Sunday , January 21 2018
Home / دنیا / امریکی فوجی طاقت کے باوجود کابل کے شمال میں طالبان کا کنٹرول

امریکی فوجی طاقت کے باوجود کابل کے شمال میں طالبان کا کنٹرول

چریکر۔ 25 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) افغان دارالحکومت کابل سے کچھ دور کے فاصلے پر حالیہ امریکی فضائی حملے میں عام شہریوں کی اموات کا ایک اسکینڈل اس بات کی ایک دلخراش یاد ہے کہ ناٹو اور افغان فورسیس کے حملے طالبان کے زیرکنٹرول اس ضلع پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کس طرح ناکام ہوگئے ہیں۔افغان حکومت کے مطابق شمالی کابل کے مضافات سے متصلہ صوبہ پروا

چریکر۔ 25 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) افغان دارالحکومت کابل سے کچھ دور کے فاصلے پر حالیہ امریکی فضائی حملے میں عام شہریوں کی اموات کا ایک اسکینڈل اس بات کی ایک دلخراش یاد ہے کہ ناٹو اور افغان فورسیس کے حملے طالبان کے زیرکنٹرول اس ضلع پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کس طرح ناکام ہوگئے ہیں۔افغان حکومت کے مطابق شمالی کابل کے مضافات سے متصلہ صوبہ پروان سے تخریب کاروں کا صفایا کرنے کیلئے اس ماہ کے کئے گئے حملوں میں بشمول خواتین و بچے، 12 عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ ناٹو کے ان فضائی حملوں کے دو دن بعد طالبان نے کل ایک ریسٹورینٹ کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا تھا جس میں بشمول 13 بیرونی شہری، 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بیرونی شہریوں میں امریکی ، برطانوی، لبنانی اور دیگر شامل تھے۔ اس ہلاکت خیز واقعہ کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے خطرات اجاگر ہوگئے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی فضائی حملوں میں بے قصور افغان مرد، خواتین اور بچوں کی ہلاکت کے انتقام کے طور پر یہ خودکش دھماکہ کیا گیا تھا۔

امریکہ معاملت ناممکن : حامد کرزئی
کابل 25 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر افغانستان حامد کرزئی نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی فوج کو افغانستان میں قیام کی اجازت سے متعلق معاملت ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے کیونکہ ناٹو مشن کی طالبان کے خلاف ایک دہے سے جاری لڑائی کے بعد مقررہ پروگرام کے تحت دستبرداری یقینی ہے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں حامد کرزئی نے حیرت انگیز طور پر امریکہ کے ساتھ باہمی سکیورٹی معاہدہ پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ لویا جرگہ (قومی اسمبلی) نے رائے دہی کے ذریعہ انھیں اس کی اجازت دی تھی۔
حامد کرزئی نے کابل میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ افغانستان دباؤ کے تحت کسی معاہدہ پر بھی دستخط نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے قبول کیا جائے گا۔ اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور ہم اپنی زندگی گزارتے رہیں گے۔ ہماری شرط اول یہ ہے کہ امن پیشرفت عملی طور پر شروع کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT