Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / امریکی مسلمانوں کیلئے اُن کے پڑوسی غیرمسلم ’’دوست ‘‘ لیکن ٹرمپ ’’دشمن ‘‘

امریکی مسلمانوں کیلئے اُن کے پڑوسی غیرمسلم ’’دوست ‘‘ لیکن ٹرمپ ’’دشمن ‘‘

اسلام اور جمہوریت کے درمیان کوئی ٹکر اؤ نہیں ، پیو ریسرچ کی نئی سروے رپورٹ

نیویارک۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی میعاد کے آغاز میں ہی یعنی پہلے دو مہینوں میں انہیں تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا جہاں ٹرمپ انتظامیہ نے مسلمانوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا تھا تاہم اگر مسلمان شکایتی لہجہ اپناتے ہیں تو انہیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ امریکی شہریوں نے انفرادی طور پر ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون بھی کیا اور اس تعاون نے امریکی مسلمانوں میں امید کی کرن جگائی ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ مسلمانوں کو بھی امریکی سماج میں مکمل طور پر قبول کرلیا جائے گا۔ پیو ریسرچ سنٹر کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق امریکی مسلمانوں کی آبادی کا تین چوتھائی حصہ ایسا ہے جو ٹرمپ کو اپنا ’’دوست‘‘ نہیں سمجھتا یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ ٹرمپ انہیں اپنا نہیں سمجھتے۔62%امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی گئی ناانصافیاں اور زیادتیوں کی بنیاد پر وہ اسلام کو ایک قومی دھارے کا حصہ نہیں سمجھتے جبکہ مسلمانوں کی نصف تعداد کا بھی استدلال ہے کہ امریکہ میں ان کے غیرمسلم دوستوں اور ساتھیوں کی جانب سے ان کی ہر ممکنہ حوصلہ افزائی کی گئی اور یہ تیقن دیا گیا کہ وہ (مسلمان) اپنے آپ کو یکا و تنہا نہ سمجھیں۔ یہ تبدیلی گزشتہ سال دیکھی گئی جبکہ گزشتہ سے پیوستہ سال میں یہ تناسب کم تھا۔ 70% مسلمانوں کا یہ ایقان ہے کہ امریکہ میں اگر رہنا ہے تو صرف محنت کئے جاؤ جس کے بہرصورت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ محنت کرنے والوں اور چیلنجس سے نہ گھبرانے والوں کے لئے امریکہ کسی جنت سے کم نہیں۔ پیو محققین کے مشیر اور پرنسٹن یونیورسٹی پالیٹیکل سائنس داں امان جمال نے بتایا کہ اس وقت امریکی مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ دیگر امریکی شہریوں نے انہیں سمجھنا شروع کردیا ہے اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کررہے ہیں۔ جمال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور جانبدارانہ رویہ میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور اگر کسی مسلمان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو آج ایک اوسط امریکی شہری رنجیدہ ہوکر یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ’’میرے مسلمان پڑوسی کے ساتھ یہ ٹھیک نہیں ہورہا۔ میں اس کے دروازے پرجاکر دستک دیتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ خیریت سے ہے یا نہیں‘‘۔ پیو نے 2007ء سے امریکی مسلمانوں سے متعلق اپنی تیسری سروے رپورٹ جبکہ جاریہ سال 20 جنوری کو ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اپنی پہلی سروے رپورٹ پیش کی ہے۔ ٹرمپ جنہوں نے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے 6 مسلم ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ پر امتناع سے اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔ 23 جنوری تا 2 مئی کے درمیان تقریباً 100 بالغ امریکی شہریوں کی بذریعہ لینڈ لائن اور سیل فون رائے طلب کی گئی جس کے لئے انگریزی، عربی، فارسی اور اُردو زبان کا استعمال کیا گیا۔ گزشتہ کچھ ماہ مسلمانوں کے اسکولس اور مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ پیو سروے میں مسلمانوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جس میں مسلمانوں پر اعتبار نہ کرنا، انہیں دھمکانا یا پھر انہیں غیرمہذب اور نازیبا ناموں سے پکارنا وغیرہ۔ جہاں تک مسلم خواتین کا سوال ہے تو ان کا کہنا ہے کہ سڑک پر چلنے والے کسی مسلمان مرد کی شناخت آسان نہیں ہوتی لیکن مسلم خواتین جو عام طور پر حجاب کا استعمال کرتی ہیں، انہیں فوری پہچان لیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات بھی رونما ہوئے جہاں انہیں ’’دہشت گرد‘‘ تک کہا گیا۔ ان تمام واقعات کے باوجود حالیہ دنوں میں امریکی مسلمانوں میں امریکہ کے تئیں اپنائیت کے شعور میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ 89% امریکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسلمان اور امریکی ہونے پر فخر ہے جبکہ دوتہائی مسلمانوں نے کہا کہ اسلام اور جمہوریت کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔

TOPPOPULARRECENT