انتخابات میں مسلمان ہوشمندی کا مظاہرہ کریں

ورنگل۔12فبروری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری وقت کی ضرورت ہے ۔مسلمانوں کی اکثریت ووٹ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں ۔ متحدہ طور پر مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں ۔ آپسی مسلکی اختلافات کو دور کرتے ہوئے ہم تمام ایک سیاسی طاقت بنتے ہوئے ایک بہتر گروپ کی تشکیل دے سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب حام

ورنگل۔12فبروری( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری وقت کی ضرورت ہے ۔مسلمانوں کی اکثریت ووٹ کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں ۔ متحدہ طور پر مسلمان فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں ۔ آپسی مسلکی اختلافات کو دور کرتے ہوئے ہم تمام ایک سیاسی طاقت بنتے ہوئے ایک بہتر گروپ کی تشکیل دے سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب حامد محمد خان ریاستی صدر اسٹیٹ مسلم کونسل نے ہنمکنڈہ میں اسلامک انفارمیشن سنٹر رائے پور میں مختلف مکتب فکر ‘ معززین شہر ‘نوجوانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جناب خواجہ معین الدین ‘ فیض الرحمن شکیل ‘ مولانا رحمت اللہ شریف ‘ ڈاکٹر انیس صدیقی ‘ مولانا شاہ عالم فلاحی ‘ سلطان خان ضلعی امیر اہلحدیث‘ سید دستگیر ‘ ناظم جماعت اسلامی ہنمکنڈہ ‘ سید نبی ‘ شیخ بندگی ‘ محمد حبیب الدین موظف لیبر آفیسر ‘ محمد خالد سعید ناظم جماعت اسلامی ورنگل مشرق ‘ مسعود مرزا محشر ‘ سید عبدالسبحان الدین صدر اسٹیٹ مسلم کونسل حلقہ ورنگل موجود تھے ۔ اس موقع پر ریاستی صدر اسٹیٹ مسلم کونسل جناب حامد محمد خان نے کہاکہ آج ملک انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے اور ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتیں اقتدار میں آنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو صحیح سوچ وفکر کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیئے اور ہم سب متحدہ طورپر فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے روک سکتے ہیں اور ایک سیاسی پریشر گروپ کی تشکیل بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2004ء کے انتخابات میںیونائٹیڈ مسلم فورم میںجماعت اسلامی ہند نے کلیدی رول ادا کیا تھا جس کا نتیجہ 35 نشستیں کانگریس کو حاصل ہوئی تھیں جو یو پی اے کو مرکز میں اقتدار میں لانے اہم رول رہا ہے ۔ سال 2009ء کے انتخابات میں بھی جماعت اسلامی نے اہم کردار ادا کیا تھا

لیکن اب آئندہ ہونے والے انتخابات انتہائی سنگین ہیں ‘ ان حالات میں مسلمان انتہائی ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے روکنا چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ مسلم کونسل (SMC) کا سب سے پہلا مقصد مسلمانوں میں سیاسی شعور کی بیداری پیدا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکیموں سے کئی مسلمان واقف نہیں ہیں ۔ ریاست آندھراپردیش کی حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے 1027کروڑ کا اعلان کرتی ہے لیکن اس رقم کو اسکیمات پر خرچ نہیں کیا جاتا ‘ مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا گروپ نہیں ہے جو وزیراعلیٰ کے پاس جاکر مسلمانوں کے تعلق سے بات کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ مسلم کونسل کو چاہیئے کہ دیگر مظلوم طبقہ کی تائید بھی حاصل کرے ۔ ہمیںچاہیئے کہ ملت اسلامیہ کے مختلف مکاتب فکر ‘ مشائخ اور داشنوروں کو ایک ساتھ جمع کر کے متحدہ ریاسی قوت بنانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملت اسلامیہ بیدار ہوچکی ہے ‘ اب وقت آگیا ہے کہ

مسلمانوں کو کسی کے دھوکہ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست آندھراپردیش میں یقیناً اسٹیٹ مسلم کونسل ایک طاقوت گروپ تشکیل دے گا جو مسلمانوں کے تمام مسلک کا متحدہ گروپ ہوگا۔ ہمکنڈہ اسلامک انفارمیشن سنٹر رائے پورہ میں منعقدہ اجلاس میں محمد شفیع صدر مسجد نعمانیہ ‘ جناب مجاہد الحسن ‘ عبدالقدوس ‘ اظہر حسین ‘ شیخ حمید احمد ‘ مرزا حسینی بیگ ‘ محمد کاظم علی باسط نگر صوبیداری ‘ محمد حسن الدین ‘ محمد ظفر الحق قریشی‘ محمد اعجاز و دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT