انتخابات میں بی ایس پی کی تائید

مولانا توقیر رضا خاں کا اعلان، مظفر نگر فسادات پر ایس پی کا رویہ تکلیف دہ

مولانا توقیر رضا خاں کا اعلان، مظفر نگر فسادات پر ایس پی کا رویہ تکلیف دہ
علیگڑھ ۔ 5 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین مولانا توقیر رضا خاں نے مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) کی تائید کا اعلان کیا ۔ انہوں نے مظفر نگر فسادات کے متاثرین سے اختیار کردہ طرز عمل پر سماج وادی پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مرکز میں تیسرا محاذ اقتدار پر آئے تو وہ ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی کی بحیثیت وزیر اعظم تائید کریں گے کیوں کہ وہ عوام کے تمام طبقات کی تائید حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ مولانا توقیر رضا خاں نے واضح کیا کہ ان کے فیصلہ کے دیگر کوئی مقاصد نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کے سیکولر اقدار کے تحفظ کے خواہاں ہیں ۔ آج یہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا توقیر رضا خاں نے جو حال تک بھی ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے ،

کہا کہ مظفر نگر فسادات کے متاثرین کے ساتھ سماج وادی پارٹی نے جو طرز عمل اختیار کیا اس کی وجہ سے انہیں د لی تکلیف پہنچی ۔ انہوں نے کہا کہ فسادات پر قابو پانا ایک الگ بات ہے اورمتاثرین کی تکالیف پر نظر انداز کی پالیسی اور بھی خراب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیفائی میں جشن کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد ہی انہوں نے اپنا ذہن بنالیاتھا ۔ ایسے وقت جب کہ فسادات کے متاثرین ریلیف کیمپوں میں ہیں ، حکومت موج مستی کررہی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ انسانی مصائب پر حکومت اور مودی کے رویہ میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ ان کی تائید غیر مشروط ہے یا انہوں نے بی ایس پی سربراہ سے یہ تیقن حاصل کیا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد بی جے پی سے اتحاد نہیں کریں گی ۔ مولانا نے جواب دیا ان کی تائید غیر مشروط ہے اور اگر مایاوتی نریندر مودی کی تائید کی غلطی کرتی ہیں تو انہیں اس کا خمیازہ اسمبلی انتخابات میں بھگتنا ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT