Saturday , December 15 2018

انتخابات کے بعد منقسم حکومت تباہ کن ہوگی : صدرجمہوریہ

نئی دہلی ۔ /25 جون ۔ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کے انتخابات کے بعد ایک مستحکم حکومت کی حمایت کرتے ہوئے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج خبردار کیا کہ منقسم حکومت موقعہ پرستوں کی یرغمال بنے گی اور یہ ہندوستان کیلئے تباہ کن ہوگی ۔ انہوں نے رائے دہندوں کو خاص کر نوجوان رائے دہندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہندوستان کو کمزور ہونے نہ دیں ۔ سال 2014 ء گزشتہ

نئی دہلی ۔ /25 جون ۔ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کے انتخابات کے بعد ایک مستحکم حکومت کی حمایت کرتے ہوئے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج خبردار کیا کہ منقسم حکومت موقعہ پرستوں کی یرغمال بنے گی اور یہ ہندوستان کیلئے تباہ کن ہوگی ۔ انہوں نے رائے دہندوں کو خاص کر نوجوان رائے دہندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہندوستان کو کمزور ہونے نہ دیں ۔ سال 2014 ء گزشتہ چند سالوں کی منقسم اور متنازعہ سیاست کے بعد ایک کامیاب حکمرانی کا سال ہونے کی توقع ہے جو کوئی پارٹی انتخابات میں منتخب ہوگی اسے بلاشبہ مستحکم ‘ دیانتدار اور ترقی پسندانہ اقدامات کی پابند عہد ہونا چاہیے ۔

65 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ وہ کوئی غیرجمہوری نظریہ نہیں رکھتے ۔ انہیں جمہوریت کی افادیت کا علم و احساس ہے ۔ آنے والے دنوں میں عوام ہی اس بات کا بہترین فیصلہ کریں گے کہ ان کیلئے کس طرح کی حکومت ہونی چاہیے ۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران منقسم اور متنازعہ سیاست میں مسائل پیدا کئے ہیں ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ سال 2014 ء ہندوستان کی تاریخ میں ایک قیمتی لمحہ ثابت ہوگا ۔ اس سال قومی مقاصد اور حب الوطنی کے علاوہ ترقیاتی اقدامات کو فروغ دیئے جانے چاہیے ۔ 1950 ء میں جمہوریت کا جنم ہوا اور مجھے یقین ہے کہ سال 2014 ء اس جمہوریت کے پروان چڑھنے کا سال ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دیا جانا چاہیے تاکہ وہ 21 ویں صدی کے معیارات کے مطابق مواضعات اور شہروں کو فروغ دے سکیں ۔

نوجوانوں کو ایک موقع دیا جائے تاکہ وہ ہندوستان کو ترقی کی اونچائی تک لے جاسکے ۔ یہ موقع اس وقت ہرگز نہیں آئے گا اگر ہندوستان کو ایک مستحکم حکومت نہیں ملے گی ۔ اکثر ایک منقسم حکومت موقعہ پرستوں کی یرغمال بن کر رہ جاتی ہے ۔ حکمرانی کے دوران ہمیشہ ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ اگر 2014 ء میں بھی منقسم حکومت بنائی گئی تو یہ ہندوستان کیلئے تباہ کن ہوگی ۔ ہر ایک رائے دہندہ کی عمیق ذمہ داری ہے کہ وہ سونچ سمجھ کر ووٹ دیں ۔ ہم ہندوستان کو کمزور ہوتا نہیں چھوڑسکتے ۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا ۔ ہندوستان دنیا کے اہم ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں ترقیاتی اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ ہندوستان دنیا کے مشکل زدہ علاقوں میں سے بھی ایک ہے

جہاں اکثر عدم استحکام کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ ماضی قریب میں اس عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں اور دہشت گردوں نے ہمارے عوام کی یکجہتی کو غیر مستحکم کیا ہے ۔ ہمارے ملک کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی ہے لیکن اس میں انہیں کامیابی نہیں ملے گی ۔ ہماری سکیورٹی اور مسلح افواج ہنوز چٹان کی طرح قوم کی نگرانی کررہے ہیں ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہماری اپنی پیچیدگیوں اور کمزوریوں کے باعث بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ جمہوریت پر پرنب مکرجی نے کہا کہ ہم جمہوری عمل پر گامزن ہونے کے پابند اہل ہیں لیکن ہماری جمہوریت کو عوام کی جانب سے کوئی دغا نہیں دیا گیا ہے ۔ ہمارے پاس جمہوری ادارے موجود ہیں۔ ملک کی معاشی صحت سے متعلق صدرجمہوریہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران معاشی سست رفتاری نے تشویش پیدا کردی ہے ۔ زرعی پیداوار میں اس سال کے نصف حصے میں 3.6 فیصد کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ دہلی کی عام آدمی پارٹی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کے حالیہ سڑک پر کئے گئے احتجاج پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ حکومت ایک خیراتی دوکان نہیں ہوتی اور نہ ہی مقبول عام انارکی حکمرانی کیلئے متبادل اقدام ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT