Saturday , December 15 2018

انتخابات میں ٹی آر ایس کو شکست ، کانگریس کو اقتدار یقینی

مسلمانوںکو اندرون چار ماہ 12% تحفظات کی فراہمی کا وعدہ، عوامی اتحاد سے محروم ٹی آر ایس کی الٹی گنتی

٭ مودی ، کے سی آر کی خفیہ مفاہمت
٭ ٹی آر ایس کو ملنے والے ووٹ سے بی جے پی کو استحکام
٭ مسلم ووٹرس جمعہ کی صبح ووٹ دیں اور دوپہر میں نماز ادا کریں
٭ کوداڑ میں کانگریس کی امیدوار پدماوتی ریڈی ،
شیخ عبداللہ سہیل اور دیگر قائدین کا خطاب

حیدرآباد۔25 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس کی امیدوار پدماوتی ریڈی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کے زیرقیادت پیپلز فرنٹ کی حکومت قائم ہوگی۔ اقلیتوں کیلئے سب پلان دینے کے ساتھ وقف بورڈ کو قانونی اختیارات دیئے جائیں گے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے رائے دہی جمعہ کو ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے تمام مسلمانوں کو صبح میں ہی حق رائے دہی سے استفادہ کرتے ہوئے اسمبلی حلقہ کوداڑ سے کانگریس کی امیدوار پدماوتی ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ آج اسمبلی حلقہ کوداڑ میں کانگریس کی امیدوار پدماوتی ریڈی نے حلقہ کے مسلمانوں کا اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، شعبہ اقلیت کے انچارج محمد اکرم ، ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید نظام الدین، مولانا ابوالحسن، ساجد شریف، خواجہ معین الدین، کوداڑ کانگریس شعبہ اقلیت چیرمین منور کے علاوہ دوسرے قائدین و سینکڑوں کارکن موجود تھے۔ کوداڑ میں بڑی ریالی منظم کرنے کے بعد جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ کانگریس کی امیدوار پدماوتی ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ کارگذار چیف منسٹر کے سی آر نے اقتدار حاصل کرتے ہی اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار کے 4 سال مکمل ہونے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ پدماوتی ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ اتحاد ہوگیا ہے۔ بی جے پی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے خلاف ہے۔ بی جے پی کو خوش کرنے کیلئے کے سی آر نے 12% مسلم تحفظات کو فراموش کردیا۔ انتخابات میں دوبارہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کو تحفظات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ کے سی آر مسلمانوں کے ہمدرد ہوتے تو نریندر مودی حکومت کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کرتے مگر ٹی آر ایس نے رائے دہی سے دوری اختیار کرتے ہوئے بالراست مودی حکومت کا تعاون کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT