر ٹرمپ کی میعاد کے ایک سال مکمل ہونے کی
خوشی پر غم کے بادل

واشنگٹن ۔ 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی قانون ساز اب تک امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے اختتام کیلئے کسی بھی معاہدہ کو قطعیت دینے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں حالانکہ نئے ہفتہ کا پہلا دن یعنی پیر ہمیشہ گہماگہمی سے رقم ہوتا ہے۔ یاد رہیکہ اس موضوع پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم ووٹنگ کو ایک بار پھر ملتوی کیا گیا۔ دوسری طرف صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی قائدین اور اپوزیشن ڈیموکریٹکس کا یہ کہنا ہیکہ گذشتہ ہفتہ کو اس موضوع پر بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے جبکہ پیر کے روز رات ایک بجے (دوپہر 11:30 بجے ہندوستانی معیاری وقت) ہونے والی ووٹنگ کو مزید 11 گھنٹوں تک آگے بڑھا دیا گیا۔ اس تاخیر کا مطلب یہی ہیکہ شٹ ڈاؤن سے اب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی پر غم کے بادل چھا جائیں گے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کے ہزاروں ملازمین کو اب بغیر تنخواہ کے اپنے گھروں میں بیٹھنا پڑے گا اور یہ منظر وہ اس وقت دیکھیں گے جب پیر کے روز وہ حسب معمول اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر جائیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ کانگریس کے خصوصی ویک اینڈ سیشن میں دونوں ہی پارٹیاں کوئی خاص پیشرفت نہیں کرپائیں جبکہ سینیٹ اکثریتی قائد مک میکونیل نے اہم معاملات پر ڈیموکریٹس کی تشویش کو دور کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ گذشتہ شب چیمبر میں اپنی ایک تقریر کے دوران انہوں نے امیگریشن اصلاحات پر زائد توجہ مرکوز کی تھی۔ اعلیٰ سطحی ڈیموکریٹک قائد چک شومز یہ کہہ کر اپنا موقف ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی کہ اکثریتی قائد کے ساتھ حکومت کے کام کاج کے احیاء کیلئے بات چیت کے سلسلہ کو جاری رکھنے پر وہ بیحد خوش ہیں تاہم اس سلسلہ میں ’’پارٹیوں‘‘ کے درمیان اب تک کسی معاہدہ کو قطعیت نہیں دی گئی ہے لہٰذا پیشرفت کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہیکہ جمعہ کی شب کو جو شٹ ڈاؤن ہوا تھا، وہ اب زیادہ سے زیادہ ہفتہ کے اواخر تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم اس موضوع پر ہونے والی بات چیت اختلاف رائے کی وجہ سے کوئی قطعی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی۔ سینیٹ قائدین کو اس بات کا اندیشہ ہیکہ ماضی کی طرح اگر دیگر پارٹی کو ایک بار پھر اکثریت حاصل ہوئی تو ’’شٹ ڈاؤن‘‘ ایک بار پھر ان کا تعاقب کرسکتا ہے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے کل سینیٹ کے ری پبلکن قائدین کو ’’نیوکلیئر متبادل‘‘ اپنانے حوصلہ افزائی کی تھی جو چیمبر کے قواعد و ضوابط کو تبدیل کرنے کا ایک ’’پروسیجرل‘‘ طریقہ ہے جس کے تحت 51 ووٹس کی برتری سے بجٹ کی پیشکشی سے شٹ ڈاؤن کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں وائیٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس کا کیا کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے میک کانیل اور سینیٹ اکثریتی وہپ جان کورنائن سے بات چیت کی تھی حالانکہ انہوں نے ٹرمپ کی کسی بھی ڈیموکریٹ سے بات چیت کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ تاہم یہ ضرور کہا کہ وائیٹ ہاؤس لیجسلیٹیو ڈائرکٹر مارک شارٹ دونوں پارٹیوں کے ارکان سے مسلسل ربط میں تھے اور انہوں نے اس کے متعلق ٹرمپ کو بھی باخبر رکھا تھا۔ سارہ سینڈرس نے کہا کہ ہم شٹ ڈاؤن کے خاتمہ اور حکومت کے کام کاج کو دوبارہ شروع کرنے سخت محنت کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT