Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / امریکی مرینس میں ظلم و زیادتی ، مذہبی تعصب کا کلچر

امریکی مرینس میں ظلم و زیادتی ، مذہبی تعصب کا کلچر

رِکروٹ راحیل صدیقی کی موت کی قابل مذمت داستان
جانیٹ ریٹمن ؍ رابرٹ کلارک
امریکہ کے پیریس آئی لینڈز میں بھرتی ہونے والوں کو نہ صرف سخت تھکا دینے والے کاموں پر مجبور کیا جاتا ہے بلکہ ان پر رعب جماتے ہوئے انھیں بہت تنگ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ سب اُس سے بہت زیادہ ہے جس کا تجربہ دیگر امریکی ملٹری کیمپس میں ہوتا ہے۔ کیا کوئی فوجی ؍ بہادر جنگجو کو تیار کرنے کا واقعی یہی واحد طریقہ ہے؟ یہ سوال تب اُبھرا جب ایک مسلم رِکروٹ کی موت ہوگئی اور مرینس میں ظلم و بہیمیت کا کلچر آشکا ہوا۔

یہ 7 مارچ 2016ء کو رات دیر کی بات ہے جب غزالہ صدیقی نے فون کی گھنٹی سنی اور اپنے بیٹے کی آواز سننے کیلئے تیزی سے آگے بڑھیں۔ فون کرنے والے کی سانس پھول رہی تھی اور بمشکل چند الفاظ ادا کرپارہا تھا۔ پھر خاموشی ہوگئی۔ ماں نے اپنے بیٹے کو پکارا، ’’راحیل؟‘‘ فون کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ یہ کال شاید پانچ سکنڈ کا رہا۔ ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقہ ٹیلر، مشی گن میں رات کے وقت اپنے رہائشی کمرہ میں غزالہ بڑی فکرمند ہوئیں۔ گزشتہ روز صبح ہی راحیل (20 سالہ مرین کورز رِکروٹ) پیریس آئی لینڈ، ایس سی پر بوٹ کیمپ کیلئے روانہ ہوا تھا۔ اس نے پہنچتے ہی اپنے والدین کو فون کے ذریعہ مطلع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ غزالہ اور اُن کے شوہر مسعود اس فون کال کے منتظر تھے۔ مگر جب یہ کال آیا تو عجیب معاملہ تھا اور پس منظر میں کان پھاڑ دینے والی آواز سنائی دے رہی تھی۔ غزالہ تو یقین نہیں کرپائیں کہ فون کرنے والا اُن کا بیٹا ہی ہے۔ صبح میں انھوں نے راحیل کے رکروٹر کو فون کیا اور کہا: ’’میرے بیٹے کی آواز کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ وہ آواز میرے بیٹے کی معلوم نہ ہوئی۔‘‘ بہرحال غزالہ کو اپنے بیٹے کا حشر فوری طور پر معلوم نہیں ہوا۔
صدیقی فیملی جو 1990ء کے دہے میں پاکستان سے ترک وطن کرکے آئی تھی، اپنی اولاد میں سب سے بڑے اور اکلوتے بیٹے کی مرینس (Marines) میں بھرتی نہیں چاہتی تھی۔ دُبلا پتلا اور کسرتی بدن سے عاری راحیل ہمیشہ ہی اپنے کمپیوٹر پر ویڈیو گیمز کی ڈیزائننگ میں مگن رہا کرتا تھا۔ 2014ء میں ٹیلرز ہیری ایس ٹرومن ہائی اسکول سے فراغت کے ساتھ اسے مشی گن اسٹیٹ کیلئے مکمل اکیڈمک اسکالرشپ حاصل ہوئی۔ کئی ماہ صلاح و مشورہ کے بعد اُس نے یونیورسٹی آف مشی گن کے ڈیئربون کیمپس کو منتخب کیا، اور وہاں روبوٹکس انجینئرنگ میں اپنے نئے پروگرام کی دلچسپی کی بناء سپٹمبر 2014ء میں داخلہ لے لیا۔ لیکن اگلے جولائی میں یعنی اپنے نئے تعلیمی سال کی تکمیل کے بعد راحیل نے یکایک اپنے کیریئر کا رُخ بدلتے ہوئے اپنی فیملی کو واقف کرایا کہ اُس نے کالج چھوڑ کر مرینس میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔غزالہ کو اس فیصلے کی وجہ کچھ سمجھ نہ آئی۔ ماں نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش میں کہا: ’’تم دماغی طور پر تیز ہو، ذہین ہو … پھر یہ فیصلہ کیوں؟‘‘ راحیل نے ماں کو مطمئن کرنے کی سعی کی اور اپنے والدین سے کہا کہ یہ ’’سنہری موقع‘‘ ہے۔ ’’مرینس کارپس (Marine Corps) میں تین سال گزار لوں تو میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔‘‘ اگلے آٹھ ماہ راحیل بوٹ کیمپ کی مشقتوں کیلئے تیاری کرتا رہا، بیسمنٹ میں ’پُل اَپ بار‘ لگوایا، پروٹین والے مشروبات پینا شروع کیا، وزن اُٹھانے لگا، اور تیرنا سیکھ گیا۔ اُس نے اپنے والدین سے وعدہ کیا کہ وہ بدستور کھانے پینے میں شرعی قوانین کی تعمیل کی کوشش کرے گا اور کوئی بھی حرام چیز سے دور رہے گا۔ ’’یہ اقدام اچھا رہے گا، ماں۔ پریشان نہ ہوں۔ میں بالکل تیار ہوں۔‘‘ 6 مارچ کو وداع ہونے سے قبل یہ راحیل کے آخری الفاظ تھے۔ اور پھر وہ فون کال قطعی رابطہ ثابت ہوگیا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی آواز سنی۔

راحیل صدیقی کی پیدائش اور پرورش ڈیٹرائٹ کے تقریباً 20 میل جنوب مغرب میں وسیع سب اَربن انڈسٹریل ویسٹ لینڈ میں ہوئی جسے ڈاؤن ریور بھی کہتے ہیں۔ اس علاقے میں تین ملٹری رکروٹنگ اسٹیشنس ہیں۔ راحیل پبلک ہاؤزنگ میں پروان چڑھا اور ابتر حالت والے اپنے ہوم ٹاؤن سے نکل کر اسکول میں رہتے ہوئے وہ خاصا مطمئن دکھائی دیتا تھا۔ ٹرومن ہائی اسکول میں سابق گائیڈنس کونسلر جیری ابراہم جن سے راحیل اکثر رجوع ہوا کرتا تھا، اُن کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ چیلنجز چاہتا تھا۔ عمدہ اسکولی نتیجہ کی دھن میں راحیل کی عملاً کوئی سماجی زندگی نہ تھی۔ ’’وہ دنیا کو شاندار مقام کے سوا کچھ نہیں سمجھتا تھا،‘‘ یہ تاثر کیری لی کا ہے، جو اُس قریبی ہوم ڈپو میں راحیل کی سوپروائزر رہی، جہاں اس نے پارٹ ٹائم جاب کے طور پر کسٹمر۔ سرویس ڈیسک پر کام کیا تھا۔ ’’دیانت داری سے کہوں تو میں نہیں سمجھتی اسے ایسی نفرت انگیزی کے وجود کا علم تھا۔‘‘ملٹری رکروٹرز کا ٹرومن ہائی اسکول کا دورہ کرنا معمولات میں سے تھا۔ مسلح خدمات میں انتخاب کے معاملے میں سب سے محتاط مرینس ہفتے میں دو مرتبہ کیمپس کو آتے۔ ابراہم کا کہنا ہے کہ وہ ایسے بچوں پر نظریں مرکوز کرتے ہیں جو کالج کی طرف بڑھتے نظر آئیں اور کامیاب ہونے کے قابل دکھائی دیں۔ وہ بلاتردد ایسے اسٹوڈنٹس کو مسترد کردیتے ہیں جو ان کے معیارات پر پورے اترنے میں ناکام رہیں، اور اس معاملے میں جانچ کی بڑی کسوٹی ’’آرمڈ سرویسیس ووکیشنل اپٹیٹیوڈ بیٹری (Asvab) ٹسٹ ہوتا ہے۔ اپنے کئی ہم جماعتوں کی طرح راحیل نے بھی ’اے ایس وی اے بی‘ ٹسٹ دیا اور اونچے نشانات حاصل کئے۔ اس کے ٹیلنٹ، جوش و جذبہ اور بھرپور مرکوزیت کو دیکھتے ہوئے وہ رکروٹرز کیلئے پُرکشش امیدوار بن کر اُبھرا تھا۔لیکن ملٹری سے کبھی راحیل کو دلچسپی نہ رہی۔ کالج ہی اُس کا مقصد تھا۔ اُس نے فیس بک پر اپنے دوستوں سے صلاح مانگی تھی کہ اسے سب سے چیلنج بھرے انجینئرنگ پروگرام کیلئے کیلئے کہاں جانا چاہئے؟ وہ بڑے فیصلوں کیلئے اکثر رائے مشورہ لیا کرتا تھا، راحیل کے ہم جماعت اور دوست گیبرئیل گوفورتھ نے اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وقفے وقفے سے راحیل کی آواز میں عجیب اضطرابی شور سننے کا سابقہ پڑتا تھا۔ ناکامی کا اندیشہ شاید اسے دہشت زدہ کرتا تھا۔
ہائی اسکول کے بعد راحیل نے اپنی ماں سے کہا کہ انھیں معمولی نوکریاں اب مزید نہیں کرنا چاہئے اور خود اُس کو اپنی فیملی کی آمدنی میں حصہ لگانے کا موقع دیا جائے۔ والد مسعود کی ایک آٹو پارٹس فیکٹری میں ملازمت سے کچھ خاص کمائی نہیں ہوپاتی تھی، اور راحیل کو فکر تھی کہ کس طرح فیملی اس کی 16 سالہ بہن کو کالج بھیجنے کی رقم جٹا پائے گی۔ اُس نے اپنے ایک دوست کو ہمراز بناتے ہوئے کہا، ’’اس صورتحال کا سامنا تو کرنا ہی ہے۔ اسے (بہن کو) فُل اسکالرشپ شاید نہ مل سکے، اور میرے والدین اسے کالج میں داخلہ دلوانے کے متحمل نہیں، لہٰذا مجھے یقینی بنانا ہے کہ وہ کالج ضرور جائے۔‘‘ 18 سالہ راحیل کیلئے دو طرفہ بوجھ کچھ زیادہ بھاری ہورہا تھا۔ اس کی تعلیم پر اثر پڑنے لگا۔ جلد ہی اس کا گریڈ ، C تک گھٹ گیا جو اُسے منظورہ 2,000 ڈالر کی اسکالرشپ کیلئے خطرہ کی گھنٹی تھی۔ یہ اُس کیلئے ایک اور مشکل صورتحال تھی۔ اس بار بھی اس نے اپنے ایک ہم جماعت و دوست ناتھن پائیکر سے بات کی۔ آخرکار خود یہ فیصلہ کیا کہ سردست اپنی کالج کلاسیس ترک کرتے ہوئے موسم بہار میں ازسرنو شروعات کی جائے۔ اور اس نے ایسا ہی کرتے ہوئے تین A اور ایک B گریڈ اسکور کئے۔ لیکن ناتھن نے بتایا کہ کلاسیس ترک کرنے کا عین ممکن یہی مطلب ہوا کہ راحیل پر یونیورسٹی آف مشی گن کی وہ رقم قرض ہوگئی جو اسے بطور اسکالرشپ دی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں آنے والے سال بھی اُس کا امدادی پیاکیج لیت و لعل میں پڑسکتا تھا۔ اور شاید یہی وجہ رہی کہ راحیل نے ایک سال بعد ہی کالج کی تعلیم ترک کرتے ہوئے مرینس میں بھرتی ہونے کا فیصلہ کیا!

16 جون 2015ء کو عرصہ بعد فیس بک پر راحیل کا پیام آیا تھا: ’’میں ملٹری میں شمولیت پر غور کررہا ہوں۔ ہوسکتا ہے مرینس۔‘‘ تین ہفتے بعد 8 جولائی کو اُس نے ’’مرینس ڈیلیڈ انٹری پروگرام‘‘ میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی۔ اس جگہ راحیل نے تقریباً آٹھ ماہ اپنے رکروٹر کی سرپرستی میں گزارے، جس نے صدیقی فیملی کو بتایا کہ راحیل اُس کا نہایت پُرجوش ’’پولی‘‘ (مرینس کے اس پروگرام میں تربیت پانے والوں کیلئے مستعمل اصطلاح) ہے۔ غزالہ کو اپنے فرزند میں تبدیلیوں پر بڑی خوشی ہورہی تھی، جو اَب ہر دن صبح 4 بجے نیند سے بیدار ہوجاتا، جیم میں کسرت کرتا ہے۔ راحیل کی خواہش پر غزالہ رکروٹنگ آفس واقع ٹیلر گئیں، جہاں اُن کا کہنا ہے کہ رکروٹرز نے انھیں یقین دلایا کہ راحیل کی سلامتی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس دوران راحیل نے اپنے والدین کو بتایا کہ مرینس میں بھرتی اسے ایف بی آئی میں شمولیت کی تیز راہ پر ڈال دے گی، جس پر انھیں مکمل حیرانی ہوئی کہ یہ اُس کی زندگی کا خواب بن چکا تھا۔
بوٹ کیمپ کیلئے روانگی سے چند ہفتے قبل راحیل کے دوست حسین شہاب جس نے ہوم ڈپو میں اُس کے ساتھ کام کیا تھا، اسے متنبہ کیا کہ ’’چوکس رہنا۔ تم نہیں جانتے وہاں کس قسم کے لوگ ہیں۔ تم نہیں جانتے دیگر لوگوں کی کیا سوچ ہوتی ہے‘‘۔ مرینس امریکہ کی سب سے چھوٹی روایتی ملٹری فورس محض 184,000 سرگرم عمل فوجیوں پر مشتمل ہے۔ وہ ملٹری کے سب سے نہایت الگ تھلگ فوجی بھی ہوتے ہیں (ممکنہ طور پر SEALs Navy کے استثنیٰ کے ساتھ ) جن کا مضبوط بندھن یا گروہ سے دلی لگاؤ بڑھ کر ضابطوں، روایتوں اور مصیبت میں توجہ دینے کے جذبے سے کہیں آگے نکل جاتا ہے اور مرینس کا ماننا ہے کہ یہی باتیں انھیں عام شہریوں اور تمام دیگر ملٹری برانچس سے الگ کرتی ہیں۔ بہرحال عام شہری سے مرین بننے کا مشقتوں بھرا سفر شروع ہوتا ہے جسے ’ٹرانسفارمیشن‘ کہتے ہیں اور اس دوران ہر رکروٹ کو ’’ڈرل انسٹرکٹر‘‘ (D.I) کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا ہے، جو اُن کیلئے ہر اعتبار سے باس ہوتا ہے۔ راحیل نے بہن کی اعلیٰ تعلیم اور فیملی کی مالی مدد کے عزم کے ساتھ ساتھ ایف بی آئی میں شمولیت کے خواب سجائے مرینس میں شمولیت تو اختیار کرلی لیکن اسے ڈرل انسٹرکٹرز کے تعصب، تنگ نظری اور اسلام و مسلمانوں سے بے بنیاد خوف کی بناء رکروٹس پر ممکنہ ظلم و زیادتی اور بہیمیت کا شاید کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔ یہیں سے شروع ہوتی ہے راحیل کی زندگی کے اختتام کی کہانی۔

سارجنٹ جوزف فیلکس نہایت جارح ڈرل انسٹرکٹرز میں سے تھا۔ وہ بالخصوص واقعہ 9/11 کے بعد سے اسلام اور مسلمانوں سے بہت نفرت کرنے لگا تھا اور ہر مسلم کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ، خاص طور پر رکروٹس اور مرینس میں شامل مسلمان تو اُسے بہت خطرناک لگتے تھے۔ چنانچہ پلاٹون 3054 میں شامل مسلم رکروٹ امیر بورمیشے اُس کی نظروں میں آگیا۔ بس پھر کیا تھا، اسلام و مسلمانوں کے خلاف اُس کے سینے میں بھری نفرت کی آگ جلنے لگی۔ وہ وقفے وقفے سے شراب کے نشہ میں دھت آتا اور امیر کو طرح طرح سے اذیتیں دیتے ہوئے یہی پوچھا کرتا کہ تیرا مذہب کیا ہے، کیا تو مسلمان ہے، کیا تو دہشت گرد ہے، تو کس کیلئے کام کرتا ہے، کیا تو جاسوس ہے، تجھے جیسے ہی موقع ملے تو ہم کو ہلاک کردینے آیا ہے! فیلکس عجیب جنونی شخص تھا۔ وہ کبھی کبھی امیر کو کانٹوں بھرا بُرش دے کر کسی دیگر نئے مرین کو ضرب لگانے کی ہدایت کے ساتھ کہتا، ’’ہمیں دِکھا کہ تو دہشت گرد ہے‘‘۔ فیلکس ایسا کرتے ہوئے خوش ہوتا اور کہتا کہ طالبان ایسا ہی کرتے ہیں۔ بعدازاں پلاٹون 3054 کے نئے ممبر 19 سالہ جیک ویور کی شکایت اور بیان کے ساتھ امیر و دیگر کے بیانات پر پیریس آئی لینڈ میں رکروٹس کے ساتھ ڈرل انسٹرکٹرز کے طرزعمل کی تحقیقات ضرور ہوئی لیکن صرف 10 منٹ چلی اور بات آئی گئی ہوگئی۔ راحیل 7 مارچ 2016ء کی رات بس سے اُترا۔ بڑی رات ہوچکی تھی، اور وہ تھکا ہوا تھا، اُسے کچھ پتہ نہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وہ ابتدائی کاغذی کارروائی سے گزرتے ہوئے پیریس آئی لینڈ پر چار یوم بعد پلاٹون 3042 میں بھرتی کیا گیا، جہاں اُس کے ساتھ لگ بھگ 60 نئے رکروٹس بھی شامل ہوئے۔ بعدازاں سارجنٹ فیلکس وہاںآیا اور تمام نئے رکروٹس سے کہا، ’’میں تمہارا سینئر ڈرل انسٹرکٹر ہوں‘‘۔ اُس نے ان سے ٹھوس پختگی، انصاف، وقار اور خلوص کے ساتھ پیش آنے کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی انھیں متنبہ کیا کہ غلط برتاؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ٹریننگ کے پہلے دن کچھ غیرمتوقع تو نہیں ہوا لیکن رکروٹس کو بہت سخت تربیت سے گزرنا پڑا۔ او ریہ شاید راحیل پر گراں گزرا۔ اپنے پلاٹون میں انتخاب کے اندرون 24 گھنٹے 13 مارچ کی صبح راحیل نے اپنے ڈرل انسٹرکٹرز پر واضح کردیا کہ وہ ٹریننگ جاری رکھنے کی بجائے مرجائے گا۔ اگر اسے مجبور کیا گیا تو وہ ’’اسکواڈ ۔بے‘‘ کی کھڑکی سے باہر چھلانگ لگادے گا۔ جب کوئی رکروٹ خودکشی کی دھمکی دے تو سب کچھ رُک جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسٹرکٹرز نے راحیل سے وجہ جاننے کی کوشش کی اور کہا: تمہاری ماں کیا سوچے گی جب تم مرین بنے بغیر گھر لوٹ جاؤگے؟ اُس نے کہا، ’’میں میری ماں کو الوداع کہہ کر خود کو ختم کرلوں گا‘‘۔ مرینس نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے راحیل کا بیلٹ اور جوتے کی ڈوریاں لے لئے۔ اُس اڈہ کے عہدیداروں نے دیکھا کہ راحیل کو ہاسپٹل بھیج دینے کیلئے موزوں معاملہ نہیں ہے۔ چنانچہ اُسے جوتے کی ڈوریوں اور بیلٹ کے بغیر ہی ایک دیگر پلاٹون کے اسکواڈ بے کو منتقل کردیا گیا۔

اگلی صبح فیلکس راحیل کو لے کر رکروٹ لائزن سرویسیس گیا، جو ایسی باتوں کا پتہ چلانے کیلئے قائم دفتر ہے کہ آیا رکروٹس کچھ دھوکہ دہی سے بھرتی ہوئے، مثلاً خودکشی کے رجحان کی بابت انکشاف نہیں کئے، وغیرہ۔ وہاں راحیل کے تعلق سے کچھ خاص تشویشناک بات اخذ نہ ہوئی اور اسے واپس ٹریننگ کیلئے بھیج دیا گیا۔ اس دوران راحیل نے اپنے ساتھ موجود ملٹری پولیس کو رازدارانہ انداز میں بتایا کہ وہ ڈرل انسٹرکٹرز کی ضربات نہیں سہہ سکتا۔ پلاٹون 3042 کا سینئر ڈرل انسٹرکٹر اپنے ماتحت ڈرل انسٹرکٹرز کو سکھاتا ہے کہ رکروٹس کو کامیاب تربیت دینے کی خاطر اُن سے نفرت کرنا ضروری ہے۔ وہ سب رکروٹس کو گندے ناموں سے پکارتے ہیں۔ ایک روسی نژاد رکروٹ سے پوچھا جاتا کہ آیا وہ روسی جاسوس ہے۔ راحیل کو دہشت گرد کہا گیا۔ فیلکس نے ایک مرتبہ پوچھا کہ آیا اُسے پگڑی چاہئے۔
17 مارچ کو پلاٹون 3042 کو ہدایت ملی کہ مرین کورز مکسڈ مارشل آرٹس پنچنگ ٹکنیک کی آزمائشیں کی جائیں۔ اُس روز ڈرل کے دوران طاقتور رکروٹس کو کمزور یا ناقص مظاہرہ کرنے والے رکروٹس کے خلاف ڈال دیا گیا اور پھر مکوں کی آزادانہ بارش کا موقع دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پلاٹون کے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ راحیل نشانہ بنائے گئے رکروٹس میں تھا۔ 18 مارچ کو رات دیر گئے تقریباً 2 بجے راحیل نے اپنے ساتھی کو جگایا، کیونکہ وہ اپنے سوجے ہوئے گلے سے تکلیف میں تھا اور ٹھیک طرح بات بھی نہیں کرپارہا تھا۔ پھر دو ڈرل انسٹرکٹرز آئے اور پہلے تو وہ راحیل پر خوب چیخے چلائے مگر جب راحیل نے ایک نوٹ لکھ کر انھیں اپنی تکالیف سے واقف کرایا تو انھوں نے اُسے طبی امداد کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اور چند گھنٹوں بعد اسے اسکواڈ بے کے اگلے حصے پر طلب کیا گیا، جہاں وہ سارجنٹ فیلکس کے روبرو کھڑا تھا لیکن اپنے گلے کی بُری حالت کی وجہ سے روایتی سلامی نہیں دے پایا۔ اُس کی خاموشی نے ایسا لگا کہ سینئر ڈرل انسٹرکٹر کو غصہ دلایا۔ وہ چلایا کہ ’’دوڑ پڑو!‘‘ راحیل نے سارے اسکواڈ بے پر ایک جانب سے دوسری جانب 144 فیٹ دوڑ لگائی۔ فیلکس اسے بار بار دوڑاتا رہا!راحیل کا پلاٹون کا ایک ساتھی چپکے سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اُس کا کہنا ہے کہ یکایک راحیل نے اپنا گلا تھام لیا، رونے اور چلانے لگا اور فلور پر گرگیا۔ فیلکس چلایا: ’’اُٹھو، صدیقی! میں جانتا ہوں تم بناوٹی پن کررہے ہو۔ اُٹھو!‘‘اس مرحلے پر رپورٹس مختلف ہیں۔ راحیل ظاہر طور پر بے ہوش ہوگیا تھا۔ ایک ڈرل انسٹرکٹر نے دعویٰ کیا کہ اُس نے راحیل کو ہوش میں لانے کیلئے اُس کے سینے پر اپنے ہاتھوں سے مالش کی۔ دیگر رکروٹس اور ڈرل انسٹرکٹرز کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ تاہم پلاٹون کے ایک ساتھی نے بتایا کہ راحیل فلور پر پڑا تھا، جس پر جھک کر فیلکس نے اُسے طمانچہ رسید کیا۔ اور دوبارہ بہت زور سے مارا۔ اس پر راحیل ہوش میں آکر کسی طرح کھڑا ہوگیا اور فوری دوڑنے لگا۔ اُس نے اسکواڈ بے پر تیزی سے دوڑتے ہوئے دروازے سے اندرونی حصے میں چھلانگ لگا دی اور شدید زخمی ہوگیا۔ پھر اسے فضائی راستہ سے بیوفورٹ میموریل ہاسپٹل کو پہنچایا گیا، جہاں ایمرجنسی روم میں ایک گھنٹے کی متواتر کوشش کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ راحیل کو زیادہ بہتر سطح کی نگہداشت درکار ہے۔ وہ گرنے کے تین گھنٹوں بعد میڈیکل یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا واقع چارلسٹن کو پہنچا دیا گیا۔ تاہم ، بہت تاخیر ہوچکی تھی! اُس کی زندگی بچانے زائد از ایک گھنٹہ کی کوششوں کے بعد 10:06 بجے اسے مردہ قرار دیا گیا!

اگلے روز اُسی اسپتال میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ راحیل کی موت اُس کے گرنے کے دوران شدید نوعیت کے صدمہ سے ہوئی۔ صدیقی فیملی کیلئے صدمہ پر شدید تر صدمہ کے مصداق کئی روز بعد بیوفورٹ کاؤنٹی کے تفتیشی افسر ایڈوارڈ ایلن نے قطعی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دستیاب ٹریک ریکارڈ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کی روشنی میں راحیل نے خودکشی کرلی!
راحیل کی موت کے ایک ہفتے بعد اُس کی نعش مشی گن میں اس کے والدین کے پاس بھیجی گئی۔ تجہیز و تکفین کے دوران صدیقی فیملی حیرانی و دہشت سے اپنے سپوت کو دیکھ رہی تھی۔ اُس کے ہاتھ، سینہ، پیٹ اور پیر سب نیلے تھے۔ گردن کے اطراف بیلٹ کے نشان تھے، جس کا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تذکرہ نہیں کیا گیا۔ غزالہ صدیقی کو لگا کہ اُن کے لخت جگر کو شدید جسمانی اذیت کا شکار بنایا گیا۔
ڈیٹرائٹ میں صدیقی فیملی کی ڈیموکریٹک کانگریس رکن ڈیبی ڈینگل کو ایک ذریعہ سے معلوم ہوا کہ مذہبی تعصب نے شاید راحیل کی موت میں رول ادا کیا۔ اپریل میں ڈیبی نے مرین کمانڈنٹ جنرل رابرٹ نیلر کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے اس معاملے کی ’’غیرجانبدارانہ انکوائری‘‘ کرانے پر زور دیا۔ اس کے بعد سے ڈیبی کو گمنام فون کال آنے لگے کہ مرین اُمور سے دور ہی رہیں۔ راحیل کی موت کی سرکاری تحقیقات زائد از ایک سال چلی اور اس دوران صدر اوباما کو بھی بے قصور رکروٹس کے متفکر متعلقین کی طرف سے گمنام ای میل وصول ہوا کہ اُن کے بچوں سے ناروا سلوک ہورہا ہے۔ بہرحال 8 سپٹمبر 2016ء کو مرین کورز نے تین علحدہ تحقیقات کے نتائج جاری کئے۔ اُسی روز کورز نے اعلان کیا کہ 20 مرینس بشمول ڈرل انسٹرکٹرز کی تین ٹیموں، کئی جونیر آفیسروں اور دیگر کو ڈیوٹی سے فارغ کردیا گیا اور مزید تحقیقات کے نتائج آنے تک انھیں سزا کا سامنا ہے۔ 7 اگست کو سارجنٹ فیلکس بھی ٹرائل کا سامنا کرے گا اور یہ کارروائی کم از کم دو ہفتے چلنے کی توقع ہے۔ اُس کے خلاف الزامات ملٹری ڈسپلن کی تکنیکی خلاف ورزیوں سے متعلق ہیں؛ اسے بڑے فوجداری الزامات جیسے حملہ کا سامنا نہیں ہوا ہے۔ صدیقی فیملی کو تاسف ہے کہ یہ الزامات ناکافی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT