Sunday , January 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

مرسل : قاضی سید عزیر ہاشمی

مرسل : قاضی سید عزیر ہاشمی

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے دعاء فرمائی کہ ’’اے اللہ! تو ابوجہل یا عمر بن خطاب دونوں میں سے اپنے ایک پسندیدہ بندہ کے ذریعہ اسلام کو غلبہ اور عزت عطا فرما‘‘۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کو محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے (جن کے بارے میں حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاء قبول ہوئی اور آپ مشرف بہ اسلام ہوئے)۔ (مفہوم حدیثِ ترمذی شریف)
٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نسباً قریشی تھے۔ آپ کا سلسلہ آٹھویں پشت میں جاکر حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے مل جاتا ہے۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپ کے ماموں زاد بھائی اور ہشام بن مغیرہ آپ کے نانا تھے۔ ایام جاہلیت میں آپ کے خاندان کے ذمہ عرب کی سفارت کا کام تھا۔ آپ نے نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی، خطابت اور شہسواری میں کمال حاصل کیا اور لکھنا پڑھنا بھی سیکھا۔ ذریعۂ معاش تجارت تھا اور اسی سلسلہ میں دُور دراز کے ممالک کا سفر کیا۔ خودداری، بلند حوصلگی، معاملہ فہمی کے لحاظ سے قبول اسلام سے پہلے بھی عالم عرب میں پہچانے جاتے تھے اور قریش کی طرف سے سفارت کے منصب پر مامور تھے۔ قبائل میں جب کبھی کوئی پیچیدگی پیدا ہو جاتی تو آپ ہی کو سفیر بناکر روانہ کیا جاتا تھا۔ آپ غیر معمولی فہم و تدبر کے مالک تھے۔ آپ کی کنیت ابوحفص اور لقب فاروق تھا، جو بعد میں فاروق اعظم ہوا۔ آپ ہجرت نبوی سے چالیس سال قبل پیدا ہوئے۔

٭ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا رنگ گورا، سرخی مائل اور قد نمایاں طورپر لانبا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا آپ کسی جانور پر سوار ہیں۔ بال جھومتے ہوئے اور گال پچکے ہوئے تھے۔ آپ اعلان نبوت کے چھٹے سال ۲۷ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔ ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو حضرت سیدنا جبرئیل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کیا ’’یارسول اللہ! بے شک اہل آسمان نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے اسلام لانے پر خوشیاں منائی ہیں (اور مبارکبادیں دی ہیں)‘‘۔
٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو مشرکین نے کہا کہ ’’آج کے دن ہماری قوم دو حصوں میں بٹ گئی (یعنی قوم آدھی رہ گئی)‘‘۔ (مفہوم حدیثِ بروایت امام حاکم، احمد، طبرانی)
٭ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے سینے پر تین دفعہ اپنا دست اقدس مارا اور (ہر مرتبہ) آپ نے ارشاد فرمایا ’’اے اللہ! عمر کے سینے میں جو غل (سابقہ عداوتِ اسلام کا اثر) ہے اسے نکال دے اور اس کی جگہ ایمان ڈال دے‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ دُہرائے۔ (اس حدیث شریف کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے)

٭ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک حضرت عمر کا قبول اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی خلافت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم! ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر اسلام لے آئے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو انھوں نے مشرکین مکہ کا سامنا کیا، یہاں تک کہ ہم نے (برملا) اسلام کی دعوت دی اور خانۂ کعبہ میں نماز بھی پڑھی‘‘۔
٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہونے سے پہلے حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور اسی جوش میں ایک دفعہ آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلے۔ راستے میں اطلاع ملی کہ آپ کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں، اس لئے آپ ان کی طرف پلٹے۔ جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ دونوں تلاوت کلام پاک میں مصروف ہیں۔ آپ غصے میں آپے سے باہر ہو گئے اور دونوں کو بُری طرح مارنا شروع کیا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں جان سے ماردو، مگر ہم اس دین سے نہیں پھریں گے‘‘۔ اس بات کا آپ پر بڑا اثر ہوا، آپ نے بھی غسل کے بعد ان ہی آیات کی تلاوت کی اور سیدھا حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچے اور کلمۂ شہادت پڑھ کر داخل اسلام ہو گئے۔ آپ کے داخل اسلام ہونے کے بعد مسلمانوں نے اظہار مسرت میں اس قدر زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کی گلیاں گونج اُٹھیں۔ اس سے پہلے مسلمان چھپ چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’جب ہم حق پر ہیں تو کسی سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے‘‘۔ اب مسلمانوں نے علانیہ بیت اللہ میں نماز پڑھنا شروع کیا۔ اس روز سے حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کے لقب سے ممتاز کیا، یعنی آپ نے دین کو ظاہر کیا۔
٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام کو جس قدر ترقی دی، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آپ نے اسلامی مقاصد کی اشاعت میں کوشش کا کوئی دقیقہ نہیں اُٹھا رکھا۔ آپ نے مسلمانوں کی اعانت و امداد میں مال بھی خرچ کیا۔ نہ صرف یہ کہ ہر طرح کی مدد پہنچائی، بلکہ ان کی حفاظت میں اپنی جان تک کی بھی پرواہ نہیں کی۔ زمانہ خلافت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے اسلام کو وہ عروج حاصل ہوا، جو اب تک نہ ہوسکا تھا۔
٭ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، جنھوں نے حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا زمانہ دیکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل ہوئے تو اسلام اقبال مند آدمی کی طرح رفتہ رفتہ لوگوں کے قریب ہوتا اور ترقی کرتا رہا، لیکن ان کے شہید ہوتے ہی اسلام اس بدنصیب شخص کی مانند ہو گیا، جو روز بروز لوگوں سے دُور ہوتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’مجھ سے حضرت جبرئیل نے کہا کہ عمر کی موت پر اسلام کو رونا چاہئے‘‘۔

٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلامی اخلاق کا مجسم نمونہ تھے، بالخصوص انقطاع الی اللہ، خوف خدا و اتباع رسول، زہد و تقویٰ، حفظ لسان، حق پرستی، راست گوئی، عدل و انصاف، تواضع و سادگی، جفاکشی اور نفس کشی میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ رات رات بھر نمازیں پڑھتے، آخر رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو بھی جگا دیتے۔ جس رات آپ زخمی ہوئے، صبح کی نماز کے واسطے اُٹھے اور کہنے لگے ’’جو شخص نماز کو ترک کرے، اس کے لئے اسلام سے کچھ حصہ نہیں‘‘۔ اس حالت میں کہ زخموں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا، آپ نے نماز ادا فرمائی۔ (مفہوم حدیثِ مؤطا)
٭ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت قریش میں صرف سترہ آدمی لکھ پڑھ سکتے تھے، ان ہی میں ایک حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے فرامین، خطوط اور خطبوں سے آپ کی قوت تحریر، برجستگی کلام اور زور تقریر ظاہر ہے۔ بارگاہ نبوت میں خاص تقرب حاصل ہونے کی وجہ سے قدرتاً شرعی احکام و عقائد سے واقفیت کا زیادہ موقع ملا۔ قرآن مجید سے استدلال کرنے میں نہایت درجہ مہارت رکھتے تھے۔ احادیث نبوی سے خوب واقف تھے، بلکہ درحقیقت اپنے عہد خلافت میں جس قدر احکام صادر فرمائے ہیں، وہ احادیث ہی سے ماخوذ ہیں۔ آپ سے بکثرت فقہی مسائل منقول ہیں۔

٭ خلافت فاروقی کا سب سے نمایاں وصف عدل و انصاف ہے۔ شاہ و گدا، مسلم اور غیر مسلم، سب کے ساتھ آپ کے انصاف و عدالت کا یکساں تعلق تھا۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ہمیشہ یہ دعاء کرتے تھے کہ ’’اے میرے رب! مجھ کو اپنی راہ میں شہادت نصیب فرما اور میری موت تیرے رسول کی بستی مبارک میں ہو‘‘۔ بظاہر یہ دعاء بہت مشکل تھی، مگر آپ کا جو کمال و مرتبہ حق تعالیٰ کے حضور میں تھا، اس نے اس کے اسباب ارادہ الہیہ سے آخر جمع کرہی دیئے۔ آپ نے یہ بھی دعاء کی کہ ’’اے اللہ! میری عمر بہت ہو گئی اور قوت میری کم ہو گئی اور رعیت میری بہت دور تک پھیل گئی ہے، اب تو مجھ کو اپنی طرف اٹھالے، قبل اس کے کہ مجھ سے کچھ کمی ہو یا میں کھویا جاؤں‘‘۔ آپ کی یہ دعاء قرین اجابت ہوئی اور ماہ ذی الحجہ۴۱ھ ختم ہونے سے پیشتر ہی حادثۂ شہادت واقع ہوا۔
٭ زخمی ہونے کے بعد تین روز آپ بقید حیات رہے اور چوتھے دن جو کہ غرہ محرم الحرام ۲۴ ھ اور اتوار کا دن تھا، اس عالم فانی سے دارالبقاء کو رحلت فرمائی۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قبر شریف کے بازو میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

TOPPOPULARRECENT