Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / امن مذاکرات کے لیے عسکریت پسندوں کو دعوت

امن مذاکرات کے لیے عسکریت پسندوں کو دعوت

پوری کے شنکر آچاریہ ادھوکشی آنند کا بیان

ناسک ۔ 18 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہندو مذہبی پیشوا نے آج کشمیر کے علحدگی پسند لیڈروں اور الفا اور بوڈو جیسے عسکریت پسند تنظیموں کے سربراہان کو یہاں جاریہ کمبھ ملیہ میں امن پر مباحث کے لیے مدعو کیا ہے ۔ جگناتھ پوری اڈیشہ میں واقع گوردھن پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی ادھو کشی آنند مہاراج نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر ، آسام ، ناگالینڈ ، میگھالیہ ، میزورم اور دیگر ریاستوں کے بھکتوں کو مہاکمبھ میلہ میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے اور حریت کانفرنس ، الفا ، بوڈو اور دیگر تنظیموں کے قائدین سے کہا گیا ہے کہ گڑبڑ زدہ ریاستوں میں قیام امن پر یہاں اجلاس میں شرکت کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وقت یہ بھی تھا کہ ہمارے ملک نے دنیا کو امن کا پیام دیا تھا لیکن اب داخلی طاقتوں سے متعدد مسائل سے دوچار ہے ۔

 

مرکزی حکومت سے میری یہ گذارش ہے کہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے عسکریت پسند تنظیموں سے تبادلہ خیال کرے ۔ تاہم شنکر آچاریہ نے حالیہ ناگا امن معاہدہ پر اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا معاہدہ اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بھی کیا گیا تھا لیکن مسئلہ برقرار رہا ۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ معاہدہ کو قطعیت دیتے وقت 3 ریاستوں کے چیف منسٹرس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے مسائل کی یکسوئی ، ادھیاتما ( خود معلومات ) ، یگنہ ( مخصوص اشیاء کا نذرانہ ) اور سادھنا ( ریاضت ) کے ذریعہ کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے ناسک کے کمبھ میلہ کو امن اور تہذیبی یکجہتی کی علامت قرار دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT