Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / امریکی صدارتی انتخابات کیلئے رائے دہی کا پرجوش آغاز

امریکی صدارتی انتخابات کیلئے رائے دہی کا پرجوش آغاز

ہیلاری کلنٹن کو امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے کا یقین، نیو ہیمشائر میں پہلی فتح، ٹرمپ پر سبقت برقرار
واشنگٹن 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں لاکھوں ووٹرس آج پولنگ اسٹیشنوں پر طویل قطاروں میں کھڑے ہوگئے جو اس ملک کی 240 سال جمہوری تاریخ میں پہلی خاتون صدر یا پھر کسی غیر سیاسی شخص کو صدر منتخب کریں گے۔ قصر صدارت وہائٹ ہاؤز کے لئے جاری اس دور میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون امیدوار ہیلاری کلنٹن کا غیر سیاسی شخص اور ارب پتی رئیل اسٹیٹ تاجر ڈونالڈ ٹرمپ کے مابین سخت مقابلہ ہے۔ ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں۔ امریکی تاریخ کی بدترین صدارتی انتخابی مہم کو ختم کرتے ہوئے ہیلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ نے لمحہ آخر ایک ایک ووٹ حاصل کرنے کی بھرپور مساعی کی اور امریکی عوام کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے لئے اپنے ویژن کی حمایت میں بامقصد اور معنی خیز بحث کی۔ 69 سالہ ہیلاری کلنٹن نے اپنے شوہر اور سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ ایک اہم میدان جنگ سمجھی جانے والی ریاست شمالی کیرولینا کے رالے ٹاؤن میں ایک بڑی ریالی سے خطاب کیا جس میں لیڈی گاگا بھی موجود تھیں۔ 70 سالہ ٹرمپ مشی گن میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کیا۔ ان کے حامیوں کو توقع ہے کہ ٹرمپ اس ریاست کو ڈیموکریٹس سے چھین لیں گے۔ دونوں ریالیاں پولنگ کے آغاز سے بمشکل چھ گھنٹے قبل یعنی مقامی وقت کے مطابق ایک بجے شب ختم ہوئیں۔ جب مشرقی ساحل پر پولنگ کا آغاز ہورہا تھا۔ سب سے پہلا ووٹ نیو ہیمپشائر میں ڈالا گیا جہاں انتخابی دن ملک کا سب سے پہلا ووٹ ڈالا جاتا ہے جہاں پر کلنٹن کو کامیابی حاصل ہوئی۔

تفصیلات کے بموجب نیو ہیمشائر میں دور دراز کے قرعہ ڈیگزویل ناؤچھ میں نصف شب کے فوری بعد ہوئی رائے دہی میں ہیلاری کو ٹرمپ کے خلاف دو کے مقابلے چار ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔ 2016 ء کے صدارتی انتخاب میں ہیلاری کی یہ پہلی کامیابی ہے۔ ہیلاری کلنٹن اگرچہ فتح کا ہدف حاصل کرنے کے بہتر قریب پہونچ چکی ہیں لیکن ٹرمپ کو کم سے کم 270 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کرنے کے لئے میدان جنگ تصور کی جانے والی اکثر ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوگا۔ ایریزونا میں 11 ، فلوریڈا میں 29 ، نیواڈا میں 6 ، نبراسکا دوسرے کانگریس ڈسٹرکٹ میں ایک، نیو ہیمشائر میں 4 اور شمالی کیرولینا میں 15 الیکٹورل کالج ووٹس ہیں چنانچہ ان ریاستوں کو دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ کلیدی میدان جنگ قرار دیا جارہا ہے۔ امریکہ میں تقریباً 20 کروڑ ووٹرس اپنے 45 ویں صدر کو منتخب کرنے کے لئے رائے دہی کے مستحق ہیں جن کے منجملہ 4 کروڑ 20 لاکھ ووٹرس کی ریکارڈ تعداد پہلے ہی اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرچکی ہے۔ 2012 ء کے صدارتی انتخابات میں 3 کروڑ 23 لاکھ ووٹرس پیشگی طور پر ووٹ دے چکے تھے۔ کلنٹن اور ٹرمپ نے مہم کے آخری دن بھی ایک ایک ووٹ کے حصول کے لئے انتھک جدوجہد کی۔ علاوہ ازیں مہم کے آغاز سے ہی یہ ہیلاری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ رہا جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے امریکی میڈیا نے اس کو امریکی تاریخ کی بدترین صدارتی انتخابی مہم قرار دیا ہے۔ اس دوران تازہ ترین پول سروے کے مطابق ہیلاری کلنٹن کو ڈونالڈ ٹرمپ پر معمولی سبقت بدستور برقرار ہے۔ اکثر انتخابی تجزیہ نگاروں اور اوپینین پولس نے ہیلاری کی فتح کی پیش قیاسی کی ہے جس کے باوجود ٹرمپ بھی میدان جنگ سمجھی جانے والی ریاستوں میں اپنی کامیابی کے ساتھ آٹھ سال کے وقفہ کے بعد وہائٹ ہاؤز سے ڈیموکریٹس کا قبضہ ختم کرنے کے بارے میں پُرامید ہیں۔

TOPPOPULARRECENT