Wednesday , December 19 2018

امریکی صدر کا منصوبہ ’ اس صدی کاتمانچہ‘

ہم بھی جواب میں تمانچہ ماریں گے۔ امریکہ کو ب امن کے ثالث کے طور پر قبول نہیں کریں گے ۔محمودعباس
رملہ۔ فلسطینی کے رہنمامحمود عباس نے کہاکہ صدر ٹرمپ کو یہ کہنے پر شرمندہ ہونا چاہئے کہ فلسطینیوں نے امن مذاکرات کو مستر کردیا ہے۔

امریکی صدر کی فلسطین سے متعلق پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے عباس نے فلسطینی سنٹرل کونسل سے خطاب میں کہاکہ وہ امریکہ کو امن کے مزید ثالث کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ’اگر معاملات اور ہمارے عوام سے متعلق ہوں تو ہم کسی کو بھی انکار کرسکتے ہیں اور اب ہم ٹرمپ کوانکار کررہے ہیں۔ ہم نے انہیں بتادیا ہے کہ ’’ صدی کا معاہدہ‘‘ درحقیقت ‘‘ صدی کا طمانچہ‘‘ ہے لیکن ہم بھی جواب میں طمانچہ ماریں گے۔

محمود عباس نے امریکہ کے زیر قیادت امن عمل کو بجائے بین الاقوامی ثالثی میں ا س عمل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ صدر ٹرمپ تواتر سے مشرقی وسطی کے امن معاہدہ کو ’ صدی کا معاہدہ‘ قراردیتے ائے ہیں لیکن ان کی انتظامیہ کی طرف سے ایک طویل عرصہ سے معطل مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش تاحال کامیاب ہیں ہوسکی ہے۔

امریکی صدرنے متنبہ کیاتھا کہ اگر فلسطین امن مذاکرات سے علیحدہ ہوتا ہے تو وہ فلسطینیوں کے لئے دی جانے والی امداد بند کردیں گے۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ وہ ثابت کریں کہ فلسطینیوں نے امن مذاکرات سے انکار کیاتھا۔ فلسطینی رہنما کا کہنا ہے کہ یروشلم کو اسرائیلی درالحکومت تسلیم کرکے امریکہ ایک غیرجابندار مذاکرات کار نہیں بن سکتا۔

فلسطینی رہنما نے رملہ میں دو دنوں تک ملاقات کا سلسلہ جاری رکھنے کے بعد ٹرمپ کے اقدام کا جواب دیا۔فلسطینی اور اسرائیلی دونوں اس مقدس شہر پر اپنا دعوی پیش کرتے ہیں اور اس کا تنازع بہت پرانا ہے ۔ یروشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔

یہ شہر مسلمانوں ‘ یہودیوں او رمسیحیوں تینوں کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔ پیغمبر حضرت ابراہیم سے اپنا سلسلہ جوڑنے والے تینوں مذاہب یروشلم کو مقد س مقام کہتے ہیں او ریہی وجہہ کہ صدیو ں سے اس شہر کے نام مسلمانوں‘ عیسائیوں اور یہودیوں کے دلوں میں پیوست ہے۔

یہ شہر عبرانی زبان میںیروشلم اور عربی میں القدس کے نام سے مشہور ہے جبکہ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے ۔ اس شہر پر کئی بارقبضہ کیاگیا ‘ مسمار کیاگیا اور پھر آباد کیاگیا۔ یہی سبب ہے کہ اس سرزمین کی تہوں میں ایک تاریخ موجود ہے۔

TOPPOPULARRECENT