Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / امریکی عوام جذبہ خدمت خلق سے سرشار

امریکی عوام جذبہ خدمت خلق سے سرشار

محمد مبشرالدین خرم
سماجی ترقی اور بہبود کی ذمہ داری صرف حکومت پر عائد نہیں ہوتی بلکہ عوام بالخصوص وہ طبقہ جو تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہو، وہ بھی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس کا ا حساس امریکہ کے مختلف شہروں میں ہوتا ہے چونکہ امریکہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ سماجی ترقی کو یقینی بنانے کے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور عرصہ دراز سے سرکردہ افراد مختلف عنوانات کے ذریعہ عوام کو جوڑنے اور ضرورت مندوں کی مدد کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امریکہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ فلاح و بہبود کے اقدامات کے علاوہ مذہبی شعور بیداری کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیاں بھی بڑے پیمانہ پر چلائی جاتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں عوام جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصروف ترین امریکی شہری بھی معاشرتی زندگی کیلئے وقت نکالنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کا مقصد دراصل ضرورتمندوں کی مدد کرتے ہوئے انہیں سماجی دھارے میں شامل کرنا اور ان کی معاشرتی زندگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ یہ تنظیمیں مختلف میدانوں میں خدمات انجام دیتی ہیں جیسے منشیات کے عادی افراد کو ترک منشیات کیلئے راضی کروانے اور حصول تعلیم کے خواہشمند ضرورت مندوں کو اشیائے تعلیم کی فراہمی اسی طرح شعبہ طب و دیگر شعبہ جات بالخصوص عدلیہ میں بھی ضرورتمندوں کو مدد کی فراہمی کیلئے تنظیمیں سرگرم عمل ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں ایسی کئی تنظیمیں ہیں جن کا مقصد تہذیبی روایات کی برقراری کے علاوہ سماجی روابط کو استوار کرنے کی غرض سے خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ مختلف ریاستوں میں مخصوص مذہبی تنظیمیں بھی سرگرم عمل ہیں جو کہ اشاعت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں لیکن ان کا مقصد بھی معاشرتی زندگی کو مستحکم بنانا نظر آتا ہے۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں بسنے والے ہندوستانی شہریوں میں بھی اپنے مقامات کے اعتبار سے اپنی تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں جو کہ مختلف ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ کے جن شہروں میں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے، ان میں کیلیفورنیا، شکاگو ، نیویارک ، نیوجرسی، ڈیٹرائیٹ ، ٹیکساس اور بعض دیگر شہر موجود ہیں۔ واشنگٹن کے قریب بالٹی مور میں بھی ہندوستانیوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔ امریکہ میں بسنے والے ہندوستانی شہری اپنی منفرد شناخت کی برقراری کے علاوہ ہندوستانی تہذیب و روایات کی بقاء کیلئے اپنے طورپر سرگرم کوششیں کرتے رہتے ہیں اور اپنی تنظیموں کے ذریعہ ایسی نشستوں کا انعقاد عمل میں لایا کرتے ہیں جو کہ ہندوستانی عوام کو باشعور بنانے کیلئے انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں مختلف شہروں کی تنظیموں کی جانب سے سرکردہ ہندوستانیوں کی آمد یا ہندوستانی وفود کی آمد پر پروگرامس کا انعقاد کرتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی جاتی ہے اور اپنے ملک کے زمینی حقائق جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہندوستانی شہری عموماً ہندوستانی ریاستوں کے اعتبار سے بنائی گئی تنظیموں کا حصہ ہوتے ہیں اور بیشتر شہروں میں لسانی بنیادوں کے علاوہ ہندوستانی ریاستوں کے نام سے بھی تنظیمیں بنائی گئی ہیں۔ لسانی بنیادوں پر بنائی گئی تنظیموں میں گجراتی ، مراٹھی ، بنگالی ، تلگو ، اردو کے علاوہ دیگر تنظیمیں موجود ہیں جس میں زبان کے جاننے والے اور بولنے والوں کی بڑی تعداد سرگرم ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ، مہاراشٹرا ، آندھراپردیش، بنگال ، گجرات ، راجستھان ، کیرالا اور دیگر ریاستوں کی تنظیمیں موجود ہیں جس کے ذمہ داران کے تعلقات اپنی حکومتوں سے کافی حد تک بہتر ہیں اور یہ ہندوستانی شہری جو تنظیموں سے وابستہ ہیں، اپنے ملک ریاست اور شہر سے دور رہتے ہوئے بھی اپنی ریاست اور ملک کے تعلق سے فکر کرتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ریاست کی ترقی کی جانب سے توجہ مبذول کرواتے ہیں۔
ان غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ امریکہ میں اسلامی اور عیسائی تنظیموں کے ساتھ ساتھ سکھ اور ہندو تنظیمیں بھی چلائی جارہی ہیں جن کا مقصد خدمت کے ساتھ ساتھ مذہب کا پرچار بھی ہے۔ بعض تنظیموں کے ذمہ داران امریکہ کی پالیسیوں کی تیاری میں بھی اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن حکومت امریکہ ان کا دانستہ یا  غیر دانستہ طور پر جس طرح استعمال کرتی ہے شائد اس کا اندازہ انہیں نہیں ہوتا۔ مذہبی تنظیموں کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی منافرت کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ امریکہ کے ہر شہر میں ہندوستانی عوام کے لئے دستیاب سہولتوں میں سب سے اہم ہندوستانی غذائیں ہیں جو کہ بآسانی دستیاب ہوجاتی ہیں۔ مذہبی تنظیموں کی جانب سے چلائے جانے والے مراکز سے متصل مقامات پر خصوصی تغذیہ کے مراکز کو جگہ فراہم کرنے کا رواج ہے تاکہ عبادت کے مقصد سے پہنچنے والوں کو  غذائی اشیاء بھی بآسانی دستیاب ہوسکیں۔ مذہبی تنظیموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات میں سب سے اہم مذہبی تعلیم ہے جس کا انتظام بیشتر مقامات پر ہفتہ واری تعطیل یعنی اتوار کو ہوتا ہے جس میں بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔

