انتخابی حلقوں کی تبدیلی سے جئے پال ریڈی بن گئے ’’ مہاجر پرندہ ‘‘

سید ابراہیم کو ٹکٹ دینے کی اطلاع پر کانگریس اقلیتی قائدین ناراض

سید ابراہیم کو ٹکٹ دینے کی اطلاع پر کانگریس اقلیتی قائدین ناراض

محبوب نگر ۔ 31مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پارلیمانی حلقہ محبوب نگر کی نشست کیلئے مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی کے نام کا اعلان ہوتے ہی ضلع کے بعض کانگریس حلقوں میں مسرت کی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ بعض حلقوں میں مایوسی کی کیفیت دیکھی جارہی ہے ۔ محبوب نگر حلقہ پارلیمانی کے تحت 7اسمبلی حلقہ جات محبوب نگر ‘ دیور کنڈہ ‘ مکتھل ‘ نارائن پیٹ ‘ کوڑنگل ‘ شاد نگر اور جڑچرلہ شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جئے پال ریڈی جو گذشتہ 10برس سے محبوب نگر سے دور تھے اب پھر سے پارلیمانی حلقہ محبوب نگر اور اس کے اسمبلی حلقہ جات میں اپنا دبدبہ قائم کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو اسمبلی ٹکٹ دلانے کوشاں ہیں ۔ واضح رہے کہ 1999ء کے انتخابات میں انہوں نے یہاں سے شکست اٹھائی تھی جس کے بعد 2004ء میں مریال گوڑہ اور 2009ء میں چیوڑلہ سے منتخب ہوئے ۔ اب پھر سے محبوب نگر کا رُخ کرتے ہوئے اخبارات کی سرخیوں میں جگہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اس طرح انہیں دورحاضر کی سیاست کا ’’مہاجرپرندہ‘‘ قرار دیا جارہا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حلقہ پارلیمان محبوب نگر کے 7اسمبلی حلقوں میں سے کانگریس نے گدوال سے ڈی کے ارونا ‘ جڑچرلہ سے ملو روی کے ناموں کو قطعیت دیدی ہے جبکہ سابق ایم پی وٹھل راؤ کو حلقہ اسمبلی نارائن پیٹ ‘ سونا سدھا کر ریڈی کو دیورکدرہ ‘ چٹم رام موہن ریڈی کو مکتھل ‘گروناتھ ریڈی کو کوڑنگل ‘ شادنگر کے موجودہ ایم ایل اے پرتاپ ریڈی کو شادنگر ۔

جب حلقہ اسمبلی محبوب نگر کا ذکر آتا ہے تو یہاں پر سیاسی داؤ پیچ اور کشمکش جاری ہے ۔ کانگریس ذرائع کے مطابق تلنگانہ انتخابی کمیٹی نے حلقہ اسمبلی محبوب نگر کیلئے ایک اقلیتی امیدوار عبید اللہ کوتوال کا نام اے آئی سی سی کو روانہ کیا ہے ۔ تین روز قبل ٹی آر ایس سے مستعفی قائد نے ریاست کے کلیدی کانگریسی قائدین سے ملاقات کر کے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ بتایا جاتا ہیکہ ان کو حلقہ اسمبلی محبوب نگر کا ٹکٹ دلانے کیلئے چند ریاستی قائدین اور مرکزی سینئر وزیر کوشاں ہیں ۔ اس بات کو لیکر ضلع کانگریسی قائدین اور خصوصاً اقلیتی قائدین میںاضطرابی کیفیت دیکھی جارہی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ حالیہ اے آئی سی سی کے جبلپور اجلاس میں راہول گاندھی نے قرارداد منظور کی تھی کہ انتخابات سے عین قبل صرف ٹکٹوں کے حصول کیلئے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا ۔ کانگریس سے طویل عرصہ سے وابستہ رہتے ہوئے خدمات پیش کرنے والوں کو ہی ٹکٹ دیا جائے گا ۔

اس اثناء میں جیسے ہی سید ابراہیم کو کانگریس ٹکٹ ملنے کی اطلاعات عام ہوئیں ضلع کانگریسی قائدین کا ایک گروپ دہلی کو روانہ ہوگیا ہے جبکہ 2اپریل سے نامزدگیوں کے ادخال کا آغاز ہونے والا ہے ۔ انتخابی اسکریننگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس یکم اپریل کو دہلی میں منعقد ہونے کی اطلاع ہے ۔ گذشتہ کئی دفعہ سے دیکھا جارہا ہے کہ حلقہ اسمبلی محبوب نگر سے امیدوار بنانے کی بات چھڑتی ہے تو سیاسی رسہ کشی اور کشمکش کے دوران مسلم امیدواری کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں ۔ محبوب نگر کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ہیں جیسا کہ 15سال قبل بھی کانگریس کے سینئر قائد سید شہاب الدین قادری مرحوم کو بی فارم جاری کیا لیکن لمحہ آخر میں تبدیل کردیا گیا ۔ حلقہ اسمبلی محبوب نگر مسلم آبادی کی وجہ سے سیاسی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہوئے جہاں 40ہزار مسلم ووٹ ہیں جبکہ ضلع میں تقریباً 3لاکھ مسلم ووٹرس اپنا فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں اور ان تمام کی نظر میں حلقہ اسمبلی محبوب نگر پر جمی ہوئی ہیں ۔ عام تاثر یہ ہیکہ اگر کانگریس حلقہ اسمبلی محبوب نگر سے مسلم امیدوار کو موقع دے گی تو ضلع کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس کو فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ 2009ء کا تجزیہ سامنے ہے جہاں ایسے حالات میں غلط فیصلہ سے کانگریس کو ضلع میں نقصان اٹھانا پڑا اب جبکہ صرف دو دن باقی ہیں ۔دیکھنا ہے کہ سیاسی داؤ پیچ میں کون کامیاب ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT