Sunday , August 19 2018
Home / اداریہ / انتخابات سے قبل سروے

انتخابات سے قبل سروے

انتخابات سے قبل سروے
ملک کی دو ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش میں انتخابات کا موسم ہے ۔ ہماچل میں تو رائے دہی ہوچکی ہے جبکہ گجرات میں انتخابی عمل اب بتدریج تیز ہوتا جائیگا ۔ سیاسی جماعتیں اپنے طور پر اس عمل میں سرگرم ہیںاور وہ انتخابی جلسوں کے انعقاد اور ریالیوں کے سلسلہ میں مصروف ہیں۔ گجرات میں ابھی امیدواروں کے انتخاب کا مرحلہ چل رہا ہے ۔ وہاں امیدواروں کی فہرست کسی بھی جماعت نے جاری نہیں کی ہے ۔ا س سے قبل ہی دو اصل اقتدار کی دعویدار جماعتوں بی جے پی اور کانگریس نے اپنے اپنے طور پر انتخابی مہم کا عملا آغاز کردیا ہے ۔ دونوں جماعتوں کے اعلی اور قد آور قائدین اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی ریالیاں اور جلسے پورے زور و شور سے جاری ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے گجرات میں دوسرے مرحلہ کی رائے دہی تک کسی طرح کے ایگزٹ پول پر امتناع عائد ہے ۔ ایسا کرنے کا مقصد رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو روکنا ہے لیکن کچھ میڈیا چینلس اور دیگر اداروں کی جانب سے بی جے پی کی مدح سرائی اور اس کی کامیابی میں اپنے طور پر رول ادا کرنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔ کچھ ادارے اور گروپس کی جانب سے سروے کے نام پر بی جے پی کی مہم کو آگے بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ اب تک دونوں جماعتوں کی جانب سے جو کوششیں ہو رہی ہیں ان سے رائے دہندوں میں کچھ ایسی کیفیت پیدا ہوئی ہے کہ کوئی بھی اس تعلق سے قیاس کرنے میں کامیاب نہیں ہے ۔ ہر کوئی اس مسئلہ پر انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ ویسے بھی انتخابات میں عین وقت سے قبل تک کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہوتا ۔ ابھی تو امیدواروں کا انتخاب نہیں ہوا ہے اور ابھی سے کچھ چینلس اور اداروں کی جانب سے برسر اقتدار بی جے پی کی اقتدار پر واپسی کا جشن منانا شروع ہوچکا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ عوام جس کو چاہیں ووٹ دیں اورجس کو چاہیں اقتدار پر فائز کریں یہ جمہوریت میں ان کا اپنا اختیار ہے لیکن کسی بھی ادارے یا میڈیا گھرانوں کو عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے اور خود ان اداروں کو ایسی کوشش سے گریز کرنا چاہئے ۔ جمہوریت کے حق میں غیر جانبداری سے کام کرنا ہی زیادہ بہتر اور موثر ہوسکتا ہے ۔
ہمارے ملک ہندوستان میں یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ بعض میڈیا گھرانے اور ٹی وی چینلس اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو فراموش کرتے ہوئے مخصوص طرز فکر اور لابی کے آلہ کار بن گئے ہیں ۔ ان کا حصہ بن گئے ہیں اور انہیں کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ انہیں اپنی پیشہ ورانہ دیانت کا خیال تک نہیں رہ گیا ہے اور نہ ہی وہ ایسے مسائل کو اٹھانے پر کوئی توجہ دیتے ہیں جن سے واقعی قوم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ‘ ملک کے عوام کی مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہو یا پھر ملک کی ہمہ جہتی ترقی میں ان سے کوئی مدد مل سکتی ہو۔ یہ سب ایک مخصوص نظریہ کے ساتھ آگے بڑھنے میں یقین رکھتے ہیںاور انہیں اس بات کی کوئی فکر لاحق نہیں رہ گئی ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ سماج میں بے چینی اور نفرت کا ماحول پیدا ہو رہا ہے اور عوام کے مسائل جوں کے توں دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ صرف ایک مخصوص نظریہ کا سہارا لے کر دوسروں کو نشانہ بنانا اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کی تشہیر کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر ترجیح دینا ان کا وطیرہ بن گیا ہے اور یہ صورتحال ملک میں جمہوریت کیلئے ٹھیک نہیں کہی جاسکتی ۔ ہر کسی کو اس معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ملک و قوم کے مفادات کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ محض جذبات میں بہتے ہوئے قوم پرستی کا درس دینا اور وہ بھی اپنے نقطہ نظر سے دینا مناسب نہیں ہوسکتا ۔ یہ طریقہ کار ایسا ہے جس کی وجہ سے میڈیا کا وقار گھٹتا جا رہا ہے اور اس کی فکر بھی کسی کو نہیں رہ گئی ہے ۔
انتخابات جمہوریت کا ایک اہم عمل ہیں۔ ان کے ذریعہ عوام کو یہ حق حاصل رہتا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعہ اپنی پسند کی حکومت کا انتخاب کریں۔ اس حکومت کی معیاد بھی مقررہ ہوتی ہے ۔ اس کے دوبارہ عوام سے رائے حاصل کی جاتی ہے ۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کا طرہ امتیاز ہے کہ اس نے جہاں کسی قد آور لیڈر کو ووٹوں کی طاقت کی بنا پر دھول چاٹنے پر مجبور کردیا گیا تو کسی معمولی سے شخص کو اقتدار کی بلندیوں تک پہونچا دیا گیا ۔ یہ ہماری جمہوریت کا اعجاز ہے ۔ اس کو برقرار رکھنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ عوام کے ذہنوں پر اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوششیں سیاسی جماعتیں کرتی ہیں اور یہ کام انہیں کیلئے چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ میڈیا گھرانوں اور چینلوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے حقیقی مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے ان کی یکسوئی کیلئے تجاویز پیش کرنا چاہئے ۔عوام کے ذہنوں پر مخصوص رائے کو مسلط کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT