Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / امیت شاہ اور سابق ڈی جی پی کو سی بی آئی نوٹس

امیت شاہ اور سابق ڈی جی پی کو سی بی آئی نوٹس

احمدآباد 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے آج گجرات کے سابق وزیرداخلہ امیت شاہ اور سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس کے آر کوشک کے نام نوٹسیں جاری کی ہیں۔ عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں اِن دونوں کو ملزم بنانے اور سزا دینے کے لئے متاثرہ خاندان نے سی بی آئی کی عدالت میں درخواست داخل کی تھی۔ پرنیش پلائی عرف جاوید شیخ

احمدآباد 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے آج گجرات کے سابق وزیرداخلہ امیت شاہ اور سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس کے آر کوشک کے نام نوٹسیں جاری کی ہیں۔ عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں اِن دونوں کو ملزم بنانے اور سزا دینے کے لئے متاثرہ خاندان نے سی بی آئی کی عدالت میں درخواست داخل کی تھی۔ پرنیش پلائی عرف جاوید شیخ کے والد گوپی ناتھ پلائی نے سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں درخواست داخل کی ہے۔ جاوید شیخ کو بھی عشرت جہاں کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج گیتا گوپی نے امیت شاہ اور کوشک کو نوٹس جاری کی ہے۔ اِس کے علاوہ سی بی آئی اِس کیس کی مزید سماعت 26 مارچ کو مقرر کی ہے۔ پلائی نے عدالت سے خواہش کی کہ اِن دونوں افراد پر مجرمانہ سازش، غیرقانونی حراست اور قتل کے الزام میں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا جائے۔

ممبئی کی عشرت جہاں کو 15 جون 2004 ء میں جاوید شیخ اور دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ (جن پر گمان تھا کہ پاکستانی شہری ہیں) فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا تھا۔ احمدآباد کے باہر اِس فرضی انکاؤنٹر کو گجرات پولیس نے انجام دیا تھا۔ پلائی کی درخواست میں بتایا گیا کہ امیت شاہ کے خلاف واضح طور پر بادی النظر میں کیس بنتا ہے۔ سی بی آئی نے جو مواد اکٹھا کیا ہے اُس کی بنیاد پر امیت شاہ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ آئی پی ایس عہدیدار گریش سنگھل اور دیگر پولیس عہدیداروں بھارت پٹیل اور ڈی ایچ گوسوامی نے اپنے بیانات میں بتایا کہ مبینہ طور پر اِس انکاؤنٹر میں امیت شاہ کا رول ہے۔ جی ایل سنگھل نے واضح طور پر کہا تھا کہ چیف منسٹر نریندر مودی اور امیت شاہ نے ہی اِس انکاؤنٹر کی اجازت دی تھی۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ سی بی آئی کی تحقیقات کی بنیاد پر امیت شاہ کو سزا دی جانی چاہئے۔ محروس آئی پی ایس عہدیدار ڈی جی ونزارا کے مکتوب کی جانب بھی توجہ دلائی گئی

جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ انکاؤنٹر ریاستی حکومت کی سازشی پالیسی کا حصہ تھا جو دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری پر عمل کررہی تھی۔ کرائم برانچ کے عہدیداروں نے 2002 ء سے 2007 ء کے دوران صرف اپنی ڈیوٹی انجام دی ہے۔ اِس حکومت کی مرضی کے مطابق ہی کام کیا۔ درخواست میں ونزارا کے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گجرات کے پولیس عہدیداروں نے نریندر مودی کے اشاروں پر کام کیا ہے۔ اِس مکتوب میں پولیس عہدیدار ڈی ایچ گوسوامی کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا کہ مجھے یاد ہے کہ راجندر کمار سابق انٹلی جنس بیورو سربراہ نے ونزارا کو ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چیف منسٹر سے بات کریں۔ ونزارا نے کہا تھا کہ وہ سفید داڑھی اور کالی داڑھی دونوں سے بات کروں گا۔ اِن کا مطلب چیف منسٹر نریندر اور وزیرداخلہ امیت شاہ تھا۔ میرے سخت منع کرنے کے باوجود ونزارا اِس لڑکی کا قتل کرنے پر بضد تھے۔

TOPPOPULARRECENT