Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / انتخابات کے دوران رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے اقدامات

انتخابات کے دوران رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے اقدامات

ایک مرکز رائے دہی پر صرف 1400 رائے دہندوں کے نام ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ پیپر ٹرائیل کی فراہمی
حیدرآباد۔19اکتوبر(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے دوران رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں کئی ایک اقدامات کئے جارہے ہیں اور اب الیکشن کمیشن نے رائے دہندوں کو سہولت کی فراہمی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے ایک مرکز رائے دہی پر صرف 1400 رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان میں درج کئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے مطابق آئندہ انتخابات کے دوران الکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ پیپر ٹرائیل بھی فراہم کیا جائے گا اور اس پیپر ٹرائیل کیلئے ایک مشن میں 1500پیپر کا بنڈل فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔ بتایاجاتاہے کہ آئندہ تمام انتخابات الکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ پیپر ٹرائیل منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اسی لئے تمام ریاستوں میں الکشن کمیشن کو اس بات کی ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ وہ تمام مراکز رائے دہی کی فہرست کی تیاری کے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ فہرست رائے دہندگان میں 1400 سے زائد رائے دہندوں کے نام نہ ہونے پائیں ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بعد اب شہری انتظامیہ اور ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے مراکز رائے دہی کے اعتبار سے موجود فہرست رائے دہندگان کی تیاری پر توجہ دی جائے گی تاکہ پیپر ٹرائیل ممکن بنائے جانے کے علاوہ رائے دہندوں کو سہولت بہم پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ رائے دہی کے عمل میں تیزی آئے اور اس عوام کوکسی بات کی تکلیف نہ ہونے پائے اور انہیں رائے دہی میں حصہ لینے کے عمل میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ الکٹرانک ووٹنگ مشین پر شبہات کے بعد اب جبکہ پیپر ٹرائیل مشین کو روشناس کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو رائے دہی کے عمل میں تاخیر کے شبہات کا بھی اظہا رکیا جانے لگا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سیاس بات کو مسترد کیا جاچکا ہے کہ پیپر ٹرائیل کی صورت میں انتخابی عمل تاخیر کا شکار ہوگا اسی لئے تمام مراکز رائے دہی پر محدود تعداد میں رائے دہندوں کو رائے دہی کا اختیار دیئے جانے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن کے ان احکامات کے بعد شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوںمیں بھی مراکز رائے دہی کے تعداد میں اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT