انتخابات سے قبل کانگریس اور بی جے پی کی کسانوں سے ہمدردی

بھوپال۔/7مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش میں بارش ، ژالہ باری اور شدید سردی کی وجہ سے فصلوں کو ہوئے نقصان نے بی جے پی اور کانگریس کو ایک نیا مدعا پیش کردیا ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل دونوں ہی پارٹیاں اب کسانو ں سے ہمدردی کا کھیل شروع کرنے والی ہیں۔ ریاست میں کسان برادری کو دونوں ہی پارٹیاں نظر انداز نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ ا

بھوپال۔/7مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) مدھیہ پردیش میں بارش ، ژالہ باری اور شدید سردی کی وجہ سے فصلوں کو ہوئے نقصان نے بی جے پی اور کانگریس کو ایک نیا مدعا پیش کردیا ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات سے قبل دونوں ہی پارٹیاں اب کسانو ں سے ہمدردی کا کھیل شروع کرنے والی ہیں۔ ریاست میں کسان برادری کو دونوں ہی پارٹیاں نظر انداز نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ ایک بڑا ووٹ بینک ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے کسانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی تائید میں وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کے کابینی وزراء کی بھوک ہڑتال کو ’’ خالص سیاست‘‘ سے تعبیر کیا وہیں بی جے پی نے اپنے اس اقدام کو یہ کہہ کر منصفانہ قرار دیا کہ پارٹی کسان برادری کے حقوق کے لئے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ ریاستی بی جے پی یونٹ کے صدر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں اور ملک کی جملہ آبادی کا 70فیصد کسانوں پر مشتمل ہے۔ کسان عوام کے ’’ انّ داتا ‘‘ ہیں۔

ان کے حق کیلئے اگر احتجاج منظم کیا جاتا ہے تو اسے ’ خالص سیاست‘ سے تعبیر کئے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسٹر تومر نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست میں بی جے پی ایک کلیدی جماعت ہے جو اپنی سیاست کو کسانوں کے مفاد پر مرکوز رکھتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہر حکومت کی اولین ترجیح کسان ہونے چاہیئے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی ضروریات کی تکمیل کریں۔ ملک میں جب اناج پیدا کرنے والے ہی نہیں ہوں گے تو ہم اور آپ کھائیں گے کیا،ہم بھی وہی کررہے ہیں جو ہمیں کسانوں کیلئے کرنا چاہیئے کیونکہ بحران کے وقت انہیں ہماری ضرورت ہے اور کسانوں کی مدد کرنے پر ہمیں فخر ہے۔ یاد رہے کہ ریاستی وزراء اور بی جے پی قائدین نے بھوپال میں بھوک ہڑتال کی تھی تاکہ کسانوں کی حالت زار کی جانب سے مرکزی حکومت کی توجہ مبذول کروائی جاسکے۔ انہوں نے مرکز سے کسانوں کے لئے 5000 کروڑ روپئے کے خصوصی پیاکیج کا بھی مطالبہ کیا۔

بی جے پی نے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ اس نے ایک روزہ بھوک ہڑتال اور احتجاج کے دوران عوام اور تنظیموں کی جانب سے عطایات کی شکل میں 7.42 کروڑ روپئے جمع کرلئے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے عطایات کی وصولی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں شکایت داخل کی ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء کانگریس کے ایک وفد بشمول مرکزی وزراء کمل ناتھ، جیوتیرادتیہ سندھیا، پارٹی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ، ریاستی کانگریس یونٹ صدر ارون یادو اور ایم پی اسمبلی میں قائد اپوزیشن ستیہ دیو کٹارے نے کل وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور مدھیہ پردیش میں فصلوں کو ہوئے نقصان پر ان سے تعاون کی خواہش کی۔

TOPPOPULARRECENT