Thursday , September 20 2018
Home / مضامین / انتخابی مہم کی نچلی سطح گجرات میں

انتخابی مہم کی نچلی سطح گجرات میں

 

غضنفر علی خان
انتخابی مہم میں جو اس وقت پورے عروج پر ہے اور جس میں کانگریس۔بی جے پی میں سخت ترین مقابلہ ہے۔ فریقین اصل مسائل سے ہٹ کر انہیں قصداً نظر انداز کر کے مذہب ، دھرم ذات پات کے موضوع بحث کی تکرار کر رہے ہیں۔ خاص طور پر بی جے پی کا طرز عمل حیرت انگیز طور پر نچلی سطح تک پہنچ گیا ہے ۔ بی جے پی نے وکاس یا ترقی کے موضوع پر مہم شروع کی تھی۔ چند روز ہی گزرے تھے کہ کانگریس کے لیڈر (جو شاید یہ سطور پڑھنے تک اپنی پارٹی کے صدر بن جائیں گے) مہم میں آگے بڑھنے لگے اور گجرات کی ترقی کے ماڈل کو بطور خاص نشانہ بنانا شروع کیا ، ان کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال بدلنے لگی۔ وزیراعظم کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی۔ پارٹی اور خود مودی جی کو اندازہ ہونے لگا کہ ان کی جنم بھومی گجرات میں انہیں سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے تو گھبراکر شخصی حملے شروع کردیئے ۔ راہول گاندھی بے شک گجرات میں مندروں کی یاترا کر رہے ہیں ۔ وہ بہت سارے منادر کے درشن کرتے رہے اسی سلسلہ میں تاریخی مندر کے بھی انہوں نے درشن کئے ۔ کانگریس پارٹی میڈیا انچارج نے ان کا (راہول گاندھی) کا نام غلطی سے عقیدتمندوں کے اس رجسٹر میں لکھا جو غیر ہندو کیلئے ہوتا ہے۔ بس پھر کیا تھا ایک طوفان کھڑا ہوگیا ۔ بی جے پی کے درجنوں مقامی اور غیر مقامی لیڈروں نے واویلا شروع کردیا کہ راہول گاندھی ’’ہندو نہیں ہیں‘‘ یہ بھی کہا گیا کہ وہ تو پارسی دادا (فیروز گاندھی ) کے پوتے ہیں۔ ان کی رگوں میں پار سی خون ہے۔ حالانکہ اس بات کی اصولاً قانون دستور اور ہمارے ملک میں نافذ انتخابی قوانین میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے یا اپنی پارٹی کیلئے انتخابی مہم چلانے کیلئے کسی فرد کا ہندو ہونا ضروری ہے ۔ سیکولر جمہوریت میں تو اس کو برا سمجھا جاتا ہے کہ کسی دھرم ، دین ، ذات پات کی بنیاد پر کوئی شخص انتخابات میں مہم چلائے ۔ کیونکہ راہول گاندھی کی سومناتھ مندر کے درشن سے بی جے پی کو یہ بدگمانی ہوئی تھی کہ راہول گاندھی گجرات کے ہندو رائے دہندوں کے دل جیت لیں گے ۔ یہ بھی سراسر غلط فہمی ہے ۔ راہول گاندھی کو سومناتھ کے مندر میںدرشن کرنے سے نہ تو مندر کے اصول روک سکتے ہیں اور نہ اس کو قانونی نقطہ نظر سے جرم قرار دیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی اور خود وزیراعظم نے جو گجرات چناؤ کے نتائج کے بارے میں ان گنت شکوک و شبہات کے شکار ہیں، یہ سوال کیا کہ کانگریس پارٹی اور راہول گاندھی عوام کو یہ بتائیں کہ آیا وہ ہندو ہیں یا نہیں ہے ؟ راہول گاندھی نے ٹوئیٹر پر لکھا اور کانگریسی لیڈروں نے بھی دعویٰ کیا کہ نہ صرف راہول بلکہ ان کے والد سابق وزیراعظم راجیو گاندھی سب ہی ہندو ہیں۔ اس مسئلہ کا گجرات کو درپیش مسائل سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ گجرات میں تو مسائل کا ڈھیر لگا ہے ، وہاں کا نوجوان روزگار کیلئے پریشان ہے۔ وہاں کا تاجر جی ایس ٹی لاگو کئے جانے سے بدحال ہوگیا ہے ۔ گجرات کا کسان ، صنعتی مزدور غرض ہر طبقہ کے لوگ یہ سوچ رہے ہیں اور صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ ’’اب کی بار کانگریس کی سرکار‘‘ یہ نعرہ اصل 2014 ء کے انتخابات میں بی جے پی کے نعرہ کا جواب ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’’اب کی بار مودی سرکار‘‘ گجرات میں اس وقت مخالف حکومت لہر چل رہی ہے۔ وہاں کے ہندو ، پٹیل طبقہ ، ہریجن اور سماج کے دیگر طبقات کو کئی شکایتیں ہیں جن کا بی جے پی کے پاس فی الحال کوئی جواب نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی اگر واقعی ہندو ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مندروں کا دورہ کر رہے ہیں تو اس میں برہمی کی کوئی وجہ نہیں جس کا اظہار وزیراعظم اور ان کی پارٹی کر رہی ہے ۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ، گاؤ رکھشک کی زیادتیاں ، دینی مدارس کے اساتذہ پر حملہ کیا بی جے پی کی جانب سے گجرات کے ہندو رائے دہندوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی مجرمانہ کوشش نہیں ہے ۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی سیاسی پارٹی ملک کی 80 فیصد ہندو آبادی کے ووٹ کا بڑا حصہ لئے ، بغیر الیکشن جیت نہیں سکتی ۔ کانگریس کو مخالف ہندو پارٹی ثابت کرنے کیلئے وزیراعظم نے تو حد کردی جب انہوں نے کہا کہ ملک کے پہلے کانگریسی وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے تو سومناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر و مرمت کی مخالفت کی تھی ۔ مودی نے انتخابی موضؤعات کو خیر باد کہتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’کانگریسی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے گجرات کے دیہی علاقوں کا دورہ کرتے وقت وہاں کی بدبو اور گندگی کی وجہ اپنی ناک پر رومال رکھ لیا تھا ۔ کانگریس کی مخالفت میں یہ دعویٰ بھی وزیراعظم نے چیخ چیخ کر کہا کہ نہرو ، گاندھی خاندان اور کانگریس پار ٹی کو گجرات سے الرجی ہے ۔ اس پارٹی اور اس کے لیڈروں نے گجرات کو ہمیشہ نظر سے گراکر دیکھا ۔ یہ بالکل لغو اور مہمل الزام ہے ۔ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ صرف جاریہ انتخابات میں اپنے کو بظاہر کمزور ہوتے ہوئے موقف سے بدحواس ہوکر نریندر مودی اور ان کی پارٹی اس قسم کے الزامات عائد کرتے ہوئے گجرات کی انتخابی مہم کو انتخابی نچلی سطح پر لا چکے ہیں۔ انتخابی مسائل سے دانستہ طور پر بی جے پی اور وزیراعظم کا وار مسائل کا ذکر سے گریز، ملک میں ہوئے کئی انتخابات میں نہ کبھی دیکھا گیا اور نہ سنا گیا ۔ اس نچلی سطح تک انتخابی مہم کو پہنچانے میں کانگریس کا بھی رول ہے۔ جب راہول گاندھی سے بی جے پی نے وضاحت طلب کی کہ وہ واضح کریں کہ وہ ہندو ہیں یا نہیں ہیں تو کانگریس کے بھاری بھرکم لیڈر اور سابقہ مرکزی وزیر مشہور وکیل کپل سبل نے وزیراعظم پر راست وار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سے کیا پوچھتے ہو پہلے بی جے پی اور مودی جی یہ بتائیں ‘‘ کیا وہ ہندو ہیں؟ کپل سبل نے کہا کہ مودی جی ہندو نہیں ہیں ، وہ تو ہندوتوا کے ماننے والے ہیں۔ وہ روزانہ مندر نہیں جاتے ۔ کپل سبل نے راہول گاندھی پر بی جے پی کی انگلی اٹھنے کے بعد مذکورہ وار کیا ۔ گجرات انتخابی مہم کا نتیجہ چاہے کسی کے حق میں نکلے ، کون جیتے ، کون ہارے لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ انتخابی مہم میں ’’کون اصلی ہندو اور کون نقلی ہندو ‘‘ کی بحث کو اتنا طول دیا گیا اور بی جے پی نے ہندو ووٹوں کو ہموار کرنے کے پہلے اصلی ہندو اور نقلی ہندو کی امتیازی ناپسندیدہ اور بے تعلق بحث شروع کی ۔ کسی اور نے نہیں بلکہ وزیراعظم نے بھی اس ناپسندیدہ بات کا تذکرہ بار بار کیا ۔ ان کی یہ کوشش تھی اور رہے گی کہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ یکطرفہ طور پر بی جے پی کو ملے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ نہ تو سیکولر ہندو ان کی پارٹی کو ووٹ دے گا اور نہ اس ملک کے اقلیتیں ان پر کبھی اعتماد کر کے انہیں ووٹ دیں گے ۔ گجرات ہی کی بات ہے کہ وہاں کی عیسائی اقلیت کے مذہبی پیشوا آرج بشب نے ایک اپیل جاری کی تھی اور اس میں اپیل کی تھی کہ اس وقت ملک میں تمام اقلیتیں عدم تحفظ کے احساس کی شکار ہیں، اس لئے انتخابات میں اقلیتوں کو ’’قوم پرست‘‘ طاقتوںکو ووٹ نہیں دینا چاہئے ۔ آرج بشب نے اپنے ایک مکتوب میں یہ بات نہیں کہی تھی ، صرف ’’قوم پرست ‘‘ طاقتوں کو ووٹ نہ دینے کا مشورہ دیا تھا ۔ بی جے پی کے خیال میں وہ اور آر ایس ایس سے زیادہ کوئی قوم پرست طاقت ملک میں موجود نہیں ہے ۔ یہ دونوں اور سنگھ پریوار میں شامل دوسری جماعتیں قوم پرستی کی ’’ٹھیکہ دار‘‘ بنی ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT