Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / انتخابی طریقہ کار کے دوہرے معیارات ملک کے لیے سنگین خطرہ

انتخابی طریقہ کار کے دوہرے معیارات ملک کے لیے سنگین خطرہ

’’ کامیابی کے اہل سیاستدان حکمرانی کے اہل نہیں ‘ حکمرانی کے اہل قائدین انتخابی کامیابی کے اہل نہیں ‘‘

’’ کامیابی کے اہل سیاستدان حکمرانی کے اہل نہیں ‘ حکمرانی کے اہل قائدین انتخابی کامیابی کے اہل نہیں ‘‘
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( آئی این این ) : لوک ستہ پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر جئے پرکاش نارائن نے ہندوستانی انتخابی نظام میں پائے جانے والے خطرناک دوغلے طریقہ کار کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 21 ویں صدی کی ترقی اور دیگر ثمرات سے محروم نہ ہونا ہے تو سب سے پہلے اس ’ دوشاذ ‘ اور ’ دو رنگے ‘ نظام کا سختی کے ساتھ خاتمہ کرنا ہوگا ۔ ڈاکٹر جئے پرکاش نارائن ممبئی میں ’ حکمرانی ، جمہوریت اصلاحات اور اقتصادی آزادی ‘ کے زیر عنوان انڈیا لیڈر شپ کانکلیو 2014 سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ طریقہ کار میں مقننہ کے لیے جو منتخب ہوا کرتے ہیں وہ حکمرانی کے اہل نہیں ہیں ۔ ’ جو انتخابی مقابلہ میں منتخب ہونے کے اہل ہیں وہ حکمرانی کے اہل نہیں ہیں اور جو انتخابی مقابلہ میں منتخب ہونے کے اہل نہیں ہیں وہ موثر حکمرانی کرنے کے اہل ہیں ‘ نٹ ورک 7 میڈیا گروپ کے ایک ڈیویژن ’ ہندوستانی امور ‘ اور انڈین افیرس بزنس لیڈر شپ ایوارڈس 2014 نے اس کانکلیو کا اہتمام کیا ہے ۔ ڈاکٹر جئے پرکاش نارائن کو سیاسی قیادت میں ان کی غیر معمولی خدمات پر ہندوستانی برائے سال 2014 منتخب کیا گیا ہے ۔ سرکردہ شخصیات پر مشتمل جیوری نے ڈاکٹر جے پی کے علاوہ انفوسیس کے بانی آر نارائنا مورتی اور دوسروں کو بھی منتخب کیا ہے ۔ ڈاکٹر جئے پرکاش نارائن نے اپنے مقالہ میں ہندوستانی انتخابی نظام کی خامیوں اور خوبیوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا ۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کے لیے سیاستدانوں کو مورد الزام ٹہرایا اور کہا کہ ان ( سیاستدانوں ) سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا ان مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔ ان کے بجائے ایک پر عزم فرد سیاستدانوں سے کہیں زیادہ کام کرسکتے ہیں ۔ اس طرح عدالتوں اور الیکشن کمیشن پر بھی ضرورت سے زیادہ انحصار مددگار ثابت نہیں ہوسکتا ۔ ڈاکٹر جئے پرکاش نارائن نے کہا کہ تمام مسائل کی جڑ دراصل حکمرانی میں ناکامی میں پنہاں ہے ۔ ماضی کی کئی حکومتیں توقعات پورا کرنے میں ناکام رہیں ۔ جس کے نتیجہ میں عوام میں برہمی پیدا ہوئی ۔ عوامی امنگوں اور امیدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجانے والے سیاستدانوں بالاخر ووٹروں کو خوش کرتے ہوئے اپنے دوبارہ انتخاب کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے شراب اور رقومات کی تقسیم کرتے ہیں اور قرض معاف کرنے کے وعدے کیا کرتے ہیں ۔ مزید برآں ایسے ناکام سیاستدان محض اپنی انتخابی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مذہب ، ذات پات ، زبان اور علاقہ واریت کے نام پر عوام کے مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں ۔ ہندوستان اگر 21 ویں صدی میں ترقی کے لیے حاصل ہونے والے بہترین موقعوں سے محروم ہونا نہیں چاہتا تو ہمیں چاہئے کہ سیاسی میدان میں پیدا شدہ اس قسم کی نچلی ترین سطح کی برائیوں کو ختم کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT