Friday , June 22 2018
Home / دنیا / امریکی فوجی پروگرام میں شمولیت کیلئے سکھ نوجوان کو عدالت کی اجازت

امریکی فوجی پروگرام میں شمولیت کیلئے سکھ نوجوان کو عدالت کی اجازت

نیویارک ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک انتہائی اہم فیصلہ میں شہر کی ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم سکھ امریکی طالب علم کے حق میں عدالت نے یہ حکم جاری کیا ہیکہ سکھ مذہب میں جن علامات یا اشیاء کو ضروری قرار دیا گیا ہے، وہ ان علامات کو ہٹائے بغیر کسی بھی پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک وفاقی جج نے اکنور سنگھ نامی طالب علم کے حق میں فیصلہ دیا جو

نیویارک ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک انتہائی اہم فیصلہ میں شہر کی ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم سکھ امریکی طالب علم کے حق میں عدالت نے یہ حکم جاری کیا ہیکہ سکھ مذہب میں جن علامات یا اشیاء کو ضروری قرار دیا گیا ہے، وہ ان علامات کو ہٹائے بغیر کسی بھی پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک وفاقی جج نے اکنور سنگھ نامی طالب علم کے حق میں فیصلہ دیا جو لانگ آئی لینڈ کی ہوفسٹرا یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ اسے حکمنامہ جاری کرتے ہوئے یہ اجازت دی گئی ہیکہ وہ یو ایس آرمی ریزرو آفیسرس ٹریننگ کارپس (ROTC) میں داخلہ لے سکتا ہے اور اس کیلئے اسے نہ تو اپنی داڑھی منڈھوانا پڑے گی، نہ بال ترشوانا پڑیں گے اور نہ ہی اپنی پگڑی نکالنا ہوگی۔ 20 سالہ طالب علم جس کی پیدائش اور نشوونما کوئینز نیویارک میں ہوئی، قبل ازیں اسے کالج کے آر او ٹی سی پروگرام میں داخلہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس کی وجہ اس کی وہ مذہبی علامات تھیں جنہیں اس پروگرام میں شمولیت کیلئے مانع قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے حکمنامہ میں بھی واضح کیا ہیکہ فوجی پروگرام میں سنگھ کو شامل کرنے سے انکار دراصل ملک کے RFRA حقوق کی پامالی ہے جو مذہبی آزادی کی طمانیت دیتا ہے۔ اکنور سنگھ چار زبانیں ہندوستانی بول سکتا ہے (انگریزی، پنجابی، ہندی اور اردو) اور اسے اس بات کا پورا یقین ہیکہ وہ ایک دن ملٹری انٹلیجنس آفیسر بنے گا۔

TOPPOPULARRECENT