Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ’’امید ہے ٹرمپ انتظامیہ بھی ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کی مساعی جاری رکھے گا‘‘

’’امید ہے ٹرمپ انتظامیہ بھی ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کی مساعی جاری رکھے گا‘‘

سبکدوش ہونے والے ہندوستانی سفیر متعینہ امریکہ رچرڈ ورما کی آخری پریس کانفرنس

نئی دہلی ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں متعینہ ہندوستانی سفیر رچرڈ ورماجو عنقریب اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجائیں گے، نے آج امریکہ میں تشکیل دی جانے والی ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی حکومت سے متعلق توقع ظاہر کی کہ ٹرمپ حکومت ہندوستان کی راہ میں حائل چین سے نمٹنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ یاد رہیکہ بیان ایک ایسے وقت دیا گیا ہے جب صرف ایک روز قبل چین نے ہندوستان کیلئے نیوکلیئر سپلائرس گروپ کی شمولیت کی راہ میں اوباما انتظامیہ کی کوششوں کے خلاف منفی بیان جاری کیا تھا۔ رچرڈ ورما نے کہاکہ صدر اوباما، وزیرخارجہ جان کیری اور دیگر اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے ہندوستان کی نیوکلیئر سپلائرس گروپ (NSG) میں شمولیت کیلئے کافی کوششیں کی تھیں اور یہ توقع کی جارہی ہیکہ ٹرمپ انتظامیہ بھی یہی کوششیں جاری رکھے گا۔ چین نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ این ایس جی میں غیر این پی ٹی دستخط کنندگان کی شمولیت کو دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے الوداعی تحفہ قرار نہیں دے سکتے۔ چین کا یہ سخت ردعمل اس پس منظر میں سامنے آیا جب اوباما انتظامیہ نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ ہندوستان کیلئے نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں شمولیت کی راہ میں چین سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا مسٹر ورما نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ این ایس جی کی رکنیت کیلئے ہندوستان کو بیشتر ممالک کی تائید حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کام جو وقت طلب ہیں، پلک جھپکتے ہی ہم یہ کام انجام نہیں دے سکتے۔ ہمیں ایسے ممالک کے ساتھ بھی چلنا پڑے گا جن میں چین بھی شامل ہے، جو ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کی کوششوں کی خبر پڑھ کر ہی فکرمند ہوگئے ہیں۔ ہمیں ان کی فکر دور کرنی ہوگی۔ بہرحال مختصراً میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہندوستان نیوکلیئر سپلائرس گروپ کا باوقار رکن بن جائے گا۔

رچرڈ ورما 20 جنوری کو ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لینے سے قبل اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔ رچرڈ ورما نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ نے ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت کیلئے بھرپور کوششیں کیں۔ یہی نہیں بلکہ اصلاحات کی حامل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رکنیت کیلئے بھی اہم رول ادا کیا۔ یہاں ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے رچرڈ ورما نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا تمام اقدامات سبکدوش ہونے والے صدر بارک اوباما کیلئے انتہائی اہم رہے اور توقع ہیکہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے بھی اہم رہیں گے اور انہیں اولین ترجیح دی جائیگی۔ یاد رہیکہ 48 رکنی نیوکلیئر سپلائرس گروپ میں ہندوستان کی رکنیت کی راہ میں چین سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کیلئے اس کا استدلال یہ ہیکہ ہندوستان نیوکلیئر نان پرالیفریشن ٹرسٹی (NPT) کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے۔ اس موقع پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ این ایس جی کی رکنیت کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو الوداعی تحفہ کے طور پر نہیں دے سکتا۔ یہ کوئی الوداعی تحفہ نہیں ہے۔ انہوں نے اوباما انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ NPT کے غیر دستخط کنندگان ممالک کی این ایس جی میں شمولیت کیلئے چین نے دورخی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے جس میں پہلی بات یہ ہیکہ غیر این پی ٹی دستخط کنندگان ممالک کے این ایس جی میں داخلہ کی ایسی یکسوئی کی جائے جنکا ان پر اطلاق ہوتا ہو اور دوسرے یہ کہ کچھ مخصوص ممالک کی شمولیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ ہندوستان کے علاوہ چین، پاکستان کے ساتھ بھی اس معاملہ میں متواتر ربط میں ہے کیونکہ پاکستان نے بھی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی درخواست دے رکھی ہے۔ بہرحال دیکھنا یہ ہیکہ ٹرمپ انتظامیہ نے جس طرح سبکدوش ہونے والے صدر اوباما کے متعدد پروگرامس کو کالعدم کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں این ایس جی میں ہندوستان کی رکنیت کیلئے وہ کیا قدم اٹھاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT