انتخابی مہم میں پاگل، 420، چور، غدار اور دھوکہ باز جیسے الفاظ کا کثیر استعمال

وزیراعظم نریندر مودی، راہول گاندھی، سونیا گاندھی اور مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس کے روڈ شوز

حیدرآباد ۔ 5 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 7 ڈسمبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے قومی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے طوفانی انتخابی مہم چلائی گئی جس میں قومی طاقتور سیاستدانوں جیسے، وزیراعظم نریندر مودی اور صدر کانگریس راہول گاندھی نے ریاست بھر میں انتخابی ریالیاں نکالی، روڈ شوز کئے اور جلسہ عام سے خطاب کیا۔ بی جے پی صدر امیت شاہ، یو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی، مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس، مرکزی وزراء اور دیگر کئی قائدین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ رائے دہندوں کو رجھانے کیلئے روڈ شوز بھی کئے گئے۔ مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کرنے کیلئے راہول گاندھی اور چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو نے پہلی مرتبہ ایک ہی شہ نشین پر جمع ہوکر عوام سے خطاب کیا۔ کانگریس نے تلگودیشم، سی پی آئی اور تلنگانہ جنا سمیتی کے ساتھ مل کر پیپلز فرنٹ قائم کیا ہے جبکہ ٹی آر ایس اور بی جے پی تنہا مقابلہ کررہی ہے۔ سی پی آئی ایم زیرقیادت بہوجن لیفٹ فرنٹ بھی انتخابی میدان میں ہے۔ تلنگانہ انتخابات کیلئے چلائی گئی مہم میں مختلف قائدین نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا اور الزام تراشیاں کیں۔ اپنی تقاریر میں ان قائدین نے سب سے زیادہ جن الفاظ کا استعمال کیا ان میں پاگل، 420، چور، غدار، دھوکہ باز، دلال اور فریبی جیسے الفاظ شامل ہیں۔ گذشتہ چند دنوں سے انتخابی مہم میں زبردست گرماگرمی دیکھی گئی۔ سونیا گاندھی نے جلسہ عام سے خطاب کیا جبکہ وزیراعظم مودی نے تین انتخابی ریالیوں سے مخاطب ہوکر عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی۔ راہول گاندھی نے بھی اپنی ساری توانائی لگا کر انتخابی مہم چلائی۔ روڈ شوز بھی کئے۔ کارگذار چیف منسٹر تلنگانہ چندرشیکھر راؤ نے اپنے تقریباً 90 جلسوں میں حکومت کے کارناموں کو روشناس کیا اور دوسری میعاد کیلئے عوام سے ووٹ دینے کی درخواست کی۔ مودی نے اپنی تقاریر میں ٹی آر ایس اور کانگریس کی خاندانی حکمرانی کا تذکرہ کیا اور تلنگانہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دی جانے والی مجوزہ تحفظات پالیسی کو مخالف دستور قرار دیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT