Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / امن پیشرفت کو متاثر ہونے نہ دیا جائے

امن پیشرفت کو متاثر ہونے نہ دیا جائے

پٹھان کوٹ حملہ کے باوجود ہند و پاک وزرائے اعظم کا باہمی تعاون کا عہد قابل ستائش : میرواعظ
سری نگر 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اعتدال پسند حریت کانفرنس نے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے بعد بھی ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعاون جاری رکھنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ حریت کانفرنس کے صدرنشین میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں حالیہ دہشت گرد حملہ پر سخت تشویش ظاہر کی اور کہاکہ اس مقصد امن پیشرفت کو متاثر کرنا تھا۔ انھوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطح پر امن کیلئے جو پہل کی گئی اُسے متاثر کرنے کے مقصد سے ہی یہ حملہ کیا گیا۔ حریت کانفرنس نے کہاکہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے بات چیت کے لئے مثبت ماحول فراہم کرنے کے سلسلہ میں باہمی تعاون جاری رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے، ہم اُس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اس خطہ کو لڑائی اور تشدد سے چھٹکارا دلانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر کام کریں اور قیام امن کو یقینی بنائیں۔ پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے حملے ہوئے ہیں۔ جب کبھی ہندوستان اور پاکستان نے باہمی مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی، ایسی کوششوں کو سبوتاج کیا گیا۔ اس کا مقصد صرف اور صرف مذاکرات کو ناکام بنانا ہے۔ وہ عناصر جو ماحول کو مکدر کرتے ہیں

وہ جنوبی ایشیاء کے عوام کے مفادات کا لحاظ نہیں رکھتے۔ میر واعظ نے کہاکہ ان چیالنجس کے باوجود وہ ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے خواہش کرتے ہیں کہ امن کوششیں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھیں۔ اس وقت زیادہ اہمیت یہ ہے کہ مذاکرات کے اس عمل کو ناکام ہونے نہ دیا جائے۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کا احیاء ایک حوصلہ افزاء علامت ہے۔ بالخصوص دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے شخصی طور پر امن کے لئے کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ میر واعظ نے کہاکہ وہ اُن کے حوصلے کی ستائش کرتے ہیں اور جرأتمندانہ انداز میں امن پیشرفت کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔ میر واعظ نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کو سرگرمی کے ساتھ تمام فریقین کو بھی شامل کرنا چاہئے تاکہ مذاکرات کے اس عمل کو ہر گوشہ کی زیادہ سے زیادہ تائید حاصل ہوسکے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ مذاکرات کو سیاسی اپوزیشن اور دونوں ممالک کے عوام کی بھی وسیع تر تائید حاصل ہو۔ جموں و کشمیر کے عوام کو بھی مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT