Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / انتخابی نتائج مایوس کن،طبقات مسئلہ پر دوبارہ غور کی ضرورت

انتخابی نتائج مایوس کن،طبقات مسئلہ پر دوبارہ غور کی ضرورت

لنگایت کو اقلیتی موقف کی تائید کا کانگریس پر منفی اثر : موئیلی

نئی دہلی ۔ 15 مئی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے سینئر لیڈر ایم ویرپا موئیلی نے کرناٹک اسمبلی کے انتخابی نتائج میں بی جے پی کی کامیابی کو انتہائی مایوس کن قرار دیا اور اپنی پارٹی کی ناکامی کو ذات پات کے مسئلہ کو غلط انداز سے نمٹنے کی وجہ بتایا ۔ موئیلی نے کہاکہ انتخابات سے قبل لنگایت طبقہ کا مسئلہ نہیں اُٹھایا جانا چاہئے تھا ۔ انھوں نے اس تاثر کا اظہار بھی کیا کہ ان کی پارٹی اپنی انتخابی حکمت عملی میں ذات پات کے پہلوؤں کو صحیح انداز میں نہیں نمٹ سکی ۔ تاہم موئیلی نے کانگریس کے صدر کی مدافعت کرتے ہوئے اُن کی بھرپور ستائش کی اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی طرف سے چلائی گئی منفی مہم کے برخلاف انھوں ( راہول گاندھی) نے اپنی مثبت مہم جاری رکھی ۔ موئیلی نے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ نتائج انتہائی مایوس کن ہیں ۔ اگر ترقی یا سماجی مساوات کی بنیاد پر انتخابات لڑے جاتے تو کانگریس کامیاب ہوسکتی تھی میں سمجھتا ہوں کہ ذات پات کے مسئلہ سے نمٹنے کے معاملہ میں کہیں کچھ غلطی ہوئی ہے جس نے اہم رول ادا کیا ‘‘۔ موئیلی نے کہاکہ بی جے پی کی منفی مہم نے انتخابی جیت حاصل کی ہے ۔ ’’انھوں ( مودی ۔ شاہ ) نے کبھی بھی ترقی کے مسائل کو نہیں اُٹھایا لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ طبقات کے معاملہ میں ہم بھی حکومت عملی اختیار نہیں کرسکے ‘‘۔ موئیلی نے کہاکہ کانگریس کی جانب سے لنگایت کو اقلیتی موقف دینے کا مسئلہ اُٹھائے جانے پر اس پارٹی ( کانگریس ) کے ارکان مختلف سطحوں پر تشویش کااظہار کرچکے تھے ۔ موئیلی نے کہاکہ ’’ممکن ہے کہ یہ بھی ایک ایسا عنصر ہے جو ہمارے لئے فائدہ کے بجائے نقصان پہونچایا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ وکالیگا ( دیوے گوڑا کے طبقہ ) کے محاذ پر بھی کہیں نہ کہیں صحیح انداز میں نہیں نمٹ سکے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT