Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / امن مشن :یشونت سنہا زیرقیادت گروپ کا دوبارہ دورۂ کشمیر

امن مشن :یشونت سنہا زیرقیادت گروپ کا دوبارہ دورۂ کشمیر

عوام اور سیاسی قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع، گروپ کی کاوشوں کا حکومت سے تعلق نہیں

سری نگر ، 17اگست (سیاست ڈاٹ کام ) کشمیری عوام تک پہنچنے اوروادی میں امن کی بحالی میں معاون کا کردار ادا کرنے کا منشا لیکر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کی زیرقیادت پانچ رکنی ٹیم کل شام گرمائی دارالحکومت سرینگر پہونچی جہاں اس ٹیم نے مختلف لوگوں بالخصوص اصل دھارے کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ شروع کیا ۔ یہ گزشتہ ایک سال میں سنہا کی زیرقیادت ٹیم کا تیسرا ’دورئہ کشمیر‘ہے ۔سابق وزیر کی زیرقیادت اس ’کنسرنڈ سٹیزنز گروپ‘ ( متفکر شہریوں کے گروپ) نے گزشتہ برس اکٹوبر اور ڈسمبر کے مہینوں میں وادی کا دورہ کرکے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کی تھیں۔ تاہم ٹیم نے ہر بار واضح کیا کہ اُن کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔گروپ نے اپنا پہلا دورہ کشمیر گذشتہ برس 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد وادی کے اطراف واکناف میں بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے تناظر میں کیا تھا۔تاہم گروپ کی جانب سے گذشتہ برس وادی کی صورتحال پر مرتب کردہ رپورٹ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے کسی خاطر میں نہیں لایا ۔

ذرائع نے بتایا کہ چہارشنبہ کی شام سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہونچنے کے ساتھ ہی سنہا کی زیر قیادت ٹیم نے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کا رُخ کیا اور اُن کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔سنہا کی زیرقیادت پانچ رکنی ٹیم میں سابق ایئر وایس مارشل کپل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور نئی دہلی کے مرکز برائے مذاکرات و مفاہمت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوشوبھا روے بھی شامل ہیں۔ یشونت سنہا اور اُن کی ٹیم میں شامل دوسرے لوگوں نے جمعرات کی صبح نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ کے ساتھ اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد سنہا نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن مشن پر کشمیر کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے پہلے دو بار آچکے ہیں۔ ہم پچھلی بار بھی یہاں پیس مشن پر آئے تھے ۔ اور اس بار بھی پیس مشن پر ہی آئے ہوئے ہیں۔ ہم یہ جاننے کے لئے سب لوگوں سے ملیں گے کہ وادی کے موجودہ حالات کیا ہیں اور امن کی پہل کو کیسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT