Monday , June 25 2018
Home / سیاسیات / انتخابی مہم میں بی جے پی کی تضاد بیانی بے نقاب

انتخابی مہم میں بی جے پی کی تضاد بیانی بے نقاب

نئی دہلی 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی (ایم) نے آج کہاکہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کی تضاد بیانی بے نقاب ہورہی ہے۔ نریندر مودی ترقی کی بات کرتے ہیں جبکہ اِس کے پیچھے ایک شدید فرقہ وارانہ مہم پوشیدہ ہے۔ یہ سمجھ لیا جانا چاہئے کہ نفرت انگیز تقریریں صرف چند افراد کا وقتی اشتعال ہیں۔ یہ سیاسی پلیٹ فارم کا لازمی حصہ ہیں جس پر بی جے

نئی دہلی 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی (ایم) نے آج کہاکہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کی تضاد بیانی بے نقاب ہورہی ہے۔ نریندر مودی ترقی کی بات کرتے ہیں جبکہ اِس کے پیچھے ایک شدید فرقہ وارانہ مہم پوشیدہ ہے۔ یہ سمجھ لیا جانا چاہئے کہ نفرت انگیز تقریریں صرف چند افراد کا وقتی اشتعال ہیں۔ یہ سیاسی پلیٹ فارم کا لازمی حصہ ہیں جس پر بی جے پی اور نریندر مودی عمل پیرا ہیں۔ عوام اور ملک پہلے ہی اِس کے بارے میں انتباہ دے چکا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے سینئر قائد سیتارام یچوری نے بی جے پی، وی ایچ پی اور آر ایس ایس قائدین جیسے امیت شاہ، گری راج سنگھ اور پروین توگاڑیہ کی تقریروں کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِن تقریروں کا نشانہ اقلیتیں تھے اور جو لوگ ہندوتوا کے ایجنڈہ کی مخالفت کررہے ہیں اُن کے خلاف انتخابی مہم چلائی جارہی تھی۔ آر ایس ایس کے پورے کارکن بی جے پی کی انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔ بیشتر معاملات میں فرقہ وارانہ انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ ایسی تقریریں کرتے ہیں بی جے پی اُن کا دفاع کرتی ہے۔ پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار بھی فرقہ پرستی کی تائید کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی کی انتخابی مہم کا معیار بے نقاب ہورہا ہے۔ اعلیٰ سطحی پر مودی کا غلبہ ہے جو ترقی کی بات کرتے ہیں، اچھی حکمرانی اور روزگار کے مواقع کا تیقن دیتے ہیں۔ اِس کے پس پردہ فرقہ پرست انتخابی مہم چلائی جاتی ہے خاص طور پر اترپردیش اور بہار مرکز توجہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پیپلز ڈیموکریسی کے آئندہ شمارہ کے اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ مودی ایسی انتخابی مہم کے پس پردہ ہیں۔ ہمہ جہتی ترقی اور مؤثر حکومت کے تیقن صرف فرقہ پرستی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ لیکن فرقہ پرستی کا پھندا اور انتشار پھیلانے والی نفرت کو پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا۔ بی جے پی کے امیدوار گری راج سنگھ کی تقریریں جس کے لئے اُنھیں انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا ہے، ہندوتوا کے تمام ناقدین کو قوم دشمن اور پاکستان حامی قرار دیتی ہیں۔ یہ ایک پرانی چال ہے جو سنگھ کی مختلف تنظیمیں اختیار کرتی ہیں۔ پاکستان کے نام پر پورے مسلم طبقہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اِسی طرح امیت شاہ توہین کا انتقام لینے کی باتیں کرتے ہیں اور پروین توگاڑیہ نفرت کا زہر اُگلتے ہیں۔ ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو جائیداد فروخت کرنے سے باز آنے کی تلقین کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT