Tuesday , November 13 2018
Home / شہر کی خبریں / انتخابی مہم کے آغاز پر کے سی آر الجھن کا شکار

انتخابی مہم کے آغاز پر کے سی آر الجھن کا شکار

اچھے دن اور اچھے مقام کی تلاش، پنڈتوں سے مشورہ، ہیلی کاپٹر کے علاوہ روڈ شو کریں گے
حیدرآباد ۔ یکم نومبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے اسمبلی انتخابات کیلئے 107 امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے لیکن پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ انتخابی مہم کے آغاز کے سلسلہ میں الجھن کا شکار ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے دو مرتبہ انتخابی مہم کے شیڈول کو قطعیت دی لیکن لمحہ آخر میں اسے ملتوی کردیا گیا ۔ کے سی آر یہ طئے کرنے سے قاصر ہیں کہ انتخابی مہم کا آغاز کس طرح اور کہاں سے کیا جائے ۔ وہ ابتداء میں صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعہ انتخابی مہم چلانے کے خواہاں تھے لیکن بعد میں انہوں نے ہیلی کاپٹر کے علاوہ خصوصی بس کے ذریعہ روڈ شو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سیاسی مشیروں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعہ انتخابی مہم کافی نہیں ہوگی۔ کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لئے کے سی آر کو زیادہ محنت کرنی پڑے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ کے سی آر نے خصوصی بس کے ذریعہ روڈ شو کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انتخابی مہم کے شیڈول کی تیاری کا کام جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اندرون ایک ہفتہ چیف منسٹر کے پروگرام کو قطعیت دے دی جائے گی ۔ چیف منسٹر جو توہم پرستی سے متاثر ہیں ، لہذا وہ انتخابی مہم کے آغاز کیلئے اچھے دن اور اچھے مقام کی تلاش میں ہیں۔ ابتداء میں جو شیڈول تیار کیا گیا تھا ، ان کے بارے میں پنڈتوں نے منحوس دن ہونے کا اشارہ دیا جس کے باعث پروگرام کو ملتوی کردیا گیا۔ چیف منسٹر ایسے مقام سے اپنی مہم کا آغاز کریں گے جو پارٹی کی کامیابی اور دوبارہ اقتدار میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں 3 تا 5 اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم قطعی فیصلہ پنڈتوں کے مشورہ پر کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق کے سی آر کی مہم میں 100 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ ہر ضلع میں ایک مرکزی جلسہ عام کے علاوہ ٹی آر ایس کے مضبوط گڑھ مانے جانے والے علاقوں میں روڈ شو کا اہتمام رہے گا۔ ٹی آر ایس کے لئے کے سی آر اسٹار کیمپینر ہیں۔ ان کے علاوہ کے ٹی آر ، کویتا اور ہریش راؤ کو انتخابی مہم کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وہ ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ کے سی آر کو شائد پہلی مرتبہ سیاسی حریفوں سے مقابلہ کے سلسلہ میں الجھن کا سامنا ہے۔ اپنے انتخابی حلقہ گجویل میں مہا کوٹمی کے متحدہ امیدوار سے مقابلہ کے خوف نے انہیں کسی اور حلقہ سے مقابلہ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاسی مشیروں نے کے سی آر کو گجویل کے علاوہ میڑچل اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کی صلاح دی ہے۔ تاکہ گجویل سے شکست کی صورت میں میڑچل سے کامیابی یقینی رہے۔ ابتداء میں سدی پیٹ اسمبلی حلقہ سے کے سی آر کے مقابلہ کی اطلاعات گشت کر رہی تھی۔ تاہم اب کہا یہ جارہا ہے کہ کے سی آر گجویل کی نشست برقرار رکھتے ہوئے میڑچل سے بھی مقابلہ کریں گے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری کو دیکھتے ہوئے پارٹی قائدین کو پرگتی بھون آنے سے روک دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر اپنی سرکاری قیامگاہ پر سیاسی سرگرمیوں سے گریز کرتے ہوئے فارم ہاؤز میں سیاسی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فارم ہاؤز میں بھی صرف ان قائدین کو آنے کی اجازت ہے جن سے ملاقات کے لئے کے سی آر نے آمادگی ظاہر کی ہو۔ وزراء اور سابق ارکان اسمبلی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں رہیں اور ساری توجہ انتخابی مہم پر مرکوز کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT