Sunday , June 24 2018
Home / ہندوستان / اناج کے حصول کیلئے متاثرہ عوام کو مشکلات کا سامنا

اناج کے حصول کیلئے متاثرہ عوام کو مشکلات کا سامنا

سرینگر 17 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) جیسا کہ ہر آفت سماوی کے بعد راحت کاری کے موقع پر جو افراتفری اور جانبداری دیکھی جاتی ہے وہی حال سرینگر میں حالیہ سیلاب سے متاثرین کا بھی ہورہا ہے جہاں بعض متاثرین کو حکومت کی ریلیف جاری کئے گئے اناج کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑرہا ہے۔ مختلف ریلیف کیمپوں میں موجود عہدیدار سیلاب سے متاثرین ک

سرینگر 17 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) جیسا کہ ہر آفت سماوی کے بعد راحت کاری کے موقع پر جو افراتفری اور جانبداری دیکھی جاتی ہے وہی حال سرینگر میں حالیہ سیلاب سے متاثرین کا بھی ہورہا ہے جہاں بعض متاثرین کو حکومت کی ریلیف جاری کئے گئے اناج کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑرہا ہے۔ مختلف ریلیف کیمپوں میں موجود عہدیدار سیلاب سے متاثرین کو ریلیف ساز و سامان کے حصول کے لئے قریب ترین پولیس اسٹیشن روانہ کررہے ہیں لیکن پولیس اسٹیشن پہونچنے کے بعد پولیس اہلکار اُنھیں ٹکا سا جواب دیتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اُن کے پاس تقسیم کے لئے اناج کی وافر مقدار موجود نہیں ہے۔ سرینگر کے پادشاہی باغ کے ساکن غلام رسول نے بتایا کہ وہ اپنے علاقہ کے متاثرین کے اناج کی سربراہی کیلئے ایک درخواست کے ساتھ صدر پولیس اسٹیشن پہنچا۔ درخواست اس علاقہ کے ریلیف آفیسر انچارج کے نام تھی لیکن اُس نے درخواست کو مذکورہ پولیس اسٹیشن سے رجوع کردیا۔ غلام رسول نے بتایا کہ اب پولیس افسران اُسے ضلع بڈگام کے شیخ پورہ جانے کی ہدایت دے رہے ہیں تاکہ وہاں سے چاول حاصل کئے جاسکیں۔ اس وقت پوری وادی میں چاول کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

غلام رسول نے پولیس اسٹیشن سے باہر آتے ہوئے میڈیا سے بات کی اور بتایا کہ وہ دو دنوں سے پولیس اسٹیشن کے چکر لگارہا ہے لیکن نتیجہ صفر رہا۔ اُس نے دعویٰ کیاکہ پڑوسی علاقوں میں ٹرک بھر بھرکر ریلیف کا سامان آرہا ہے لیکن پادشاہی باغ علاقہ کے متاثرہ لوگ ریلیف سے ہنوز محروم ہیں۔ دوسری طرف ایک پولیس آفیسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اسٹیشنوں میں ریلیف کا کوئی سامان موجود نہیں ہے۔ جب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو ہم کیا تقسیم کریں؟ ریلیف کا سامان ہم اپنے گھر لے کر نہیں جارہے ہیں۔ ہمیں دوسروں کاحق مارنے کی عادت نہیں ہے۔ آفیسر نے کہاکہ مختلف علاقوں سے آنے والا ریلیف میٹریل متعلقہ پولیس اسٹیشن کے حوالہ کیا جاتا ہے لیکن پولیس اُسے تقسیم کرنے کے بجائے مقامی کمیٹی کے حوالے کررہی ہے۔ پولیس کے پاس پہلے ہی بہت کام ہے۔

TOPPOPULARRECENT