Sunday , November 19 2017
Home / دنیا / امریکی ڈیموکریٹس بھی ایران نیوکلیئر معاہدہ کے مخالف

امریکی ڈیموکریٹس بھی ایران نیوکلیئر معاہدہ کے مخالف

سینٹ اور ایوان نمائندگان میں دوتہائی اکثریت سے معاہدہ کو ویٹو کرنے کی تیاریاں، سنیٹیر چک شومر اور ریلیٹ اینجل نے کھلی مخالفت کی

واشنگٹن ۔ 7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہوئے نیوکلیئر معاہدہ کی مخالفت کریں گے۔ اس طرح اب صدر امریکہ بارک اوباما کی ان کوششوں کو مزید دھکا لگا ہے جہاں ماحول نیوکلیئر معاہدہ کے خلاف بنتا جارہا ہے۔ چک شومر ایک بارسوخ یہودی قانون ساز تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے اعلان کے فوری بعد ایک دیگر اہم ڈیموکریٹ ایلیٹ اینجل نے بھی چک شومر کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ یاد رہے کہ مسٹر ایلیٹ ایوان میں امورخارجہ کمیٹی سے بھی مربوط ہیں۔ دریں اثناء سینیٹ میں نمبر تین سمجھے جانے والے شومر نے کہا کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ پر جو مخالفتیں ہورہی ہیں انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح اب یہ معاہدہ اوباما کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

شومر واضح طور پر یہی کہہ رہے ہیں کہ جب اس معاہدہ کو مسترد کرنے کیلئے ووٹنگ ہوگی تو وہ اثبات میں اپنا جواب درج کروائیں گے جبکہ مسٹر ایلیٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ایران پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کرے گا چاہے اسے تحدیدات کا مزید سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی مؤثر مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلہ کی یکسوئی پر ایقان رکھتے ہیں۔ یہی وہ راستہ تھا جسے ہم اپنا سکتے تھے لیکن اب کیا کیا جائے، میرے پاس سوائے اس معاہدہ کو مسترد کرنے کے دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اوباما کے لئے یہ ایک زبردست دھکا ہے کیونکہ اس معاہدہ کو کانگریس سے منظور کروانے وہ زبردست توڑجوڑ میں مصروف تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کی صدارتی میعاد آئندہ سال نومبر میں ختم ہوجائے گی اور اس سے قبل اگر کوئی ایسا کارنامہ اوباما انجام دیں جسے ان کی سبکدوشی کے بعد بھی برسوں یاد رکھا جائے تو وہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ ہی ہوسکتا ہے۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اوباما نے حالات کا اندازہ لگانے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ضرور کی ہے جبکہ وہ یہ بھی کہتے آئے ہیں کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کی نامنظوری مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید ہوا دے گی۔ توقع کی جارہی ہیکہ کانگریس ستمبر میں ایک قرارداد کے ذریعہ نیوکلیئر معاہدہ کی مخالفت کرے گی جبکہ اوباما اس ویٹو کو بھی ویٹو کرسکتے ہیں۔ تاہم کانگریس اب ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں معاہدہ کے خلاف دوتہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ ایوان کی ڈیموکریٹک قائد نینسی پیلوسی اب ایسے ارکان کو جمع کرنے کوشاں ہیں جو ویٹو کو برقرار رکھنے کیلئے درکار ووٹس کے لئے کارکرد ثابت ہوں۔

TOPPOPULARRECENT