Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی میٹرو ریل کے لیے حصول اراضیات میں رکاوٹ

امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی میٹرو ریل کے لیے حصول اراضیات میں رکاوٹ

خانگی افراد کا اراضی فراہم کرنے سے انکار ، یکم جون تک تعمیری کاموں کی تجویز
حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی میٹرو لائن کی تعمیرات میں حصول اراضیات بہت بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ۔ خانگی افراد اراضی دینے کے لیے تیار نہیں ہورہے ہیں جب کہ آئندہ سال یکم جون تک تعمیری کاموں کو مکمل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ میٹرو ریل کے پہلے مرحلے پر توقع سے زیادہ عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں نے دوسرے مرحلے کی تعمیرات پر اپنی تمام توجہ مرکوز کردی ہے ۔ میٹرو ریل کے عہدیداروں نے پہلے ہفتہ 10 دن تک میٹرو ریل کی نگرانی اور مسافرین کی سیکوریٹی پر توجہ دینے کے بعد مطمئن ہو کر دوسرے مرحلے کی تعمیرات کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے بھی میٹرو ریل ، بلدی نظم و نسق اور ایل اینڈ ٹی کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی کی تعمیرات یکم جون 2018 تک مکمل کرنے کا عہدیداروں کے لیے نشانہ مقرر کیا ہے ۔ جس کے بعد عہدیدار حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی کے درمیان 10 کیلو میٹر کا فاصلہ ہے جس کی جنگی خطوط پر تعمیرات کے لیے ایک دو دن میں پلان کا اعلان کرنے کی امید ہے ۔ کاریڈار 3 ۔ ( ناگول ۔ رائے درگم ) 27 کیلو میٹر میں ابھی 17 کیلو میٹر ( ناگول ۔ امیر پیٹ ) مکمل کرتے ہوئے میٹرو ریل چلائی جارہی ہے ۔ باقی 10 کیلو میٹر لائن ( امیر پیٹ تا رائے درگم ) میں تین مقامات پر موڑ ہیں اس روڈ پر ابتداء سے حصول اراضیات مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ یوسف گوڑہ ، مدھورا نگر ، کرشنا نگر ، جوبلی ہلز ، مادھا پور ، ہائی ٹیک سٹی کے علاقوں میں قیمتی اراضیات ہیں ۔ اس راستے پر میٹرو ریل چلانے کی ابتداء سے مقامی عوام مخالفت کررہے ہیں ۔ اس لائن پر تین موڑ ہونے کی وجہ سے سڑک کے ساتھ ساتھ زیادہ تر خانگی جائیدادوں کو بھی نقصان پہونچ رہا ہے ۔ مثال کے طور پر جوبلی ہلز روڈ نمبر 5پر واقع ٹرانسٹرائیے کمپنی کی 2 ہزار گز اراضی حاصل کرنے میں تین سال لگ گئے ۔ اس طرح جوبلی ہلز چیک پوسٹ ، کاویری ہلز ، مادھا پور چوارستہ میں ہزاروں گز اراضی حاصل کرنے کے لیے برسوں سے مذاکرات کی جارہی ہے ۔ فی الحال میٹرو اسٹیشن کے پاس سیڑھیوں ، راستوں ، لفٹ ، اسکیلٹرس کی تعمیرات کے لیے اراضی کی قلت پائی جاتی ہے ۔ مادھا پور سے گچی باولی تک آئی ٹی کاریڈار میں کام کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں ان علاقوں میں ٹریفک کے بہت زیادہ مسائل ہیں ۔ میٹرو ریل ہی عوام کو بہت بڑی راحت ثابت ہوسکتی ہے ۔ آئندہ 5 تا 6 ماہ میں ہائی ٹیک سٹی تک میٹرو ریل چلانے کا امکان ہے ۔ تعمیری کاموں میں تعاون کرنے کی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے ایچ ایم آر ، جی ایچ ایم سی ، واٹر بورڈ ، ایچ ایم ڈی اے کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT