Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / امریکی فوج میں سکھوں اور دیگر اقلیتی فوجیوں کو مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی اجازت

امریکی فوج میں سکھوں اور دیگر اقلیتی فوجیوں کو مذہبی شناخت برقرار رکھنے کی اجازت

بریگیڈ سطح پر منظوری حاصل کرنا ضروری، سکریٹری آف دی آرمی ایرک فیاننگ کا اعلان

واشنگٹن ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی فوج نے ایک نئے ریگولیشن کو جاری کرتے ہوئے حجاب پہننے والوں، داڑھی رکھنے والوں اور پگڑی پہننے والوں کو امریکی افواج میںشامل ہونے کی اجازت دی ہے اور اس طرح فوج میں اقلیتی نمائندگی کی راہ بھی ہموار کی گئی ہے جن کی مذہبی بنیادوں پر تقررات کی بریگیڈ سطح پر منظوری ضروری ہے جبکہ قبل ازیں سکریٹری سطح پر اس کی منظوری کافی تھی۔ لہٰذا بریگیڈ سطح پر منظوری ملتے ہی امریکی فوج میں اقلیتی نمائندگی کی راہ بھی ہموار ہوجائے گی۔ دریں اثناء کانگریس مین جوکراؤلی نے بھی یو ایس آرمی سکریٹری کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ریگولیشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی نہ صرف سکھ ۔ امریکی برادری کیلئے بلکہ ہمارے ملک کی فوج کیلئے بھی خوش آئند ہے۔ سکھ امریکی امریکہ سے بیحد محبت کرتے ہیں اور اس بات کے عرصہ دراز سے خواہاں تھے کہ انہیں بھی امریکی فوج میں نمایاں نمائندگی حاصل ہو تاکہ وہ بھی امریکی فوجیوں کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کرسکیں۔ آج جو بھی ا علان ہوا ہے وہ اس جانب ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور اس کی فوج بھی طاقتور ہے کیونکہ یہاں مذہبی رواداری کے علاوہ شخصی آزادی کا بھی بیحد احترام کیا جاتاہے۔ دوسری طرف اس فیصلہ کا سکھ امریکیوں کے علاوہ امریکی قانون سازوں نے بھی خیرمقدم کیا ہے کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے امریکی فوج میں سکھوں کی نمائندگی کیلئے مساعی جاری تھی۔ 3 جنوری کے اس اعلان سے قبل سکھ امریکیوں اور دیگر اقلیتوں کو امریکی فوج میں اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ محدود خدمات انجام دینے کی اجازت تھی اور ان کی خدمات کو باقاعدہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقررہ مدت کے بعد انہیں اپنی خدمات کی تجدید کروانی پڑتی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سکھ ۔ امریکن کولیشن نے اس سلسلہ میں عرصہ دراز سے اپنی تحریک جاری رکھی تھی۔ تاہم اب جبکہ صورتحال ان کی تائید میں نظر آرہی ہے تو انہوں نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔ تاہم یہ کہنے سے رک نہ سکے کہ جو کچھ ہوا وہ اچھا ہوا لیکن اب بھی وہ نہیں ہوا جو ہم چاہتے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی فوج میں جن پالیسیوں پر عمل کیا جاتا ہے انہیں مکمل طور پر تبدیل کرنے یا ان میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی تمام اقلیتیں فوج میں اپنی خدمات بخوبی  انجام دے سکیں۔ کولیشن کی لیگل ڈائرکٹر ہرسمرن کور نے کہا کہ جو بھی ہوتا ہے وہ اچھے کیلئے ہوتا ہے۔ کم سے کم اس اعلان کے ذریعہ ملک کی اقلیتوں کے تئیں رواداری کا اظہار تو کیا گیا ہے۔ اس طرح اب  نہ صرف سکھ بلکہ دیگر اقلیتیں بھی اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے امریکی فوج میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے موقف میں ہوں گی۔ سکھوں کو داڑھی اور پگڑی کی اجازت ہوگی۔ مسلمانوں کو بھی حجاب پہننے (خواتین) کی اجازت ہوگی لیکن یہ بھی دیکھا جائے گا کہ اگر مندرجہ بالا تمام مذہبی شناختیں فوجی خدمات کی راہ میں رکاوٹیں بن رہی ہیں تو انہیں ترک کرنے کا حکم بھی دیا جاسکتا ہے اور یہ تمام فیصلے بریگیڈ کمانڈرس کریں گے۔ یاد رہیکہ گذشتہ ہفتہ ہی نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ سکھ افسران کو پگڑی پہننے اور داڑھی رکھنے کی اجازت ہوگی۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ 1981ء میں سکھ ۔ امریکی فوجیوں پر امتناع عائد کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ سال چار سکھ امریکی فوجیوں بشمول کیپٹن سمرت پال سنگھ نے امریکی فوج کے خلاف ایک قانونی عرضداشت کا ادخال کیا تھا۔

 

نائٹ کلب حملہ : پولیس کے دھاوے جاری، مزید گرفتاریاں
استنبول ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پولیس نے نئے سال کے موقع پر یہاں کے ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والے جنونی کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس نے 39 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جس میں دو ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ایک ہاؤسنگ کامپلکس پر دھاوے کئے اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔

TOPPOPULARRECENT