Wednesday , December 13 2017
Home / مذہبی صفحہ / امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکرن الصدیق ؓرفیق غار و مزار

امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکرن الصدیق ؓرفیق غار و مزار

حبیب سہیل بن سعید العیدروس
حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی بعثت و اعلان نبوت کے تیرہویں سال ، دشمنان اسلام نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے مکان مبارک کا محاصرہ اس ارادے سے کیا کہ وہ حضور ﷺ کو (العیاذ باﷲ ) شہید کردیں گے ۔ لیکن مشیت ربانی تمام مخلوق کی تدابیر سے بالاتر ہے جس نے محاصرے کے باوجود راتوں رات حضور نبی مکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی ہجرت کا اہتمام و انتظام فرمایا ۔ پس  حضور ﷺ فرمانِ خدا کی پیروی میں وطن عزیز مکہ مکرمہ سے اپنے ساتھی و ہمراز حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمراہ ہجرت فرماکر سوئے مدینہ رواں ہوتے ہیں اور غارِ ثور میںپیچھا کررہے دشمنان سے بچنے کی غرض سے رکے جہاں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے رسول اﷲ ﷺ پر وحی نازل فرمائی : ’’در آنحا لیکہ وہ دو ( ہجرت کرنے والوں ) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں ( رسول اﷲ ﷺ اور ابوبکر صدیقؓ ) غار ثور میں تھے ، جب وہ اپنے صحابی ( ابوبکر صدیقؓ ) سے فرمارہے تھے ، غمزدہ نہ ہو بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے ‘‘ ۔ ( سورۃالتوبۃ ، آیت : ۴۰)
اس آیۂ کریمہ میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم ﷺ کے کثیرالعدد اصحابِ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے یہ اعزاز حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حصے میں ڈالا کہ جنھیں خود اﷲ تعالیٰ نے لفظِ صحابی کے ساتھ وحی قرآنی میں ملقب فرمایا ۔ تمام قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے کسی صحابی کو صراحتاً اس لقب سے یاد نہیں فرمایا سوائے ابوبکرؓ کے ۔ یہ فرمانا اتنا واضح ہے کہ کوئی چاہے بھی تو یہاں صحابی کی تعبیر کسی اور کی طرف منسوب نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ غارِ ثور میں حضور ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا ۔ لہذا نصّ قرآنی اور اﷲ کی رضا کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کو رسالت مآب ﷺ کا ساتھی و صحابی ٹھہرایا گیا ۔ لہذا اگر کوئی ابوبکرؓ کی صحابیت کا انکار کرے تو وہ نص قرآنی کے انکار کے سبب کافر ہوگا ۔ کسی مسلمان کے لئے گنجائش نہیں کہ آپؓ کی صحابیت پر حرفِ دیگر بیان کرے۔ پس جس ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت پر اﷲ رب العزت نے سند عطا کردی ، آئیں اُس ذات کا شرفِ صحابیت سے مشرف ہونا بھی کتنا پُراثر ہے ملاحظہ فرمائیںجس کے متعلق کتب سیر میں آتا ہے کہ قبل قبولِ اسلام سیدنا صدیق اکبرؓ یمن کے ایک علاقہ سے گزرتے ہیں ، ایک راہب نے آپ کو دیکھا اور قریب آکر پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟
حضرت صدیق اکبرؓ کہنے لگے میں حجاز سے آیا ہوں۔ پوچھا گیا کہ کیا تم وہیں کے رہنے والے ہو ، تو آپؓ نے فرمایا : ہاں ! میں اسی علاقہ کا رہنے والا ہوں ۔ یہ سنکر راہب نے کہا کہ اچھا تو تم اپنے جسم سے تھوڑا کپڑا ہٹاؤ تاکہ میں کچھ نشانیاں دیکھوں ۔ صدیق اکبرؓ نے استفسار کیا تو راہب کہنے لگا اگر تم کپڑا ہٹاؤ گے تب ایک بات بتاؤنگا ، چنانچہ آپؓ نے کپڑا ہٹایا تو راہب نے دیکھا کہ ناف کے اوپر ایک تل ہے ، اس کے بعد کہنے لگا کہ کیابائیں ران کے اوپر بھی ایک نشان ہے ؟ آپؓ فرمانے لگے کہ وجہ کیا ہے؟

