Wednesday , December 19 2018

امریکی پابندیوں کے بعد ایران میں غیر ملکی کمپنیاں مشکل میں

برلن، 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) جرمنی، امریکہ کے ایران پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد بھی وہاں کام کرنے والی ان غیر ملکی کمپنیوں کو مدد کرنا چاہتا ہے لیکن کسی بھی جنگ میں ڈالنا ان کے لئے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے ۔جرمنی کے وزیر خارجہ ھیکو ماس نے آج یہاں کہا کہ فرانس اور برطانیہ کے ساتھ جرمنی بھی جوہری معاہدہ کے لئے مصروف عمل ہے ۔ تینوں یوروپی ممالک کے وزیر خارجہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ منگل کو بیلجئیم کے دارالحکومت بروسیلز میں آگے کا راستہ نکالنے کے لئے بات چیت کریں گے ۔انہوں نے ایک اخبار کو بتایا”مجھے امریکی پابندیوں کے خطرات سے شیلڈ کمپنیوں کے لئے ایک آسان حل دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے یوروپی، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات اس لئے بھی ہو رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ کاروبار کو کس طرح جاری رکھا جا سکتا ہے ؟ ”انہوں نے کہا کہ یوروپی ممالک اس بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے کے قوانین اور پابندیوں پر عمل کرنا جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا”آخر کار، ایران مذاکرات کے لئے تیار ہے ۔ یہ واضح ہے کہ اقتصادی ترغیبات بھی جاری رکھنا چاہئے جو امریکہ کے فیصلے کے بعد آسان نہیں ہو گا”۔قابل غور ہے کہ امریکہ نے گزشتہ منگل کو ایران کے ساتھ سال 2015 میں ہوئے جوہری معاہدے سے ہٹنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ایران پر پابندی لگا دی تھی اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو سزا دینے کی دھمکی دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT