Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا آئندہ ہفتہ دورۂ ہندوپاک

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کا آئندہ ہفتہ دورۂ ہندوپاک

آج سے شروع ہونے والے پانچ ممالک کے دورہ
میں سعودی عرب، قطر اور سوئٹـزرلینڈ بھی شامل
خلیجی بحران، صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء کی نئی پالیسی
اور دیگر علاقائی موضوعات ایجنڈہ میں شامل
ٹرمپ کے انتہائی قابل اعتماد وزیر کا توقعات پر پورا
اترنے سخت امتحان

واشنگٹن ۔ 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتہ ہندوستان اور پاکستان کے اہم دوروں پر روانہ ہورہے ہیں جو دراصل ان کے ایک ہفتہ طویل پانچ ممالک کے دوروں میں شامل ہیں جن میں سعودی عرب، قطر اور سوئزرلینڈ دیگر تین ممالک ہیں۔ کل سے شروع ہونے والے دورہ میں سب سے پہلے ٹلرسن سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ حکومت سعودی عرب اور عراق کے درمیان منعقد شدنی کوآرڈینیشن کونسل میٹنگ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ یمن میں جاری خونریزی سے متعلق بھی ٹلرسن سعودی قائدین سے بات چیت کریں گے اور خلیجی بحران، ایران اور دیگر علاقائی اور دورخی موضوعات بھی زیربحث آئیں گے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھرنوریٹ نے یہ بات بتائی۔ سعودی عرب کے بعد ٹلرسن دوحہ روانہ ہوں گے جہاں وہ قطری قائدین کے علاوہ امریکی فوجی عہدیداروں سے مشترکہ انسداد دہشت گردی کی مساعی، خلیجی بحران اور دیگر علاقائی و دورخی موضوعات پر بات چیت کریں گے۔ نوریٹ نے بعدازاں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹلرسن بحیثیت وزیرخارجہ جنوبی ایشیاء کا اپنا پہلا دورہ کریں گے۔ اس طرح ایشیاء کیلئے ٹرمپ نے جس نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، اس جانب ٹلرسن کا دورہ پہلی پیشرفت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں ٹلرسن پاکستان کے سینئر قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے پاکستان کے تئیں امریکہ کی مسلسل دورخی تعاون، ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی کی کامیابی میں پاکستان کے رول اور پاک۔ امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات کی توسیع کے موضوعات پر اہم بات چیت ہوگی۔

البتہ ریکس ٹلرسن کے دورہ ہندوپاک کی قطعی تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ نویرٹ نے کہاکہ ہندوستان آمد کے بعد ٹلرسن ہندوستانی قائدین کے ساتھ ہند و امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور انڈور پیسیفک خطہ میں سیکوریٹی اور خوشحالی کیلئے بھی دونوں ممالک کی شراکت داری بات چیت کے اہم موضوعات رہیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ جس وقت وزیراعظم ہند نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تھا، اس وقت وزیراعظم اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ایجنڈہ کو قطعیت دی گئی تھی اور ٹلرسن کا دورہ اسی ایجنڈہ پر عمل آوری اور اس کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ یاد رہیکہ 18 اکٹوبر کو ٹلرسن نے اپنی پہلی اہم خارجہ پالیسی تقریر کے دوران کہا تھا کہ عالمی سطح پر امریکہ ہندوستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت جہاں ہر طرف غیریقینی اور عدم اعتمادی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اس طرح ہندوستان کے ساتھ رفاقت کا ایک سخت پیغام بھی بھیجا گیا ہے کیونکہ اس وقت چین کی اشتعال انگیزیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ کبھی وہ امریکہ کو آنکھیں دکھاتا ہے اور کبھی ہندوستان کو۔ اروناچل پردیش کے ڈوکلام تنازعہ کو لوگ ابھی بھولے نہیں ہیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ ہند ۔ امریکہ کی ابھرتی ہوئی شراکت داری اس بات کی غماز ہے کہ دونوں ممالک قانون کی اجارہ داری، عالمی اقدار اور آزاد تجارت کیلئے اپنے وعدوں کے پابند ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے دورہ کے دوران ریکس ٹلرسن جنیوا میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فارمائگریشن اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈکراس کے دفاتر کا دورہ کریں گے جہاں وہ عالمی سطح پر اس وقت پائے جانے والے انسانی بحران کے موضوع کو زائد اہمیت دیتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں سے تبادلہ خیال کریں گے۔ یاد رہیکہ کچھ عرصہ قبل ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن پر بہت زیادہ اعتماد ہے اور اپنے اس پہلے سرکاری دورہ کے بعد ریکس ٹلرسن، ٹرمپ کی توقعات پر کتنا پورے اترتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گی۔

TOPPOPULARRECENT