راہب نے کہا تم بتاؤ تو سہی پھر جواب دونگا ۔ چنانچہ آپ نے بائیں ران کا نشان بتایا ، جب راہب نے دیکھا تو کہا : واپس چلے جاؤ ، نبیٔ آخرالزماں علیہ التحیۃ والثناء کے ظہور کا وقت آپہنچا ہے اور میرے پاس جو سچی خبریں موجود ہیں، جو ہماری کتابوں میں وارد ہوچکی ہیں اور اس سے میں تمہیں سچی بات بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ جب نبی آخرالزماں ﷺ جلوہ گر ہوں گے تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک عظیم ساتھی کی جو علامات میں نے پڑھی ہیں وہ ساری کی ساری تم میں موجود ہیں ۔ لوٹ جائیے وہ نبیٔ آخرالزماں ﷺ آپ کے انتظار میں ہوں گے اور میرے علم کے مطابق اب تک ان کا ظہور ہوچکا ہوگا ۔ پس حضرت صدیق اکبرؓ واپس پلٹتے ہیں تو مکہ مکرمہ میں ابوجہل ، ابولہب ، عتبہ و شیبہ تمام موجود ہوتے ہیں اور پریشانی و فکر کے عالم میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ابوبکرؓ ! ہمارے نزدیک آپ سب سے زیادہ شریف ہیں ، آپ کی آمد کا انتظار تھا آئیے اور دیکھئے کہ عبداﷲ کے بیٹے محمدﷺ نے نبوت کا دعویٰ کردیا ہے ، کس طرح کی باتیں کررہے ہیں ، چلئے آپؓ کچھ گفتگو فرمائیں۔ فوراً ذہن صدیقی میں راہب کی باتیں آنے لگیں اور فرمانے لگے کہ نہیں ابھی نہیں چلتا ، چلچلاتی دھوپ ہے ، ابھی ابھی سفر سے آیا ہوں ، تھکان ہے ، شام کے وقت ملاقات کروں گا ۔ یہ کہہ کر سب کو روانہ کرتے ہیں اور پیکر صدق و وفا خود بابِ نبوت پر تشریف لے جاتے اور عرض کرتے ہیں : اے محمد ﷺ ! یہ تو فرمائیے کہ آپؓ نے ایسا کیا اعلان فرمایا ہے کہ سب حیران ہیں ۔ جیسے ہی سرکارِ دوعالم ﷺ نے انھیں دیکھا تو فرمایا : ’’اے ابوبکرؓ ! میں اﷲ کا سچا رسول ہوں ، مجھ پر ایمان لے آؤ‘‘۔

حضرت ابوبکرؓ دل ہی دل میں ایمان لاچکے تھے لیکن اطمینانِ قلبی کے لئے عرض گزار ہوئے کہ حضورؐ آپ کی نبوت کی دلیل کیا ہے ؟
بغیر کوئی توقف کے تاجدارِ کائنات ﷺ فرمانے لگے ! اے ابوبکر! دلیل وہ یمن کا راہب ہے ۔ ابوبکرؓ کہنے لگے میں تو بہت سے راہبوں سے ملا ہوں آپؐ کس کی بات کررہے ہیں ؟ ۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا میں اس راہب کی بات کررہا ہوں کہ جب تم یمن سے لوٹ رہے تھے تو اس نے تم کو پہچان کر روکا تھا اور کہا تھا کہ اے ابوبکر! میں نے نبی آخرالزماںؐ کی شان میں اشعار کہے ہیں ذرا میرا قصیدہ سنکر جاؤ ۔ پس یہ بات سننے کی دیر تھی کہ سیدنا صدیق اکبرؓ اسی مقام پر کلمۂ شہادت کو اپنا وردِ زباں بنالیتے ہیں ۔ (بحوالہ علامہ ارشد سعید کاظمی ، شیخ الحدیث)
غرض کہ یہ آغاز تھا صدیق اکبرؓ کی صحابیت کا اور یہ اعزاز کتبِ سابقہ ہی میں آپؓ کو دیدیا گیا تھا اور فیصلۂ ایزدی تھا کہ آپؓ کو حضورؐ کا صحابی بننا ہے اور ایسے وقت سے ساتھی بننا ہے جبکہ حضورؐ کا کوئی ساتھ دینے والا نہ ہو ۔ جس کی وضاحت خود سرکارِ مدینہ ﷺ نے فرمائی کہ ’’اے لوگو ! کیا تم میرے دوست (ابوبکرؓ) کو چھوڑنا چاہتے ہو اور واقعہ یہ ہے کہ جب میں نے تم سے کہا کہ میں خدائے واحد کا رسول ہوں ، مجھے اﷲ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے تو تم نے مجھے جھٹلادیا مگر اُس وقت ابوبکرؓ ہی نے میری تصدیق کی‘‘۔ (بخاری)

یہی رفاقت و صحبت ہر جگہ نظر آئی ، چاہے وہ دینِ متین کے ابلاغ کے مشکل سے مشکل ادوار ہوں یا ہجرت کی دشواری ہو ، یا کفار کی سختیاں ہوں کہ عالم برزخ کی زندگی ، ہر گام پر صدیقِ اکبرؓ نے اپنی صحابیت ، صدق و وفاء ، اور تعلق رسول ﷺ کا ثبوت پیش فرمایا ۔ یہاںتک کہ جب وقتِ وصال قریب ہوا تو آپ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اﷲ عنہ کو بلوایا اور سرہانے بٹھاکر فرمایا : اے علیؓ ! جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے اُس ہاتھ سے غسل دینا جس سے تم نے رسول اﷲ ﷺ کو غسل دیا تھا اور مجھے خوشبو لگانا اور مجھے حضور ﷺ کے روضۂ اقدس کے قریب لے جانا ، اگر تم دیکھو کہ دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کردینا ورنہ واپس لاکر عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردینا تاوقتیکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمادے۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو غسل اور کفن دیا گیا اور میں نے سب سے پہلے روضۂ رسول ﷺ کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی ، میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ﷺ ! ابوبکرؓ آپؐ سے داخلہ کی اجازت مانگ رہے ہیں ۔ پھر میں نے دیکھا کہ روضۂ اقدس کا دروازہ کھول دیا گیا اور آواز آئی ۔ حبیب کو اس کے حبیب کے پاس داخل کردو ، بے شک حبیب ملاقاتِ حبیب کے لئے مشتاق ہے ۔ (الخصائص الکبریٰ)
یہ تو آخری آرامگاہ تک کے ساتھ کی بات ہوئی ، تاریخ ان ایام کا بھی تذکرہ یاد دلاتی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے صدیقؓ کے لئے حوضِ کوثر اور جنت کی رفاقت کا اعلان فرمادیا ۔ چنانچہ حضرت عبداﷲ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : ’’آپؓ حوض (کوثر) پرمیرے ساتھی ہیں اور غار (ثور) میں بھی میرے ساتھی ہیں‘‘ ۔ ( ترمذی)
اﷲ تعالیٰ نے خصوصاً حضرت صدیق اکبرؓ کے لئے حضور ﷺ کے واسطے سے سلام فرمایا اور آپؓ کی صحابیت کو وہ بلندی عطا فرمائی کہ جس کا صلہ قیامت کے دن خود اﷲ تعالیٰ عطا فرمائیگا ۔ یہ تمام برکات اور مراتب حضور اکرم ﷺ کی کامل اتباع و محبت اور آپؐ کی رفاقت میں صدق و صفا کے سبب عطا فرمائے گئے جوکہ قیامت تک آپؓ ہی کے حصہ میں ہیں جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوسکتے ۔ اﷲ رب العزت سے دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے قلوب کو بھی حضور ﷺ کی محبت و اُلفت اور اتباعِ کاملہ سے بھردے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے صدق و وفا سے کچھ ذرات ہی عنایت فرمادے ۔ آمین

TOPPOPULARRECENT