Friday , November 24 2017
Home / مضامین / امن کیلئے سوشیل میڈیا کا استعمال

امن کیلئے سوشیل میڈیا کا استعمال

فیض محمد اصغر
سوشیل میڈیا پر آج کل ایسے ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کئے جارہے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے غیر معمولی شہرت حاصل ہورہی ہے ۔ دیکھاجائے تو سوشیل میڈیا اپنی بات ، اپنے خیالات، احساسات و جذبات دوسروں تک پہونچانے کا بہترین  ذریعہ بن گیا ہے ۔ اس کے ذریعہ لوگوں میں صحت ، تعلیم ،’ رکھ رکھاؤ ، ماحولیات اور مختلف ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی اہمیت کے بارے میں بڑی کامیابی سے شعور بیدار کیا جاسکتا ہے اور کہا جارہا ہے آج کل سوشیل میڈیا پر ایک ہندوستانی لڑکی گُر مہر کور کا ویڈیو زبردست مقبولیت حاصل کرتا جارہا ہے۔ اس ویڈیو پر اس لڑکی نے بناء بات کئے زبان سے کچھ الفاظ ادا کئے بغیر صرف اور صرف پلے کارڈ کی مدد سے ایسا بیان دیا ہے جس نے بطور خاص ہندوستان اور پاکستان کی عوام کے دلوں کو چھولیا ہے ۔ ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گُر مہر کور دراصل کارگل جنگ میں ملک کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے والے کیپٹن سندیپ سنگھ کی بیٹی ہے، اس لڑکی کو تقریباً 19 سال کی عمر میں ہی اپنے والد سے محرومی کا اس قدر غم ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ مستقبل میں ہند و پاک کے درمیان لڑائی کے نتیجہ میں اسی کی طرح کوئی اور لڑکی اپنے باپ کی محنت اور اس کی مشقت سے محروم ہو، گُر مہر کور نے سب سے پہلے فیس بک پر اپنا ویڈیو اپ لوڈ کیا جس میں اس نے پلے کارڈس کے ذریعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نفرتوں کی دیوار ڈھانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان نے میرے والد کو قتل نہیں کیا بلکہ لڑائی نے کیا ہے‘‘۔ گُر مہر کور نے اس ویڈیو میں دوسرے پلے کارڈس کے ذریعہ دونوں پڑوسی ملکوں کی حکومتوں اور عوام کو یہ بھی پیام دیا کہ اب بہت ہوچکا جنگوں دہشت گردانہ حملوں ، سرکاری دہشت گردی اور ایک دوسرے کی جاسوسی نے بے شمار قیمتی جانوں کا خاتمہ کردیا۔ دنیا کے حالات بدل چکے ہیں، جاپان پر جوہری بم گرانے والا امریکہ سے جاپان قربت رفتار کرسکتا ہے ۔ دو جرمنی ایک ہوسکتے ہیں۔ جرمنی اور فرانس کے اختلافات دور ہوسکتے ہیں تو پھر ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے دوست کیوں نہیں ہوسکتے۔ گر مہر کور کے اس ویڈیو میں اگرچہ خاموشی چھائی رہی لیکن اس خاموشی نے دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتوں کو جو پیام دینا تھا وہ پیام دینے میں کامیاب رہا۔گر مہر کور نے ویڈیو میں پلے کارڈ کے ذریعہ یہ بھی بتایا کہ جس وقت کارگل میں ان کے والد آخری سانس لے رہے تھے ، اس کی عمر صرف دو سال تھی۔ چنانچہ اس جنگ نے ایک بیٹی کو اس کے باپ کی محبت سے محروم کردیا۔ ابتداء میں وہ اپنے ڈیڈی کی موت کا ذمہ دار پاکستان اور مسلمانوں کو سمجھا کرتی تھی ۔ اسی خیال کے باعث اس نے چھ سال کی عمر میں ایک برقعہ پوش مسلم خاتون کو چھرا گھونپنے کی بھی کوشش کی لیکن اس کی ماں نے اس وقت اسے یہ بتایا کہ تمہارے والد کو پا کستان نے نہیں بلکہ جنگ نے مارا ہے ۔ ماں کے ان الفاظ  نے گر مہر کور کی سوچ و فکر کو بدل کر رکھ دیا اور وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوئی ، اگرکارگل کا واقعہ پیش نہ آتا تو وہ اپنے باپ کے سایہ شفقت سے محروم نہ ہوتی۔ سوشیل میڈیا پر دلوں کوچھونے والے اس ویڈیو نے لوگوں کو کافی متاثر کیا۔ لاکھوں لوگوں نے نہ صرف اس کا مشاہدہ کیا بلکہ لاکھوں کی تعداد میں گرمہر کور کے ویڈیو کو شیئر بھی کیا گیا ۔ 30 پلے کارڈس کے ذریعہ ہند و پاک کی حکومتوں اور عوام کو جاندار پیام دینے والی گر مہر کور نے اپنے ویڈیو کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ خاموشی بھی اثر رکھتی ہے۔ اپنی خاموشی کے ذریعہ بھی انسان اپنا پیام جذبات و احساسات بڑی کامیابی کے ساتھ دوسروں تک پہونچا سکتا ہے ۔ گر مہر کور کے خاموشی ویڈیو نے ہند و پاک کے عوام کو جہاں محبت کا پیام دیا ہے ، وہیں یہ بھی بتانے میں کامیابی حاصل کی کہ لڑائی جھگڑا اور جنگ و جدال کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ۔ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے ۔ لڑائی اور جھگڑے تو صرف تباہی و بربادی لاتے ہیں۔ اس میں عورتیں بیوہ ، بچے یتیم اور ماں باپ اپنی اولاد سے محروم ہوجاتے ہیں۔ آج ہندوستان پاکستان پڑوسی ہونے کے باوجود باہمی اعتماد کے فقدان کے نتیجہ میں سرحدوں کی حفاظت کے نام پر اربوں دولت خرچ کرنے پرمجبور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ بجٹ میں اسلحہ کی خریدی کیلئے موٹی رقم مختص کی جاتی ہے ۔اگر یہی رقم ہندوستان و پاکستان کی حکومتیں عوام کی صحت اور تعلیم کیلئے مختص کرے تو اس سے ایک صحت مند انقلاب برپا ہوسکتا ہے لیکن افسوس ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں اور  قیادتوں کو حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں۔ جب ان میں حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا تب بے اعتمادی کا ماحول ختم ہوگا ۔ دونوں ملک تعلیم صحت اور اقتصادی شعبہ پر توجہ دیں گے لیکن یہ دن کب آئے گا ، کوئی نہیں کہہ سکتا۔

TOPPOPULARRECENT