Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنانے پر زور

امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنانے پر زور

نئی دہلی۔11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ دستور میں آزادی اور مساوات کی آزادی دی گئی ہے اور ان (دستوری) اُصولوں سے کوئی بھی انحراف ملک کے جمہوری تانے بانے کو کمزور کرسکتا ہے۔ صدر پرنب مکرجی نے گورنروں کی 46 ویں کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطا

نئی دہلی۔11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ دستور میں آزادی اور مساوات کی آزادی دی گئی ہے اور ان (دستوری) اُصولوں سے کوئی بھی انحراف ملک کے جمہوری تانے بانے کو کمزور کرسکتا ہے۔ صدر پرنب مکرجی نے گورنروں کی 46 ویں کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں مزید کہا کہ ’’ہر ہندوستانی دستور کو اپنی آزادی اور مساوات کیلئے ایک ضامن کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان قواعد اور اصولوں سے کوئی بھی انحراف نہ صرف ملک کے جمہوری تانے بانے کو کمزور کرتا ہے بلکہ ہمارے شہریوں کی سیاسی، سماجی و معاشی فلاح و بہبود کو پامال کرتا ہے‘‘۔صدرجمہوریہ نے کہا کہ گورنروں اور لیفٹننٹ گورنرس کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی متعلقہ ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام ریاستوں کے اُمور پر دستور کی روح و منشاء کے مطابق سختی کے ساتھ عمل آوری کی جائے۔

صدر پرنب مکرجی نے اس دو روزہ کانفرنس میں جس میں وزیراعظم نریندر مودی، متعدد کابینی وزراء 21 گورنرس اور دو لیفٹننٹ گورنرس شرکت کررہے ہیں، یہ بھی کہا کہ امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کو بہرصورت یقینی بنایا جائے‘‘۔ اس کانفرنس کے ایجنڈہ میں بین الاقوامی سرحدوں سے متصل ریاستوں میں سرحدی چوکسی پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے داخلی و بیرونی سلامتی، اقتصادی شمولیت، روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہنرمندی کے پروگراموں کا فروغ اور مہاتما گاندھی کے 150 ویں یوم پیدائش کے سال 2019ء تک ’’سوچھ بھارت‘‘ کے مقصد کی تکمیل ہے۔ علاوہ ازیں دستور ہند کے پانچویں اور چھٹویں جدول سے متعلق اُمور اور شمال مشرقی علاقوں کی ترقی کے مسائل بھی ایجنڈہ کے دیگر موضوعات میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی محاذ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ہی اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر اور پرامن تعلقات کی پالیسی پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے سرحدی علاقوں سے متعلق تمام تنازعات و مسائل کو پرامن حل چاہتے ہیں‘‘۔

معاشی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ 2015ء میں ہندوستان میں دنیا کی سب سے بڑی افرادی قوت ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جب ہندوستان میں 4 کروڑ 70 لاکھ فاضل ہنرمند ورکرس ہوں گے جبکہ دنیا کو 5 کروڑ 65 لاکھ ہنرمند ورکرس کی قلت کا سامنا رہے گا۔ جغرافیائی اور آبادیاتی فائدہ مند موقع دودھاری تلوار کے مانند ہے۔ اگر ان (ہنر مند ورکرس) کی بھاری امکانی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے تو وہ ترقی کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں، لیکن ہم اگر ایسا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو یہ سماجی کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بھی ہوسکتا ہے‘‘۔ صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ نوجوان منگل کے بہترین اختراعی و تدریجی تخلیق کار، معمار اور قائدین بن سکتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب تعلیم فراہم کی جائے۔ ’’چنانچہ ہمیں اپنے اس موقع سے بھرپور استفادہ کرنا اور ہمارے نوجوانوں کو ہنرمندی، دوبارہ ہنرمندی اور ان کے ہنر کے فروغ کے ذریعہ روزگار کے مواقع بڑھانا چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT