Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / انتخابی سیمی فائنل کیلئے مکمل تیار ہوں : کے وینکٹ ریڈی

انتخابی سیمی فائنل کیلئے مکمل تیار ہوں : کے وینکٹ ریڈی

اسمبلی میں ٹی آر ایس حکومت اپوزیشن کانگریس کے مقابلہ سے خوف زدہ

حیدرآباد۔14 مارچ (سیاست نیوز) اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے والے کانگریس کے قائد کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ وہ (سیمی فائنل) ضمنی انتخابات کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ واضح رہے کہ کل وزیر اسمبلی امور ہریش راؤ نے کانگریس کے دو ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کی اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلی سے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ریاست میں 2 اسمبلی حلقے مخلوعہ ہونے کی الیکشن کمیشن کو اطلاع دی جائے گی اور انہیں یقین ہے کہ الیکشن کمیشن پڑوسی ریاست کرناٹک کے ساتھ تلنگانہ میں 2 اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات کی نوٹیفکیشن جاری کردے گا اور آئندہ ماہ اپریل میں سیمی فائنل انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں۔ 48 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال شروع کرنے والے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اسمبلی قاعدے قانون کے لحاظ سے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا اسپیکر اسمبلی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس وقت اسمبلی میں گورنر موجود تھے۔ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں اور ان کی اور سمپت کمار کی رکنیت منسوخ کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ضمنی انتخابات کا سامنا کرنے سے ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہے کیونکہ انہوں نے علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں اپنے چیف منسٹر سے بغاوت کرتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہوئے تھے۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہنے والی ٹی آر ایس حکومت اسمبلی میں اصل اپوزیشن کانگریس کا مقابلہ کرنے سے خوف زدہ ہے۔ ایک منظم سازش کے تحت مجھے (کومٹ ریڈی) کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت منسوخ کردی۔ ساتھ ہی کانگریس کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل کو اسمبلی کے بجٹ سیشن تک معطل کرنے کا غیرجمہوری فیصلہ کیا ہے۔ اگر ضمنی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو سمپت کمار کو 50 ہزار کی اکثریت سے کامیاب بنایا جائے گا۔ ان کے خلاف مقابلہ کرنے کیلئے ٹی آر ایس کے پاس امیدوار بھی نہیں ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج سے اندازہ ہوجائے گا کہ ٹی آر ایس سے عوام میں کتنے ناراض ہیں۔ جب بھی ریاست میں ضمنی ہو یا عام انتخابات منعقد ہوں گے، کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT