Friday , April 27 2018
Home / Top Stories / اناؤ کیس :سی بی آئی نے بی جے پی رکن اسمبلی کو حراست میں لے لیا

اناؤ کیس :سی بی آئی نے بی جے پی رکن اسمبلی کو حراست میں لے لیا

کلدپ سنگھ سینگر کی باضابطہ گرفتاری کی سی بی آئی کو الہ آباد ہائیکورٹ کی ہدایت ۔ 2 مئی تک ابتدائی رپورٹ طلب، سی بی آئی کی تفتیش

نئی دہلی 13 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سی بی آئی نے اترپردیش میں بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی جانب سے ایک 17 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے واقعہ سے متعلق تین مقدمات کی تحقیقات سنبھال لی ہیں اور اس نے سینگر کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لے لیا ہے ۔ اس دوران الہ آباد ہائیکورٹ نے سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ اناؤ عصمت ریزی مقدمہ کے ملزم بی جے پی رکن اسمبلی کو باضابطہ گرفتار کرلیا جائے ۔ سی بی آئی سے یہ مسئلہ کل ہی رجوع کیا گیا تھا اور اس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے یو پی پولیس کے ایف آئی آر دوبارہ درج کئے ہیں اور چار مرتبہ کے رکن اسمبلی کو آج صبح پانچ بجے حراست میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ کیلئے اپنے دفتر منتقل کیا ہے ۔ عہدیداروں نے کہا ہے کہ ابھی تک بنگر مئو کے رکن اسمبلی سینگر کو باضابطہ گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کی ایک ٹیم جرم کے مقام کا دورہ کرکے جیل عہدیداروں ‘ پولیس حکام اور رکن اسمبلی کے ارکان خاندان سے بھی پوچھ تاچھ کررہی ہے۔ سی بی آئی کے درج ایف آئی میں پہلے کا تعلق لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی سے ہے جس میں سینگر اور ایک خاتون ششی سنگھ کو ملزم بنایا گیا ہے ۔

دوسرا ایف آئی آر ہنگامہ آرائی سے متعلق ہے جس میںچار مقامی افراد کو ماخوذ کیا گیا ہے اور یہ ایف آئی آر متاثرہ لڑکی کے والد کی عدالتی تحویل میں موت سے متعلق بھی ہے ۔ چونکہ پولیس نے قتل کے الزام کو بعد میں شامل کیا تھا اس لئے اسے سی بی آئی ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ تیسرا ایف آئی آر متاثرہ لڑکی کے والد کے خلاف آرمس ایکٹ کے الزام سے متعلق ہے ۔ لڑکی کے والد کو جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں اسے پیٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا ۔ قوانین کے مطابق ریاستی پولیس کے ایف آئی آر کا سی بی آئی دوبارہ اندراج کرتی ہے لیکن اسے یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ پولیس کی تحقیقات کو قبول کئے بغیر اپنے طور پر تحقیقات کو آگے بڑھائے اور اپنی قطعی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کرے ۔ قطعی رپورٹ مقدمہ بند کرنے سے متعلق بھی ہوسکتی ہے یا پھر الزامات کو درست بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ رکن اسمبلی نے 4 جون 2017 کو اپنی قیامگاہ پر اس کی عصمت ریزی کی تھی جہاں وہ ملازمت کی تلاش میں گئی تھی ۔ فبروری میں لڑکی کے افراد خاندان نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اس کیس میں رکن اسمبلی کا نام بھی شامل کیا تھا ۔ اس کیس کے اندراج کے بعد متاثرہ لڑکی کے والد پر آرمس ایکٹ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسے 5 اپریل کو جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ اپنے مقدمہ میں پولیس کی جانب سے عدم کارروائی پر مایوسی کا شکار لڑکی نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی قیامگاہ کے باہر خود کشی کی کوشش بھی کی تھی ۔ اس دوران الہ آباد ہائیکورٹ نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ عصمت ریزی مقدمہ میں بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو گرفتار کرے۔ چیف جسٹس ڈی بی بھوسالے و اور جسٹس سنیت کمار گاوے پر مشتمل بنچ نے سی بی آئی کو یہ ہدایت دی جبکہ ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ سینگر کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے اور ابھی گرفتار نہیں کیا گیا ۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ قانون کے مطابق سختی سے تحقیقات کرے اور اس کیس میں دوسرے ملزمین کو جو ضمانت دی گئی ہے اس کو منسوخ کرنے عدالت سے رجوع ہونے پر غور کرے ۔ سی بی آئی کو 2 مئی تک موقف رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT