Wednesday , January 17 2018
Home / کھیل کی خبریں / امپائرس پر صدر آئی سی سی مصطفی کمال کے تبصرے بدبختانہ

امپائرس پر صدر آئی سی سی مصطفی کمال کے تبصرے بدبختانہ

ملبورن ۔ 20 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ کرکٹ کے ایک کوارٹر فائنل میں ہندوستان کے ہاتھوں بنگلہ دیش کی شکست کے دوران کی گئی امپائرنگ پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) نے خود اپنے ہی صدر کی طرف سے کی گئی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور آج کہا کہ میچ کے عہدیداروں کے خلاف آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال کے ریمارکس بدبختانہ اور بے بنیاد ہیں۔ آئی س

ملبورن ۔ 20 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ کرکٹ کے ایک کوارٹر فائنل میں ہندوستان کے ہاتھوں بنگلہ دیش کی شکست کے دوران کی گئی امپائرنگ پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) نے خود اپنے ہی صدر کی طرف سے کی گئی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور آج کہا کہ میچ کے عہدیداروں کے خلاف آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال کے ریمارکس بدبختانہ اور بے بنیاد ہیں۔ آئی سی سی کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر ( سی ای او) ڈیو رچرڈسن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’آئی سی سی نے مسٹر مصطفی کمال کے تبصروں کا نوٹ لیا ہے جو انتہائی بدبختانہ ہیں لیکن انھوں نے اپنی شخصی حیثیت سے یہ تبصرے کئے تھے ۔ تاہم آئی سی سی کے صدر کی حیثیت سے انھیں آئی سی سی کے عہدیداروں پر تنقید کے معاملہ میں بہتر زیادہ غور اور احتیاط کی ضرورت کو ملحوظ رکھنا چاہئے تھا۔ آئی سی سی میچ کے عہدیداروں کی صلاحیت اور دیانتداری پر کوئی سوال ہی نہیں اُٹھ سکتا ‘‘۔ ڈیو رچرڈسن نے مزید کہا کہ ’’نوبال کا فیصلہ 50-50 تھا ۔ کھیل کی روح کا تقاضہ ہے کہ امپائر کا فیصلہ قطعی ہوتا ہے اور اس کااحترام کیا جانا چاہئے ۔ لیکن ایسی کوئی بات کہ میچ کے عہدیداروں کا ’’کوئی ایجنڈہ ‘‘ تھا یا انھوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے ہٹ کر کچھ کیا ہے تو یہ بالکل بے بنیاد ہے اور اس بات کو ممکنہ حد تک سخت ترین اصطلاحات میں مسترد کرتے ہیں‘‘ ۔

آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال جو بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں ایک مداح کی حیثیت سے تبصرہ کرنے کے دعوے کے ساتھ کہا تھا کہ میچ کے دوران فیلڈ امپائرنگ بہت ناقص تھی اس میچ میں ان کے ملک کی ٹیم کو 109 رنز سے شکست ہوگئی تھی ۔ نقطہ استدلال یہ تھا کہ سنچری بنانے والے روہت شرما کو نوبال پر راحت ملی تھی ۔ روہت اس وقت 90 رن کے انفرادی اسکور پر تھے اور ان کی ٹیم کا مجموعی اسکور 40 ویں اوور میں 196 رن تھا کہ روبل حسین نے ایک مبہم نوبال کا دعویٰ کیا لیکن فیصلہ ہندوستانی اوپنر کے حق میں گیا۔ بعد ازاں انھوں (روہت) نے بہت جلد اپنے اسکور میں مزید 47 رن کا اضافہ کیا اور ہندوستانی ٹیم کو 300 رن کا نشانہ عبور کرنے میں مدد کی ۔ اس وقت ایان گولڈ امپائر تھے ۔ انھوں نے روبل کی ایک فل ٹاس گیند کو نوبال قرار دیا جو بیٹسمین کی کمر سے اونچی اُٹھی تھی ۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روہت نے ڈیپ مڈوکٹ سے باؤنڈری کی سمت گھمادیا لیکن ٹیلی ویژن کے ایکشن رپلے میں دکھایا گیا کہ یہ واقعی چھوکر گذرنے جیسی صورتحال تھی اور فیصلہ کسی بھی طرف جاسکتا تھا ۔ اس دوران بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو اپنی رپورٹ میں امپائرنگ کے خلاف احتجاج کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے کہا کہ ’’ہم اپنی رپورٹ میں ان فیصلوں کے خلاف یقینا اپنی اپیل کریں گے بدقسمتی سے نتیجہ میں تبدیلی تو نہیں ہوسکتی لیکن کسی ورلڈ کپ کوارٹر فائنل ایک غلط فیصلہ سے غیرمعمولی فرق پڑسکتا ہے ‘‘۔

انھوں نے کہاکہ ’’میں نے آئی سی سی کے صدر ( مصطفی کمال ) سے تبادلہ خیال کیا ہے کیونکہ فی الحال آئی سی سی کے کوئی دوسرے سینئر عہدیدار ملبورن میں موجود نہیں ہیں۔ قانونی طورپر جو بھی ضروری ہوگا ہم وہ کریں گے ‘‘۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ’’جو کچھ میں نے دیکھا ہے امپائرنگ بہت ناقص تھی۔ امپائرنگ میں کوئی معیار نہیں تھا ۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ (امپائرس ) ذہن میں کوئی بات رکھتے ہوئے کام کرریہ تھے ۔ میں آئی سی سی کے صدر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مداح کی حیثیت سے بات کررہا ہوں ‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’امپائرس غلطی کرسکتے ہیں ۔ آئی سی سی کو یہ جائزہ لینے چاہئے کہ آیا دانستہ طورپر یہ غلطی کی گئی ہے ۔ ہرچیز ریکارڈ پر موجود ہے۔ آئی سی سی کو تحقیقات کرنا چاہئے ۔ بنگلہ دیش میں اپنی ٹیم کی شکست کے بعد احتجاج پھوٹ پڑا ۔ مداحوں نے امپائرنگ پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ بنگلہ دیش کے کپتان مشرف مرتضیٰ نے بھی اپنی ٹیم کے خلاف جانے والے امپائرنگ کے بعض فیصلوں کی مذمت کی ۔ تاہم انھوں نے اس مسئلہ پر زیادہ نہیں کہا۔

TOPPOPULARRECENT