Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / انتخابات کے پیش نظر پارٹی ٹکٹوں کے لیے وفاداریوں کی تبدیلیاں

انتخابات کے پیش نظر پارٹی ٹکٹوں کے لیے وفاداریوں کی تبدیلیاں

سیما آندھرا میں تلگو دیشم کا طاقتور موقف ، کانگریس کا موقف کمزور

سیما آندھرا میں تلگو دیشم کا طاقتور موقف ، کانگریس کا موقف کمزور
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست نیوز) انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کیلئے وفاداریوںکی تبدیلی ہر پارٹی میں عام بات ہے۔ انتخابات سے عین قبل جو پارٹی طاقتور موقف میں ہوتی ہے، قائدین اس میں شمولیت کیلئے اپنی وفاداری تبدیل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ مجوزہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے حصول اور کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے سیما آندھرا میں تلگو دیشم اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس میں بڑے پیمانہ پر دیگر پارٹیوں کے قائدین کی شمولیت دیکھی گئی ۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال کے آخری دن تک بھی تلنگانہ میں ٹکٹ کے خواہشمندوں کی مختلف جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری رہا۔ سیما آندھرا میں تمام اہم قائدین نے تلگو دیشم کا رخ کیا کیونکہ ریاست کی تقسیم کے بعد سیما آندھرا میں کانگریس کا موقف کمزور ہوچکا ہے۔ سابق وزراء ، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کی روزانہ شمولیت کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک مرحلہ پر تو تلگو دیشم پارٹی کیلئے ہاؤس فل کا بورڈ آویزاں کرنے کی نوبت آگئی

پھر بھی قائدین کی شمولیت جاری رہی۔ تلگو دیشم قیادت نے سیما آندھرا میں کسی بھی صورت میں سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے دیگر جماعتوں کے قائدین کو شامل کیا ۔ حالانکہ اس شمولیت سے پارٹی کے موجودہ قائدین ناراض تھے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ نئے قائدین کی آمد سے ان کے ٹکٹ کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح ٹی آر ایس نے کانگریس اور تلگو دیشم کے علاوہ سی پی آئی ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور سی پی ایم قائدین کی شمولیت کا سلسلہ کل رات تک بھی جاری رہا۔ الیکشن ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے متحدہ آندھرا کے حامی سی پی ایم کے قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت سے گریز نہیں کیا ۔ اگرچہ ٹی آر ایس نے نئے شامل ہونے والے بیشتر قائدین کو ٹکٹ کا اعلان کیا ہے، تاہم پارٹی قیادت کو اندرونی طور پر ناراض سرگرمیوں کا سامنا ہے۔ کمیونسٹ قائدین جو کہ نظریاتی طور پر کافی مضبوط ہوتے ہیں، ان کی جانب سے وفاداری کی تبدیلی عوام کیلئے حیرت کا باعث رہی۔ سی پی آئی کی موجودہ رکن اسمبلی چندراوتی کو ان کے حلقے سے ٹی آر ایس نے ٹکٹ کا اعلان کیا جبکہ لمحہ آخر میں شمولیت اختیار کرنے والے سی پی ایم کے قائد این نرسمہیا جو گزشتہ اسمبلی میں پارٹی کے فلور لیڈر بھی رہ چکے ہیں، انہیں نلگنڈہ کے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کا اعلان کیا گیا۔ تلگو دیشم اور کانگریس کے کئی قائدین ایسے ہیں جن کی لمحہ آخر میں شمولیت کے باوجود ٹی آر ایس نے ٹکٹ الاٹ کیا ہے۔ ٹکٹ کے حصول کیلئے وفاداری کی تبدیلی میں بعض قائدین نے ریکارڈ قائم کیا۔ میدک اسمبلی حلقہ کے تلگو دیشم رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ نے تین دن میں تین پارٹیاں تبدیل کی۔

ہنمنت راؤ حلقہ اسمبلی ملکاجگیری سے ٹکٹ کے خواہاں تھے لیکن چندرا بابو نائیڈو نے یہ نشست بی جے پی کو الاٹ کردی تھی۔ اس سے ناراض ہوکر ہنمنت راؤ نے پارٹی سے استعفیٰ دیدیا اور آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کا اعلان کیا۔ دوسرے ہی دن وہ نئی دہلی روانہ ہوئے اور ڈگ وجئے سنگھ کی موجودگی کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ انہیں امید تھی کہ کانگریس مکاجگیری ا سمبلی حلقہ کا ٹکٹ الاٹ کرے گی ۔ تاہم مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا کی سفارش پر کسی اور قائد کو ٹکٹ دیدیا گیا ۔ اس صورتحال سے مایوس ہوکر ہنمنت راؤ کل شام حیدرآباد واپس ہوئے تھے اور سیدھے چندر شیکھر راؤ کے فارم ہاؤز پہنچ کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ ان کی شمولیت تک ٹی آر ایس نے حلقہ اسمبلی ملکاجگیری سے سی ایچ کنکا ریڈی کی امیدواری کا اعلان کردیا تھا۔ ہنمنت راؤ نے امیدوار کی تبدیلی کیلئے کافی کوشش کی تاہم ٹی آر ایس نے انہیں ملکاجگیری اسمبلی کے بجائے ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ کی پیشکش کی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT