Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / انتخابی شکستوں کا اثر ‘ آئندہ ماہ کانگریس کا چنتن شیور متوقع

انتخابی شکستوں کا اثر ‘ آئندہ ماہ کانگریس کا چنتن شیور متوقع

راہول گاندھی کو صدارت سونپنے کے مطالبات کے دوران ہماچل پردیش یا اترکھنڈ میں انعقاد کی تیاریاں
نئی دہلی 30 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) چار ریاستوں میں انتخابی شکست کا سامنا کرنے کے بعد کانگریس امکان ہے کہ آئندہ ماہ چنتن شیور کا انعقاد عمل میں لائیگی ۔ یہ شیور پارٹی کے اقتدار والی ریاست ہماچل پردیش یا پھر اترکھنڈ میں منعد ہوسکتا ہے ۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد کانگریس کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا شیور ہوگا ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے 543 رکنی لوک سبھا میں صرف  44 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ ایک سینئر کانگریس لیڈر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس چنتن شیور کی تفصیلات کو قطعیت دی جا رہی ہے اور زیادہ امکان ہے کہ کسی پہاڑی ریاست میں اس کا انعقاد عمل میں لایا جائے ۔ کانگریس کے اقتدار والی ریاست کرناٹک میں بھی اس کے انعقاد پر غور ہوسکتا ہے ۔ کانگریس کا یہ چنتن شیور ایسے وقت منعقد ہونے جا رہا ہے جب پارٹی میں راہول گاندھی کو صدارتی عہدہ دئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پارٹی کی انتخابی شکست کے بعد کئی قائدین نے کہا تھا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا ایک اجلاس جلدی ہی منعقد ہوگا جس میں پارٹی کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا جائیگا ۔ 2003 میں سونیا گاندھی نے شملہ میں پہلی مرتبہ چنتن شیور منعقد کیا تھا جسمیںکانگریس نے پہلی مرتبہ یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ مرکز میں اقتدار میں حصہ داری کیلئے تیار ہے ۔

اس وقت کانگریس نے کہا تھا کہ سکیولر طاقتوں میں اتحاد ہونا چاہئے ۔ اس کے ٓئندہ سال کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے اتحاد نے مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرلیاتھا ۔ کانگریس کا ٓخری چنتن شیور 2013 جنوری میں جئے پور میں منعقد ہوا تھا جس میں راہول گاندھی کو پارٹی نائب صدر کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی اور انہیں 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے چہرہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ کانگریس کا چنتن شیور ایسے وقت میں منعقد ہو رہا جب اسے ایک طرف تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے حملوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب سکیولر جماعتیں اس کے ووٹ بینک کو نگلتی جا رہی ہیں۔ پارٹی کے ایک قائدین کا یہ احساس ہے کہ جس انداز سے نریندرمودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت پارٹی اور اس کی قیادت کو نشانہ بنا رہی ہے اس کے نتیجہ میں پارٹی کے وجود ہی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ کانگریس کو اب فوری طور پر کئی چیلنجس کا سامنا ہے ۔ آئندہ سال اتر پردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں میں انتخابات ہیں ۔ 2017 ہی میں گوا ‘ اترکھنڈ ‘ ہماچل پردیش ‘ منی پور اور گجرات میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ سونیا گاندھی نے 1998 میں پارٹی کی صدارت قبول کرنے کے فوری بعد مدھیہ پردیش میں پنچ مڑھی کے مقام پر پارٹی کا اولین چنتن شیور منعقد کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT