Wednesday , December 19 2018

انتخابات کے بعد ہم سب عوام کی امیدوں اور آرزوؤں کے محافظ

نئی دہلی ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر جواب دیتے ہوئے ایک فاتح کی اخلاقی ذمہ داری کے طور پر انہوں نے اپوزیشن کو گلے لگانے اپنی باہیں کھول دیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انتخابات کے بعد ہم سب عوام کی امیدوں اور آرزوؤں کے محافظ ہیں۔ ان

نئی دہلی ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر جواب دیتے ہوئے ایک فاتح کی اخلاقی ذمہ داری کے طور پر انہوں نے اپوزیشن کو گلے لگانے اپنی باہیں کھول دیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انتخابات کے بعد ہم سب عوام کی امیدوں اور آرزوؤں کے محافظ ہیں۔ ان کی تقریر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی سیاست کی بازگشت معلوم ہورہی تھی۔ واجپائی بی جے پی کے اولین وزیراعظم ہندوستان تھے۔ مودی نے کہا کہ کامیابی ہمیں کئی سبق سکھاتی ہے۔ اس نے ہمیں انکسار سکھایا ہے۔ میری پرخلوص امید ہے کہ ہمیں تکبر سے لڑنے کی طاقت حاصل ہوجائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہر شخص کو ساتھ لے کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ صدرجمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کا جواب دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ اگر ہم حکومت غریب عوام کے مفاد کیلئے نہ چلا سکیں تو ملک کے شہری ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریبوں کو غربت کے خلاف لڑنے کے قابل بنانے کیلئے بااختیاری دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غربت کے خلاف جنگ کے لئے تعلیم سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان دیہاتوں کا ملک ہے لیکن کیا ہم نے دیہی عوام اور کاشتکاروں کی زندگیاں تبدیل کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دیہات مسلسل برقی سربراہی، تعلیم اور صنعتوں کے قیام کی وجہ سے ترقی کریں تو کوئی بھی نقل مقام نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ زرعی شعبہ میں عصری ٹیکنالوجیاں استعمال کی جائیں۔ انہوں نے اس حقیقت پر اظہارافسوس کیا کہ گذشتہ کئی سال سے دالوں کیلئے کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ہے۔ ملک میں خواتین کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو خواتین کا احترام کرنا چاہئے۔ ان کی حفاظت ہر ایک کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ انہوں نے سیاسی قائدین پر زور دیا کہ عصمت ریزی کے واقعات کا نفسیاتی تجزیہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ کہا جاچکا ہے لیکن عصمت ریزی خواتین کے وقار سے کھلواڑ کے مترادف ہیں۔ انہوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت افراط زر میں کمی کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انہوں نے تیقن دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک کا کوئی غریب آدمی بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے ارکان پارلیمان سے خواہش کی کہ چونکہ وہ ایوان میں نووارد ہیں، اس لئے ان کی غلطیوں کو نظرانداز کردیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT