Saturday , December 16 2017
Home / دنیا / امریکی شہر جہاں پانچ بار اذان گونجتی ہے

امریکی شہر جہاں پانچ بار اذان گونجتی ہے

مشی گن۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک طرف جہاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان دنوں کچھ لوگ زہر اگل رہے ہیں وہیں دوسری طرف ایک شہر ایسا بھی ہے جہاں مقامی انتخابات کے بعد سٹی کونسل میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگئی ہے۔ یہ ریاست مشی گن کا شہر ہیمٹریمک ہے جہاں کبھی بیشتر آبادی پالش باشندوں کی ہوا کرتی تھی لیکن گذشتہ دو دہوں میں ان کی آبادی سمٹ کر اب مشکل سے 10 دس فیصد رہ گئی ہے۔ اس شہر کے ہر گلی محلے میں اب اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ برقع پوش اور حجاب میں لپٹی خواتین، اسکول کے بعد مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کر رہے بچّے، شہر کی مساجد سے لاؤڈ سپیکرز پر دی جانے والی پانچ وقت کی اذان، عربی اور بنگلہ زبان میں تحریر دکانوں کے سائن بورڈز اور حلال کھانا کھلانے والے ریستوراں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی شہر میں پالش تہذیب و ثقافت کی چھاپ بھی صاف نظر آتی ہے۔ شہر کے مرکز میں پوپ کا مجسمہ ہے، گرجا گھر ہیں، دیواروں پر پولینڈ کی روایتی تصاویر ہیں، شراب خانے ہیں، سال میں ایک بار ہونے والی رنگ برنگی پالش پریڈ بھی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو اب یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ اسلام اس شہر کے پالش ورثے کو ختم کر دے گا اور مقامی انتخابات میں مسلمانوں کی فتح کے بعد اس تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ اب شہر کی سڑکوں کے نام اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے نام پر رکھے جاسکتے ہیں اور دیگر اسلامی طور طریقے شہر پر تھوپے جا سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT