Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / انتخابی نتائج میں شکست تسلیم کرنے سے انکار بھی کرسکتا ہوں : ٹرمپ

انتخابی نتائج میں شکست تسلیم کرنے سے انکار بھی کرسکتا ہوں : ٹرمپ

LAS VEGAS, OCT 20:- Republican U.S. presidential nominee Donald Trump and Democratic U.S. presidential nominee Hillary Clinton finish their third and final 2016 presidential campaign debate at UNLV in Las Vegas, Nevada, U.S., October 19, 2016. REUTERS-6R

آخری مباحثہ میں ہلاری کو پھر سبقت، ماہرین کو رائے دہی کے روز تشدد پھوٹ پڑنے کا اندیشہ

لاس ویگاس ۔ 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک ایسی بات کہی جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کے دوران چونکہ انہیں دھاندلی کا اندیشہ ہے لہٰذا یہ بات بھی ممکن ہیکہ وہ انتخابی نتائج کے بعد اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیں۔ ان کے اس بیان نے ملک میں سیاسی منظرنامہ کو مزید گرما دیا ہے کیونکہ اس طرح امریکہ میں جمہوری طور پر اور پرامن طریقہ سے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ 70 سالہ متنازعہ قائد نے کہا کہ وہ 8 نومبر تک انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے عمل کو صیغۂ راز میں رکھیں گے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ڈیموکریٹک صدارتی  امیدوار ہلاری کلنٹن نے بھی زبردست تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ آخری صدارتی مباحثہ میں بھی ہلاری کو ٹرمپ پر سبقت حاصل رہی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جس وقت جیسے حالات ہوں گے وہ ان حالات کے مطابق کام کریں گے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ اپنی  انتخابی شکست کو خندہ پیشانی سے قبول کریں گے جس کا انہوں نے مندرجہ بالا جواب دیا۔ آخری مباحثہ تقریباً دیڑھ گھنٹے تک جاری رہا جہاں ٹرمپ نے کہا کہ وہ 8 نومبر کو لمحۂ آخر تک تجسس برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ رائے دہی کے روز دھاندلی ہونے کے پورے پورے امکانات موجود ہیں۔ ٹرمپ نے میڈیا کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ تمام میڈیا والے غیردیانتدار اور بدعنوان ہیں۔

تاہم ووٹرس تو حقیقت جانتے ہیں۔ اخبارات میں ان کے (ٹرمپ) خلاف مضامین پر مضامین شائع ہورہے ہیں لیکن عوام حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ ٹرمپ نے لاس ویگاس میں جو بھی کہا ہے وہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ دوسری طرف ہلاری کلنٹن نے ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہوئے ہا کہ اگر وہ صدر کے جلیل القدر عہدہ کیلئے منتخب ہوگئے تو وہ صدر روس ولادیمیر پوٹن کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہوں گے۔ وکی لیکس کی خبروں پر اگر اعتبار کیا جائے تو یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے اور قابل توجہ ہے کہ روسی حکومت امریکیوں کے خلاف جاسوسی میں ملوث ہے۔ امریکی ویب سائیٹس کو ہیک کیا گیا۔ پرائیویٹ افراد کے اکاونٹس میں خلل پیدا کیا گیا اور کئی اداروں کو تک نہیں بخشا گیا اور اس کے بعد یہ تمام اطلاعات وکی لیکس کو دی گئی تاکہ وہ اسے انٹرنیٹ پر پوسٹ کرسکے۔ یہ تمام کام روسی حکومت کے اعلیٰ سطحی شعبوں سے انجام دیئے گئے اور ان کی توثیق ہماری سترہ انٹلیجنس ایجنسیوں نے کی ہے تاکہ امریکی انتخابات پر اثرانداز ہوا  جاسکے جبکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہیکہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی کسی مخصوص پولنگ بوتھ پر پہنچ کر ووٹرس کیلئے چیلنج بن گئے تو رائے دہی کے روز تشدد پھوٹ پڑنے کے  اندیشے بھی موجود ہیں۔ ان سیاسی تجزیہ نگاروں اور ماہرین میں  سے ایک ڈیوڈ برڈسیل نے یہ بات کہی جو آسٹن مارکس اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرس کے ڈین ہیں۔

TOPPOPULARRECENT