شکاگو میں جہاں حیدرآبادی نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو مختلف تنظیموں کے ذریعہ خدمات کی انجام دہی کو یقینی بنارہے ہیں۔ امریکن حیدرآبادی اسوسی ایشن کے ذریعہ شکاگو کے رہنے والے سرکردہ افراد حیدرآباد سے پڑھائی کیلئے امریکہ پہنچنے والے نوجوانوں کی مدد میں پیش پیش نظر آتے ہیں بلکہ جب یونیورسٹیز کی کشادگی کا دور ہوتا ہے تو بسا اوقات یومیہ 8 تا 10 نوجوان شکاگو پہنچتے ہیں جنہیں امریکی معاشرتی زندگی کے علاوہ ضروریات زندگی کے متعلق تک معلومات نہیں ہوتی۔ جناب محمد مکرم ، جناب شکیل اللہ خاں ، جناب نصیر احمد ، جناب لیاقت علی خاں کے علاوہ ان کے ساتھیوں کی جانب سے حیدرآبادی نوجوانوں کی مختلف طریقوں سے مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ امریکہ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ معمولی روزگار کے حصول کو بھی یقینی بناسکے۔ امریکن حیدرآبادی اسوسی ایشن میں موجود نوجوانوں کا احساس ہے کہ حیدرآباد سے جب نوجوان امریکہ میں پڑھائی کا ارادہ کر کے روانہ ہوتے ہیں تو انہیں ہر اس شئے کا خیال رکھنا چاہئے جو نئے ملک یا مقام پر ضروری ہوتی ہے ۔ خاص طور پر ملکی قوانین اور معاشرتی زندگی کے اصول کے متعلق انہیں آگاہی حاصل ہونی چاہئے ۔ اس تنظیم کی جانب سے نہ صرف حیدرآبادی نوجوانوں کی رہبری و رہنمائی کے کام انجام دیئے جاتے ہیں بلکہ حیدرآباد سے امریکہ پہنچنے والے سرکردہ شہریوں کیلئے تقاریب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ تنظیم میں شامل نوجوان سیاسی وابستگیوں سے بالاتر امریکہ کی مصروف ترین زندگی میں اپنے شہر کے نوجوانوں کی رہنمائی کیلئے وقت نکال کر خوش نظر آتے ہیں اور ان کا مرکز شکاگو میں موجود حیدرآباد ہاؤز ہے جہاں حیدرآبادیوں کی بڑی تعداد ہمہ وقت موجود رہتی ہے۔
مسلم تنظیموں میں اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے علاوہ امریکن فیڈریشن آف مسلمس آف انڈین اوریجن (افمی) کو کافی اہمیت حاصل ہے چونکہ ان دونوں تنظیموں میں دنیا بھر کے سرکردہ ایسے شہری موجود ہیں جنہوں نے اپنے شعبوں میں بہترین خدمات انجام دی ہیں۔ ان تنظیموں کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں میں سب سے اہم معاشرتی زندگی کے اصولوں کی تربیت شامل ہیں۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے نظریات کے اتفاق کیا جانا ضروری نہیں ہے لیکن تنظیم میں اپنی جان کو مضبوط انداز میں پھیلایا ہے۔ (ISNA) کے متعلق خود امریکہ میں رہنے والے کئی مسلمانوں کو شکوک و شبہات ہیں اور وہ اسنا کی جانب سے فروغ دیئے جانے والے نظریہ سے اتفاق نہیں کرتے ۔ افمی کی جانب سے تعلیمی میدان میں خدمات انجام دی جارہی ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کی ترقی اور انہیں انصاف کے حصول کیلئے کوششوں میں مصروف شخصیتوں کی حوصلہ افزائی میں بھی افمی کافی سرگرم ہیں۔

عیسائی تنظیموں میں سیلویشن آرمی کے فلاحی کام کافی وسعت حاصل کئے ہوئے ہیں اور اس تنظیم کی جانب سے بے گھر افرادکو رہائش کی فراہمی کے علاوہ طبی سہولیات وغیرہ کی فراہمی کا بھی کام انجام دیاجاتا ہے ۔ تنظیم کی جانب سے کئے جانے والے فلاحی کاموں کو نہ صرف حکومت کی تائید حاصل ہے بلکہ تنظیم کے کاموں کی تکمیل کے لئے تجارتی گھرانوں کی جانب سے مالیہ بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں تنظیم کی جانب سے انجام دی جانے والی فلاحی سرگرمیوں کیلئے مقامی عوام بھی تعاون کرتے ہیں۔ مسیسپی میں چلائی جارہی خالصتاً عیسائی تنظیم مشن مسیسپی جو کہ درحقیقت عیسائی مذہب کی تبلیغ و اشاعت کا ادارہ ہے ، وہ اب بھی کالے اور گورے کے درمیان تفریق کے خاتمہ کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ادارہ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سیاہ و سفید فام باشندوں کے درمیان موجود اختلافات دور کرنے کیلئے وہ خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں کئی تنظیمیں خدمات انجام دے رہی ہیں اور اپنے طور پر اپنی ریاستوں اور عوام کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ معاشرتی زندگی میں مثبت تبدیلی کس طرح لائی جاسکتی ہے ، اس کا اندا زہ مختلف تنظیموں کی تعمیری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے لگایا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان میں غیر سرکاری تنظیموںکے ذریعہ دولت بٹورنے کے کئی واقعات  منظر عام پر آچکے ہیں لیکن امریکی معاشرہ میں غیر سرکاری تنظیم سے وابستگی کے ذریعہ خدمات کی انجام دہی کو فخر تصور کیا جاتا ہے۔امریکی شہری خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کا یہ احساس ہے کہ خدمت خلق کے ذریعہ ہی نجات ممکن ہے اور سماج میں مساوات کو یقینی بنائے جانے پر بھی معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
@infomubashir
[email protected]

TOPPOPULARRECENT